Loading
حماس نے ایران کو ثابت قدمی پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاہدہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے خاتمے اور لبنان پر حملوں کی روک تھام میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق حماس نے امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ یہ پیش رفت غزہ میں جاری جنگ کے خاتمے اور مشرقِ وسطیٰ میں استحکام کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گی۔
حماس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اور امریکا کے درمیان اعلان کردہ مفاہمتی یادداشت کے معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اسے امید ہے کہ یہ معاہدہ خطے میں کشیدگی کم کرنے، سلامتی کے ماحول کو بہتر بنانے اور مختلف علاقائی تنازعات کے حل میں مددگار ثابت ہوگا۔
حماس کا مزید کہنا تھا کہ اس پیش رفت کا سب سے مثبت اثر غزہ میں جاری جنگ کے فوری خاتمے کی صورت میں سامنے آنا چاہیے۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ معاہدہ غزہ کی پٹی میں فلسطینی عوام کے خلاف جاری صہیونی جارحیت کے فوری خاتمے، لبنان کے خلاف بار بار ہونے والے حملوں اور خطے کے دیگر محاذوں پر جاری کشیدگی کے خاتمے کی راہ ہموار کرسکتا ہے۔
اسرائیلی حکومت مسلسل یہ مؤقف اختیار کیے ہوئے ہے کہ غزہ میں پائیدار امن کے لیے حماس کو غیر مسلح ہونا ہوگا جبکہ حماس اس مطالبے کو مسترد کرتی آئی ہے۔ اسی وجہ سے جنگ کے مستقل خاتمے سے متعلق مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔
واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر اتفاق ہوگیا جس پر جمعے کے روز سوئٹزرلینڈ میں دستخط ہوں گے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل