Loading
ایرانی فوج کے مرکزی کمانڈ ہیڈکوارٹر خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈکوارٹر نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل کے خلاف جاری فوجی کارروائیاں فی الحال روک دی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ جنوبی لبنان اور بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے الضاحیہ پر اسرائیلی حملوں اور مبینہ جارحیت کے جواب میں عسکری کارروائیاں کی تھیں۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ان حملوں کا مقصد لبنان کے عوام کی حمایت اور اسرائیل کو اس کی جارحیت کا جواب دینا تھا اور یہ جواب ’دردناک اور مؤثر تھا جس سے اسرائیل اور اس کے حامیوں کو سبق سیکھنا چاہیے۔
تاہم خاتم الانبیا ہیڈکوارٹر کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے خبردار کیا کہ اگر مستقبل میں اسرائیل نے اشتعال انگیزی یا حملوں کا سلسلہ جاری رکھا تو اسے بغیر لگے لپٹے منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔
خیال رہے کہ ایران کی جانب سے اسرائیل پر حملے روکنے کا اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انھوں نے ایران اور اسرائیل کو فوری طور پر ایک دوسرے پر حملے روک دینے کا مطالبہ کیا تھا۔
گزشتہ روز پاسداران انقلاب نے شمالی اسرائیل میں واقع اہم فضائی اڈوں پر نیوتم ایئر بیس اور تل نوف ایئر بیس پر بیلسٹک میزائل سے حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی۔
ایران کا مؤقف رہا ہے کہ 8 اپریل کو ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان طے پانے والی جنگ بندی تمام محاذوں پر کشیدگی کے خاتمے سے مشروط تھی لیکن اسرائیل نے لبنان میں فوجی کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل