Loading
بجٹ کے موقع پر آمدنی سے زیادہ خرچ دکھایا جاتا ہے اور اسے کہتے ہیں ’’بجٹ خسارہ‘‘۔ گھر میں کہتے ہیں ’’مہینہ پورا نہیں ہوتا‘‘ خاتون خانہ فوراً فضول اخراجات پر کٹ لگا دیتی ہیں، بچوں کے جیب خرچ میں کمی، مہنگی درآمدی اشیا خریدنے سے منہ موڑ لیتے ہیں، گھر کی کوئی پرانی ناکارہ شے بیچ کر کچھ رقم مل جاتی ہے جس سے کوشش ہوتی ہے کہ کسی طرح مہینہ پورا ہوجائے۔ پورے مہینے کا بجٹ اسی طرح پورے سال کا بجٹ تو سمجھدار خاتون خانہ بنا ہی لیتی ہے لیکن شاید حکومتوں کے معاملات کچھ اور ہی ہوتے ہیں، بجٹ خسارہ پورا کرنے کے لیے بھاری شرح سود پر قرض لیا جاتا ہے۔
سود ادا کرنے کے لیے نہ اشرافیہ سے قربانی مانگی جاتی ہے نہ ہی قیمتی لگژری گاڑیوں کی درآمد میں کمی کی جاتی ہے، نہ ہی درآمدات کا بدل ملک میں تیار کیا جاتا ہے، فہرست طویل ہے۔ قصہ مختصر فوراً مہنگا قرض لیا، اب سود دینے کے لیے سب سے آسان ہدف ترقیاتی بجٹ کی کٹوتی ہوتی ہے اور جب ترقیاتی بجٹ میں رقم کم پڑ جائے تو سڑک آدھی رہ جاتی ہے، ڈیم ادھورے رہ جاتے ہیں، جس کے نہری پانی کے انتظار میں کھڑی فصلیں ’’العطش العطش‘‘ پکارتی رہتی ہیں۔ بجلی گیس مہنگی ہوتی چلی جاتی ہے، اس طرح عالمی سرمایہ کار جب ٹکٹ کٹواتا ہے اسلام آباد کا، لیکن راستے میں کہیں اور اتر جاتا ہے۔
اب پاکستان کے عوام کے ساتھ ہو کیا رہا ہے؟ کچھ نہیں۔ بس قرض کا ایک چکر ہے، جسے کاٹتے کاٹتے 80 برس گزرنے کو ہیں۔ سب اسی دائرے میں گھوم رہے ہیں۔ جتنے منصوبے شروع کیے جاتے ہیں، رقم کی کمی کے باعث اپنے ہدف کے مطابق مکمل نہیں ہوتے۔ ڈیمز کا منصوبہ ہو یا کراچی کے لیے پینے کا پانی فراہم کرنے کا منصوبہ ہو یا دیگر منصوبوں کے لیے ہمیشہ رقوم کم پڑ جاتی ہیں۔ اس مرتبہ PSDP کے لیے رقم کا تخمینہ 1326 ارب روپے کا رکھا گیا ہے اور شاید پھر اس سال بہت سے منصوبے خصوصاً کراچی کے لیے پانی کی فراہمی، ڈیمز اور دیگر اہم ترین منصوبے تیزرفتاری سے مکمل نہ ہو سکیں گے۔ جب منصوبے مقررہ مدت تک مکمل نہ ہو پائیں تو ایسی صورت میں منصوبے کی لاگت بڑھ جاتی ہے اور پھر لاگت کے ساتھ مدت تکمیل بھی بڑھتی چلی جاتی ہے۔ عوام کے لیے مسائل علیحدہ سے کھڑے ہوتے چلے جاتے ہیں۔
حکومت نئے نئے منصوبے بنا کر عوام کے سامنے منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھتی ہے اور آئی ایم ایف کو سود کی ادائیگی کے لیے ان رقوم میں کٹوتی کرتے رہتے ہیں۔ بہت سے ملک قرض لیتے ہیں لیکن منصوبوں پر کٹوتی نہیں کی جاتی۔ مصر نے 2022 میں آئی ایم ایف سے معاہدہ کیا لیکن دیہی ترقی کے منصوبے نہیں روکے۔ بھارت اپنے ترقیاتی بجٹ میں ہر سال اضافہ کرتا رہتا ہے، سری لنکا نے ڈیفالٹ کے بعد بھی سیاحت اور پورٹ کے منصوبوں کو جاری رکھا کیونکہ اسے معلوم تھا کہ وہ سیاحت کے ذریعے ہی کمائے گا۔ اسی لیے مشکل ترین معاشی حالات کے باوجود اس نے اپنے شعبہ سیاحت کو وہیل چیئر پر بٹھا دیا تاکہ وہ چلے اور پیسے کمائے اور ہم اپنی بیمار معیشت کا آپریشن کراتے ہیں اور فیس کی ادائیگی کے لیے اسی کا وہیل چیئر بیچ کر ڈاکٹر کی فیس ادا کرتے ہیں۔
پاکستان کے اخراجات بہت زیادہ ہیں، بہت سے ادارے ایسے ہیں جہاں کے اخراجات شاہانہ ہیں، بے شمار گاڑیاں اب بھی زیراستعمال ہیں، بڑے قافلے کی صورت میں اہم شخصیات سفر کرتے ہیں۔ حکام کے بڑے زبردست ’’پروٹوکول‘‘ ہیں۔ بجلی مفت، پانی کے کنکشن مفت، پٹرول مفت، بچوں کی اسکول فیس کے لیے خرچ، ممبران اسمبلی کو بھی کس طرح نوازا جاتا ہے، ان تمام اخراجات کو پورا کرنے کے لیے عوام کے ترقیاتی منصوبوں پر کٹ لگا دیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بہت سے ایسے شعبے اور علاقے ہیں، جنھیں ٹیکس سے استثنیٰ حاصل ہے۔ اس کے علاوہ کئی علاقوں کو اور اس کے رہائشیوں کو اربوں روپے کی سبسڈی دی جا رہی ہے۔ اس سبسڈی کا سارا بوجھ پاکستان کے ٹیکس پیئر برداشت کرتے ہیں۔ کسی علاقے کے رہائشیوں کو بجلی مفت دی جا رہی ہے، کسی کو انتہائی کم نرخوں پر دی جا رہی ہے، گندم اور آٹا سستا فراہم کیا جا رہا ہے، یہ سارا بوجھ وسطی اور شمالی پنجاب، شہری سندھ کے ٹیکس پیئر اٹھا رہے ہیں حالانکہ انھیں ریاست کی جانب سے وہ سہولتیں بھی فراہم نہیں کی جاتیں جو شہریوں کا بنیادی حق ہے۔
ادھر پاکستان کی حکمران اشرافیہ کا ایک حصہ ایسا ہے جو ٹیکس سے ماورا ہے۔ مذہبی اشرافیہ اس کا اہم جز ہے جب کہ پاکستان میں ایک خیراتی اشرافیہ بھی جنم لے چکی ہے اور اس کا سائز بھی بہت بڑا ہو گیا ہے لیکن سرکاری خزانے میں ان کی جیب سے ایک روپیہ بھی نہیں جاتا جب کہ ریاست سے وہ بے شمار مراعات حاصل کر رہے ہیں۔ اسی طرح قبائلی سرداروں، عمائدین ومشران کا بھی ایسا مراعات یافتہ طبقہ ہے جو ہر حکومت میں شامل ہوتا ہے لیکن سرکاری خزانے میں ٹیکس کی مد میں ان کی جیب سے بھی کوئی پیسے نہیں لئے جاتے۔ اب ایسی صورت میں پاکستان کی معیشت کو کیسے چلایا جا رہا ہے، اس کا حال پتہ پتہ بوٹا بوٹا جانتا ہے۔
حکومت ٹیکس چوری کرنے والوں اور ٹیکس ادا کرنے والوں کے درمیان فرق تلاش کرے، اگر کوئی ٹیکس چوری کر رہا ہے تو کس نے اسے یہ راہ دکھائی، کون سہولت کار بنا، کس نے غلط حساب کتاب کرکے کم ٹیکس دینے کا راستہ بتایا، یہ سب معلوم کرنا کوئی مشکل کام تو نہیں۔
یہ ترقیاتی اخراجات پاکستان کا مستقبل ہیں۔ اگر ان اخراجات کے لیے رقوم کم رکھی جاتی ہیں تو سمجھ لیں کہ کئی ڈیمز نامکمل رہ جائیں گے، بڑے شہروں میں سرکاری اسپتال گنتی کے ہیں۔ کراچی شہر جوکہ 4 کروڑ آبادی کا شہر ہے، 2026 گزرنے کو ہے، پاکستان کی آبادی 26 کروڑ تک پہنچ چکی ہے، کیا پورے پاکستان میں 26 بڑے اسپتال بھی ہیں؟ صرف کراچی شہر کی بات کر لیتے ہیں تو دل کا ایک بڑا اسپتال ہے، کراچی کے بعض علاقوں کا دل کے اسپتال کا فاصلہ ہی 100 سے 150 کلو میٹر بنتا ہے۔
کم از کم چاروں اطراف بڑے بڑے سرکاری اسپتال بنائے جائیں۔ اسی طرح لاہور شہر کا حال ہے اور دیگر بڑے شہر ہیں۔ یہ سارے کام اس لیے نہیں ہو سکتے کہ ترقیاتی بجٹ کے لیے رقوم کی کمی ہے اور رقوم کی کمی اس لیے ہے کہ ایک تو سود کی ادائیگی کے لیے کٹوتی کر رہے ہیں اور قرض کی قسط دے رہے ہیں، قرض اور سود کا زخم تو گہرا ہے لیکن اس کا مرہم ترقیاتی اخراجات ہی ہیں، اگر مرہم رکھنے کے پیسے ہم نے کاٹ لیے تو یہ زخم ناسور بن جائے گا۔ پھر ہمارے لیے ترقی کی راہیں مسدود ہو کر رہ جائیں گی۔ پھر ہم معاشی ترقی کی طرف نہیں بلکہ معاشی تنزلی کی طرف تیزی سے چلے جا رہے ہیں۔ قرض بھی اتارنا ہے، سود کا زخم بھی بھرنا ہے، قوم کے لیے ترقیاتی منصوبوں کا مرہم بھی ضروری ہے، ایسے میں بجٹ بھی بے بس ہے، وہ کیا کرے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل