Loading
ایران کے جنوبی شہر میناب میں واقع شجرۂ طیبہ گرلز پرائمری اسکول پر 28 فروری کو ہونے والے امریکی میزائل حملے میں شہید 152 طالبات اور خواتین اساتذہ کی شناخت کرلی گئی۔
اسکائی نیوز کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق حملہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف شروع کی گئی فوجی کارروائی کے پہلے روز کیا گیا تھا۔
میزائل حملے میں میناب کے شجرۂ طیبہ پرائمری اسکول کی عمارت مکمل طور پر تباہ ہوگئی تھی جس کے نتیجے میں درجنوں بچے ملبے تلے دب گئے۔
حملے کے وقت کیا ہوا تھا؟
رپورٹس کے مطابق 28 فروری کی صبح ایران پر وسیع فضائی حملوں کے آغاز کے بعد مقامی حکام نے تعلیمی ادارے بند کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
جس پر اسکول انتظامیہ بچوں کو محفوظ طریقے سے گھر روانہ کرنے کی کوشش کر رہی تھی جبکہ متعدد والدین بھی اپنے بچوں کو لینے پہنچ رہے تھے۔
اسی دوران میزائل اسکول اور اس کے اطراف میں آ گرے۔ عمارت کی چھت منہدم ہوگئی اور بڑی تعداد میں بچے، اساتذہ اور والدین ملبے تلے دب گئے۔
شہدا کی شناخت کیسے ہوئی؟
ایرانی میڈیا کے مطابق مختلف سرکاری ریکارڈز، اسکول دستاویزات، ڈی این اے نمونوں اور اہل خانہ کی فراہم کردہ معلومات کی مدد سے 120 طالبات اور 26 اساتذہ سمیت مجموعی طور پر 152 افراد کی شناخت کی گئی۔
خیال رہے کہ بعض رپورٹس میں شہادتوں کی تعداد 156 سے 175 کے درمیان بتائی گئی ہے تاہم اکثر بین الاقوامی ذرائع اس بات پر متفق ہیں کہ اکثریت اسکول کے بچے تھے۔
حملے کی ذمہ داری پر تنازع
حملے کے فوری بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس واقعے میں امریکی کردار کی تردید کی تھی اور اشارہ دیا تھا کہ یہ ایرانی میزائل کی غلطی بھی ہو سکتی ہے۔
تاہم بعد ازاں سامنے آنے والی تحقیقات، سیٹلائٹ تصاویر، ویڈیوز اور میزائل کے ملبے کے تجزیے سے یہ شواہد ملے کہ حملے میں ممکنہ طور پر امریکی ٹوماہاک میزائل استعمال ہوا تھا۔
امریکی حکام کی ابتدائی تحقیقات میں بھی امریکی ذمہ داری کا امکان ظاہر کیا گیا تاہم اب تک کسی امریکی اہلکار کے خلاف تفتیش شروع نہیں کی گئی۔
گرلز اسکول کیوں نشانہ بنا؟
تحقیقاتی رپورٹس کے مطابق یہ اسکول ایران کی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کی ایک بحری تنصیب کے قریب واقع تھا۔
بعض امریکی ذرائع کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر پرانی یا غلط انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر علاقے کو فوجی ہدف سمجھا گیا۔
تاہم رائٹرز کی تحقیقات میں بتایا گیا کہ اسکول کئی برسوں سے ایک فعال تعلیمی ادارے کے طور پر کھلے عام موجود تھا اور اس کی سرگرمیوں کا ریکارڈ انٹرنیٹ اور سیٹلائٹ تصاویر میں بھی دستیاب تھا۔
اس دل گداز واقعے نے جنگ میں معصوم شہریوں کے جانی نقصان اور اس کے معشرے پر اثرات کی شدید بحث چھیڑ دی تھی۔ ایران نے اسے جنگی جرم قرار دیتے ہوئے بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا جبکہ اس کی گونج امریکی پارلیمان میں سنی گئی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل