Monday, June 08, 2026
 

گج ڈیم کا ابتدائی بجٹ 26 ارب تھا، کنٹریکٹر 36 ارب اضافی لے چکا، واپڈا کے وکیل کا انکشاف

 



واپڈا کے وکیل نے عدالت میں  دلائل دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ گج ڈیم کا ابتدائی بجٹ 26 ارب روپے تھا، جبکہ کنٹریکٹر 36 ارب اضافی لے چکا ہے۔ وفاقی آئینی عدالت میں نئی گج ڈیم تعمیراتی منصوبے میں تاخیر سے متعلق کیس کی سماعت چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے کی، جہاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت 11 جون تک ملتوی کرتے ہوئے ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان کو آئندہ سماعت پر دلائل دینے کی ہدایت کی۔ سماعت کے دوران وکیل واپڈا اور کنٹریکٹر نے اپنے اپنے دلائل مکمل کیے۔ وکیل واپڈا نے عدالت کو بتایا کہ گج ڈیم کا ابتدائی بجٹ 26 ارب روپے مقرر کیا گیا تھا، تاہم کنٹریکٹر 26 ارب روپے کے علاوہ مزید 36 ارب روپے وصول کر چکا ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ اضافی ادائیگیوں کے باوجود منصوبے کا 50 فیصد کام بھی مکمل نہیں ہو سکا۔ وکیل واپڈا نے مزید کہا کہ سندھ ہائی کورٹ نے بھی کنٹریکٹر کو منصوبے کی تکمیل کے لیے ایک ٹائم فریم دیا تھا، لیکن اس کے باوجود منصوبہ مکمل نہیں کیا گیا۔ دوسری جانب کنٹریکٹر کے وکیل مسعود خان نے مؤقف اختیار کیا کہ 2019 میں سپریم کورٹ کو آگاہ کیا گیا تھا کہ منصوبے کا 50 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں بھی تحریر کیا تھا کہ منصوبے میں تاخیر کی بنیادی وجہ فنڈز کی عدم فراہمی ہے۔ وکیل کنٹریکٹر کے مطابق وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے مطلوبہ فنڈز فراہم نہیں کیے گئے، جس کے باعث منصوبے کی رفتار متاثر ہوئی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ 2024 سے کنٹریکٹر نے فنڈز کی عدم فراہمی کے سبب منصوبے پر کام روک رکھا ہے۔ عدالت کو بتایا گیا کہ گج ڈیم منصوبہ 2011 میں 26 ارب روپے کی لاگت سے شروع کیا گیا تھا۔ دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے کیس کی مزید سماعت 11 جون تک ملتوی کر دی۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل