Monday, June 15, 2026
 

صدر ٹرمپ اور انکے نائب جے ڈی وینس نے ایران کیساتھ معاہدے پر دستخط کر دیے

 



امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے جنگ بندی معاہدے پر صدر ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس نے دستخط کر دیئے ہیں۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے معاہدے پر باقاعدہ دستخط ہو چکے ہیں جس پر میں نے خود اور نائب صدر نے دستخط کیے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے ایک سینئر عہدیدار نے بھی بتایا کہ صدر ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس نے گزشتہ روز معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ معاہدے کی مکمل تفصیلات آئندہ 24 سے 48 گھنٹوں میں جاری کیے جانے کا امکان ہے۔ تاہم امریکی حکام اور تجزیہ کاروں نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر صدر ٹرمپ نے معاہدے پر دستخط کیے ہیں تو ایرانی سپریم لیڈر یا اعلیٰ قیادت کی براہِ راست شمولیت کیوں نظر نہیں آتی جس سے معاہدے کی قانونی اور عملی حیثیت پر بحث شروع ہو گئی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق معاہدے کا ایک اہم حصہ ایران کی جوہری سرگرمیوں کو محدود کرنا اور خطے میں کشیدگی کم کرنا ہے۔ ساتھ ہی امریکا نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ امریکی افواج کا مرحلہ وار انخلا اسی صورت میں ہوگا جب ایران معاہدے کی شرائط پر مکمل عملدرآمد کرے گا۔ ادھر امریکی صدر نے جی 7 اجلاس میں شرکت کے لیے فرانس پہنچ گئے جہاں انھوں نے فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون کے ساتھ گفتگو کی۔ اس موقع پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے پر دستخط کردیئے ہیں ایران نے جوہری ہتھیار نہ بنانے پر اتفاق کیا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز پہلے ہی جزوی طور پر کھل چکی ہے اور جمعہ تک مکمل طور پر کھل جائے گی۔ معاہدے پر عمل درآمد کی سخت نگرانی کی جائے گی۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران شرائط پوری کرتا ہے تو پابندیوں میں نرمی شروع ہوگی اور اگر نہیں کرتا تو ہم دوبارہ وہیں واپس جائیں گے جہاں سے آغاز ہوا تھا۔ امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات انتہائی اچھے ماحول میں ہوئے اور دونوں فریقین کے درمیان بہتر تعلقات کی امید ہے۔ صدر ٹرمپ کے بقول ایران کو صرف اسی صورت میں پابندیوں میں ریلیف ملے گا جب وہ معاہدے کی تمام شرائط پر عمل کرے گا۔ یہ مکمل طور پر رویّے کی تبدیلی سے مشروط ہوگا۔    

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل