Loading
چکوال میں ہونے والے حادثے سی سی ڈی صرف سنگین جرائم کے کیسز کو دیکھتی ہے اور اب تک متعدد پولیس مقابلے ہوئے جس کی ایک بھی شکایت نہیں ملی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق چکوال میں سی سی ڈی اہلکاروں کی فائرنگ سے بچی کی ہلاکت کے معاملے پرسی سی ڈی ہیڈکوارٹرز ٹاؤن شپ لاہور میں پریس بریفنگ ایس پی سی سی ڈی شاہ میر خالد نے دی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ چند روز قبل سی سی ڈی چکوال کے تھانہ کے قریب ایک فیملی کے ساتھ واردات ہورہی تھی، سی سی ڈی اہلکاروں نے کارروائی کا فیصلہ کیا تو مسلح ڈاکوؤں نے فائرنگ کی اور اہلکاروں نے غلط فہمی کی بنیاد پر متاثرہ خاندان کی گاڑی پر فائرنگ کی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ اہلکاروں کو لگا کہ ڈاکو گن پوائنٹ پر فیملی سے گاڑی چھین کر فرار ہو رہے ہیں، سی سی ڈی اہلکاروں نے قانون کے مطابق ایس او پیز کی خلاف ورزی کی ہے۔ اہلکاروں کو تربیت کے مطابق گاڑی کے ٹائر پر فائز کرنا چاہیے تھا۔
انہوں نے کہا کہ غفلت کے مرتکب اہلکاروں کو حراست میں لے کر قانونی و محکمانہ کارروائی شروع کی گئی، متاثرہ خاندان کو شفاف تحقیقات کی یقین دہانی کرائی اور متاثرہ خاندان نے اب تک کی تحقیقات اور پیش رفت پر اعتماد ظاہر کیا ہے، قانونی پیش رفت کیلئے گرفتار اہلکاروں کا چالان جلد عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ہم متاثرہ خاندان کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں، انہیں انصاف دیا جائے گا، سی سی ڈی صرف سنگین جرائم کے کیسز کو دیکھتی ہے، سی سی ڈی کے متعدد پولیس مقابلے ہوئے لیکن ایک بھی شکایت نہیں ملی، اس واقعہ میں ہمارے اہلکار قصوروار پائے گئے، ہم تسلیم کرتے ہیں۔
حکام نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے حکم پر متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کیا جا رہا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل