Loading
قومی اسمبلی میں وزارت داخلہ کے بجٹ اور کٹوتی کی تحاریک پر بحث کے دوران حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا، اپوزیشن نے سیاسی انتقام، انسانی حقوق اور عمران خان سے ملاقاتوں کا معاملہ اٹھایا، جبکہ حکومت نے دہشتگردی، منشیات اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی کا دفاع کیا۔
وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے وزارت داخلہ کی کارکردگی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وزارت داخلہ 501 شہداء اور متعدد غازیوں کی وارث ہے، وزیراعظم شہباز شریف کے دور میں تمام متعلقہ اداروں کی کارکردگی بہتر ہوئی۔
طلال چوہدری نے بتایا کہ ایک سال کے دوران 20 ارب ڈالر مالیت کی منشیات پکڑی گئیں جبکہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں 1020 اہلکار شہید ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ایک سال میں 3355 دہشتگردی کے واقعات ہوئے جن میں 95 فیصد خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں پیش آئے۔ ان کے مطابق نیکٹا کو فعال کیا جا چکا ہے اور نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد وقت کی ضرورت ہے۔ وزیر مملکت نے اعلان کیا کہ اسلام آباد کو پاکستان کا پہلا اسمارٹ سٹی بنایا جا رہا ہے جبکہ جدید بین الاقوامی معیار کی جیل بھی تعمیر کی جا رہی ہے۔
بیرسٹر گوہر نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ وزارت داخلہ قانون کی عملداری میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے لیکن گزشتہ چار برسوں میں سیاسی انتقام اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مثالیں سامنے آئیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن ہمیشہ قومی اتفاق رائے کی حامی رہی ہے اور محمود خان اچکزئی نے بھی غیر مشروط تعاون کی پیشکش کی۔
بیرسٹر گوہر نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ نو مئی کے واقعات کو سیاسی انتقام کیلئے استعمال نہ کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ کئی ماہ سے عمران خان سے ملاقات نہیں ہو سکی، حکومت کم از کم ان کے معالج کو ملاقات کی اجازت دے۔
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن آف پاکستان میں اپوزیشن کے دو ارکان کو نمائندگی دی گئی ہے۔ انہوں نے اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کئی اہم اجلاسوں میں اپوزیشن اراکین شریک نہیں ہوئے جبکہ کرمنل لا سے متعلق اہم مسودہ قائمہ کمیٹی میں زیر التوا ہے۔ اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے بعض معاملات پر جواب تاحال موصول نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ناراض ہو کر بیٹھ جانا اور مراعات لینا قانون کی حکمرانی نہیں، جبکہ عدالتی سزاؤں میں حکومت کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا۔
جے یو آئی کے رکن قومی اسمبلی نور عالم خان نے منشیات اور امن و امان کی صورتحال پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ آئس اور ہیروئن کی خرید و فروخت اور اسمگلنگ میں ملوث افراد کو سزائے موت دی جائے۔
نور عالم خان نے کہا کہ منشیات اسکولوں اور یونیورسٹیوں تک پہنچ چکی ہے اور وزارت انسداد منشیات اس مسئلے پر سنجیدہ نظر نہیں آتی۔ انہوں نے دہشت گردی کے مسئلے پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان سب سے زیادہ متاثر ہیں اور دہشتگردوں میں اچھے اور برے کی کوئی تقسیم نہیں ہونی چاہیے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل