Loading
واشنگٹن: امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اپنی ایک تجزیاتی رپورٹ میں کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ معاہدہ ایران کے لیے اہم معاشی فوائد کا باعث بن سکتا ہے، جبکہ تقریباً چار ماہ تک جاری رہنے والی جنگ کے باوجود ایران کی کئی اہم صلاحیتیں برقرار رہی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق امریکا اور اس کے اتحادیوں کی فوجی کارروائیوں کے باوجود ایران کا جوہری پروگرام مکمل طور پر ختم نہیں کیا جا سکا۔ اسی طرح ایران کا بیلسٹک میزائل پروگرام بھی بدستور موجود ہے اور خطے میں اس کے اتحادی گروہ بھی فعال ہیں۔
نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں نشاندہی کی ہے کہ جنگ کے بعد بھی ایران کا سیاسی نظام قائم ہے اور ملک کے حکومتی ڈھانچے میں کوئی بنیادی تبدیلی رونما نہیں ہوئی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ فوجی کارروائی کے باوجود ایران کی ریاستی ساخت اور اثر و رسوخ مکمل طور پر متاثر نہیں ہوا۔
تجزیاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حالیہ جنگ اور بعد ازاں ہونے والے معاہدے کے باوجود مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی سیاسی اور تزویراتی صورتحال میں کوئی بڑی یا ڈرامائی تبدیلی سامنے نہیں آئی۔ اگرچہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فروری میں ایران کے خلاف فوجی کارروائی کو خطے میں بڑی تبدیلی اور ایران سے لاحق خطرات کے خاتمے کی کوشش قرار دیا تھا، تاہم زمینی حقائق اس دعوے سے مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والا معاہدہ تہران کو کئی معاشی فوائد فراہم کر سکتا ہے، جن میں پابندیوں میں نرمی، منجمد مالی اثاثوں تک رسائی، تیل کی برآمدات میں اضافے کے امکانات اور بین الاقوامی سرمایہ کاری کے دروازے کھلنا شامل ہو سکتے ہیں۔
بین الاقوامی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ فوجی برتری کے اظہار سے زیادہ کشیدگی میں کمی اور تنازع کو مزید بڑھنے سے روکنے کی کوشش کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک نے جنگ کے بجائے سفارتکاری اور مذاکرات کے راستے کو ترجیح دے کر خطے میں استحکام کے امکانات کو تقویت دی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر معاہدے پر مکمل عمل درآمد ہوتا ہے تو نہ صرف ایران کی معیشت کو فائدہ پہنچ سکتا ہے بلکہ عالمی توانائی منڈیوں اور مشرق وسطیٰ کی سیاسی صورتحال پر بھی اس کے مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل