Tuesday, July 28, 2026
 

دریائے راوی میں پانی کی سطح بلند ہونے سے متعدد گھر زیر آب، سیکڑوں گھرانوں کی نقل مکانی

 



تحصیل فیروزوالا اور دریائے راوی کے کنارے واقع متعدد دیہات میں سیلابی صورتحال مزید سنگین ہو گئی، پانی کی سطح میں مزید دو سے تین فٹ اضافے کے بعد پٹھان کالونی کا مین لاہور جی ٹی روڈ سے زمینی رابطہ مکمل طور پر منقطع ہوگیا، متعدد گھر زیر آب آنے سے سینکڑوں خاندان محصور ہو گئے۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق متاثرہ علاقوں سے لوگ محفوظ مقامات کی جانب نقل مکانی کر رہے ہیں، سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں اب تک تین بچے جاں بحق ہوچکے ہیں، سیلاب زدہ علاقوں رچنا ٹاؤن، رانا ٹاؤن، پٹھان کالونی، کوٹ عبدالمالک، کالا شاہ کاکو کے نواحی علاقوں، مراد پور، جامکے چیمہ میں میں کئی کئی فٹ پانی جمع ہے۔ مقامی افراد کے مطابق حفاظتی بند ٹوٹنے یا برساتی پانی کے اوور فلو کے باعث مختلف آبادیوں میں پانی داخل ہوا، جس کے بعد متعدد دیہات زیر آب آگئے۔ کئی خاندانوں نے خواتین، بچوں اور بزرگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا ہے، جبکہ بعض گھروں میں مرد افراد سامان کی حفاظت کے لیے موجود ہیں۔ پٹھان کالونی کے رہائشی محمد ریاض نے بتایا کہ علاقے میں گزشتہ چار روز سے بجلی بند ہے اور پانی کی سطح مسلسل بلند ہو رہی ہے۔ ان کے بقول ان کی فیملی رشتہ داروں کے گھر منتقل ہو چکی ہے، تاہم وہ سامان کی حفاظت کے لیے گھر پر موجود ہیں کیونکہ انہیں چوری کا خدشہ ہے۔ متاثرہ خاتون رشیداں بی بی نے بتایا کہ ان کے گھر کا بیشتر سامان پانی میں تباہ ہو گیا ہے۔ ان کے مطابق زندگی بھر کی جمع پونجی ضائع ہو چکی ہے اور انہیں سرکاری امداد نظر نہیں آ رہی۔ اسی علاقے کے رہائشی عبدالرحمن نے کہا کہ رات کے وقت پانی اچانک گھروں میں داخل ہوا جس کے بعد اہل خانہ کو جلدی میں محفوظ مقام پر منتقل کرنا پڑا، جبکہ گھریلو سامان کا بڑا حصہ پانی میں رہ گیا۔ رچنا ٹاؤن کے رہائشی محمد سلیم نے بتایا کہ کئی روز گزرنے کے باوجود پانی کی سطح کم نہیں ہو رہی، جس کے باعث معمولات زندگی مکمل طور پر مفلوج ہیں اور لوگوں کو خوراک اور پینے کے صاف پانی کی فراہمی میں مشکلات کا سامنا ہے۔ متاثرہ علاقوں میں پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے شعبہ خدمت خلق، الخدمت فاؤنڈیشن اور ریسکیو 1122 کی ٹیمیں امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ رضاکار کشتیوں کے ذریعے خواتین، بچوں، بزرگوں اور دیگر متاثرین کو محفوظ مقامات پر منتقل کر رہے ہیں، جبکہ متاثرہ خاندانوں میں پکا ہوا کھانا، خشک راشن، صاف پینے کا پانی اور دیگر ضروری اشیاء تقسیم کی جا رہی ہیں۔ پاکستان مرکزی مسلم لیگ لاہور کے شعبہ خدمت خلق کی جانب سے سیلاب متاثرین کے لیے ہنگامی ریلیف اور میڈیکل کیمپ بھی قائم کیا گیا ہے، جہاں مفت ادویات، ابتدائی طبی امداد، صاف پانی اور کھانے کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔ تنظیم کے مطابق اب تک تقریباً دو ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔ متاثرہ علاقوں کے مکینوں نے شکوہ کیا کہ اگرچہ حکومت کی جانب سے ڈرون کے ذریعے سیلابی صورتحال کی نگرانی کے دعوے کیے گئے، تاہم مقامی آبادی کو بروقت خطرے سے آگاہ نہیں کیا گیا۔ شہریوں کا کہنا تھا کہ اگر برساتی نالوں کی بروقت صفائی کی جاتی اور تجاوزات کا خاتمہ کیا جاتا تو نقصانات میں نمایاں کمی آ سکتی تھی۔ علاقہ مکینوں کے مطابق اب تک کوئی اعلیٰ حکومتی یا انتظامی نمائندہ متاثرہ آبادیوں میں نہیں پہنچا، جبکہ امدادی سرگرمیوں کا زیادہ تر بوجھ فلاحی تنظیموں اور ریسکیو اداروں پر ہے۔ دوسری جانب محکمہ موسمیات کی جانب سے مزید مون سون بارشوں کی پیش گوئی کے باعث مقامی آبادی میں تشویش پائی جاتی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر بارشوں کا نیا سلسلہ شروع ہوا تو زیر آب علاقوں میں صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل