Loading
سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نےجائیداد کی غیر قانونی الاٹمنٹ سے متعلق حکومت سندھ و دیگر کیخلاف درخواستیں خارج کردیں کرتے ہوئے 1975 کے ایکٹ کے نفاذ کے بعد کی گئی الاٹمنٹس کالعدم قرار دے دیں۔
ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے جائیداد کی غیر قانونی الاٹمنٹ سے متعلق حکومت سندھ و دیگر کیخلاف درخواستوں کا فیصلہ سنادیا۔
عدالت نے فیصلے میں کہا کہ زمین کی میوٹیشن ملکیت کی حتمی دستاویز نہیں، اگر کسی کیس کی بنیاد ہی غیر قانونی ہو تو اس پر قائم پوری عمارت گر جاتی ہے۔
عدالت نے اسسٹنٹ کمشنر ریونیو کا منسوخی کا فیصلہ برقرار برقرار رکھا ہے۔ درخواست گزار جائیداد پر حق منوانے کے بجائے ان سے معاوضہ طلب کریں جنہوں نے یہ فروخت کیں، آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت ریلیف صرف 'صاف نیت' سے آنے والے فریق کو مل سکتا ہے۔
عدالت نے ریونیو ریکارڈ میں ترمیم کیخلاف دائر تمام آئینی درخواستیں خارج کر دیں۔
قبل ازیں درخواست گزار کے وکیل کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا تھا کہ درخواست گزار کورنگی میں ایک ایکڑ 20 گھنٹہ زمین کے قانونی مالکان ہیں، متنازع زمین اصل الاٹی عبدالرحمان کو 1996 میں الاٹ کی گئی تھی۔
انہوں نے عدالت کو بتایا کہ عبدالرحمٰن کو ملنے والی الاٹمنٹ کو کبھی چیلنج یا منسوخ نہیں کیا گیا، اصل الاٹی نے 1998 میں میسرز روپالی بلڈرز کے حق میں تھرڈ پارٹی حقوق قائم کئے۔ معزز سپریم کورٹ نے بھی تھرڈ پارٹی مفادات کے تحفظ اور نفاذ کا حکم دیا تھا، مختلف قانونی منتقلیوں اور تبدیلیوں کے بعد زمین موجودہ درخواستگزاروں کی ملکیت بنی۔
عدالت کو بتایا گیا کہ درخواست گزاروں کا ملکیتی حق 2012 میں سول کورٹ کی ڈگری کے ذریعے تسلیم شدہ ہے، مذکورہ زمین کو 2016 میں سندھ گورنمنٹ لینڈ ایکٹ کے تحت ریگولرائز کیا جا چکا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل