Wednesday, June 03, 2026
 

ہزاروں برس قدیم ممی سے ملنے والے خمیر سے روٹی تیار

 



سائنس دانوں نے 5300 برس قدیم ایک ممی سے حاصل کیے گئے خمیر کو استعمال کرتے ہوئے کامیابی کے ساتھ ساور ڈو روٹی (جو خمیری آٹے سے بنائی جاتی ہے) تیار کرلی۔ یہ نایاب فنگس Ötzi the Iceman کے جسم سے دریافت ہوئی، جو یورپ کی اب تک دریافت ہونے والی سب سے قدیم انسانی ممی سمجھی جاتی ہے۔ تحقیق کے دوران سائنس دانوں کو منجمد لاش کے اندر جمع بھورے رنگ کے پگھلے ہوئے پانی میں خمیر کی چار مختلف اقسام ملیں۔ ڈی این اے تجزیے سے معلوم ہوا کہ اس خمیر کو بھی اتنا ہی قدیم نقصان پہنچا تھا جتنا ممی میں موجود دیگر جرثوموں کو، جس سے اندازہ لگایا گیا کہ یہ فنگس اس شخص کی موت کے فوراً بعد اس کے جسم میں داخل ہوئی ہوگی۔ یوریک ریسرچ انسٹیٹیوٹ سے تعلق رکھنے والے محمد سارہن کا کہنا تھا کہ جب آپ کسی کو بتاتے ہیں کہ آپ کے پاس خمیر موجود ہے تو اس کا پہلا سوال یہی ہوتا ہے کہ کیا اس سے روٹی بنائی جا سکتی ہے۔ ابتدائی کوششوں میں سائنس دان اس قدیم خمیر کو دوبارہ استعمال کے قابل کرنے میں ناکام رہے لیکن تین ماہ کی مسلسل محنت کے بعد وہ اسے قابلِ استعمال بنانے میں کامیاب ہو گئے اور اس کی مدد سے ایک ’انتہائی عمدہ‘ ساور ڈو روٹی تیار کرلی۔ اب محققین اس 5300 برس قدیم خمیر کی مزید صلاحیتوں کا جائزہ لے رہے ہیں

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل