Monday, June 08, 2026
 

ٹرمپ کے آگے سر نگوں: اسرائیل نے بھی ایران پر حملے روکنے کا اعلان کردیا

 



صدر ٹرمپ کے جنگ بندی کے مطالبے پر اسرائیل نے فوری طور پر ایران پر حملے بند کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیل نے ایران کے خلاف جاری فضائی اور فوجی حملے فوری طور پر روکنے کا فیصلہ کیا ہے تاہم جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے خلاف عسکری کارروائیاں بدستور جاری رہیں گی۔ اسرائیلی میڈیا کو ایک سینئر اسرائیلی عہدیدار نے بتایا کہ امریکا نے ایران کو پیغام دیا ہے کہ اگر وہ میزائل حملے بند کردے تو اسرائیل بھی ایران پر مزید حملے نہیں کرے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کی اس یقین دہانے کے بعد اسرائیل نے بھی فی الحال ایران کے خلاف اپنی عسکری کارروائیاں معطل کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ ایک اور اسرائیلی عہدیدار نے عبرانی میڈیا کو بتایا کہ یہ فیصلہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی درخواست پر کیا گیا تاہم اس نے واضح کیا کہ لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اسرائیلی فوجی مہم جاری رہے گی اور اس میں کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی۔ عہدیدار کے مطابق موجودہ صورتحال سے یہ تاثر مل رہا ہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ فوجی کشیدگی کا مرحلہ اختتام کے قریب ہے تاہم حتمی فیصلہ اسرائیلی سیاسی قیادت کی منظوری سے مشروط ہوگا۔ اسرائیلی ذرائع کے مطابق وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان پیر کے روز ٹیلیفونک رابطہ بھی ہوا۔ یہ رابطہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب ایران نے عندیہ دیا تھا کہ اگر اسرائیل لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اپنی کارروائیاں روک دے تو ایران بھی اسرائیل پر حملے بند کر سکتا ہے۔ ادھر وزیراعظم آفس اسرائیل نے ایران اور حزب اللہ کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے آغاز کے بعد سے میڈیا کی جانب سے بار بار رابطوں کے باوجود اس معاملے پر کوئی باضابطہ تبصرہ نہیں کیا۔ قبل ازیں ایرانی فوج کے مرکزی کمانڈ ہیڈکوارٹر خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈکوارٹر نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل کے خلاف جاری فوجی کارروائیاں فی الحال روک دی گئی ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اسرائیل پر ان حملوں کا مقصد لبنان کے عوام کی حمایت اور اسرائیل کو اس کی جارحیت کا جواب دینا تھا اور یہ جواب ’دردناک اور مؤثر تھا۔ واضح رہے کہ ایران نے اسرائیل پر حملے روکنے کا اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد کیا جس میں انھوں نے ایران اور اسرائیل کو فوری طور پر ایک دوسرے پر حملے روکنے کا مطالبہ کیا تھا۔    

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل