Loading
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل کو جنگ بندی پر راضی کرنے کی کہانی سنادی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ میں نے اسرائیلی قیادت سے رابطہ کرکے حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی قبول کرنے پر راضی کیا۔
امریکی صدر ٹرمپ کے بقول انھوں نے اسرائیلی قیادت سے کہا کہ بعض اوقات طاقت کے بجائے تحمل اور دانشمندی سے کام لینا ضروری ہوتا ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے این بی سی نیوز کو ٹیلیفون پر انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے بتایا کہ اسرائیلی قیادت سے بات کی اور انھیں حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی پر آمادہ ہونے کا مشورہ دیا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بقول میں نے اسرائیلی قیادت سے کہا کہ ہر وقت طاقت کا استعمال اچھا نہیں ہوتا۔ کبھی کبھی آپ کو پُرسکون ہونا پڑتا ہے اور دماغ سے کام لینا چاہیے۔
امریکی صدر نے یہ واضح نہیں کیا کہ آیا ان کی براہِ راست گفتگو اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے ہوئی یا کسی اور اعلیٰ اسرائیلی عہدیدار سے ہوئی تھی تاہم انھوں نے اس بارے میں تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی حکام کے مطابق اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان نئی جنگ بندی پر اتفاق ہوا ہے جس کے نفاذ کے لیے امریکا، قطر اور ایران نے ثالثی کا کردار ادا کیا۔
امریکی حکام کا مزید کہنا ہے کہ جنگ بندی مقامی وقت کے مطابق جمعے کی سہ پہر سے نافذ ہوئی تاہم بعض علاقوں سے اس کے باوجود وقفے وقفے سے جھڑپوں کی اطلاعات بھی موصول ہوتی رہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل