Loading
عمران خان کی بہن علیمہ خان نے کہا ہے کہ عمران خان سے ملاقات کے لیے جیل سپرنٹنڈنٹ کو دوبارہ درخواست دینے کا محسن نقوی کا پیغام مسترد کرتے ہیں، ہم درخواست کیوں دیں؟ ہمارے پاس ہائی کورٹ کا آرڈر موجود ہے۔
میڈیا سے گفت گو میں انہوں نے کہا کہ بیرسٹر گوہر نے بہن نورین خان کی بھائی سے ملاقات کے لیے محسن نقوی کا پیغام دیا، محسن نقوی نے کہا بہن نورین خان سپرنٹنڈنٹ جیل کو ملاقات کی نئی درخواست دیں، ایسا کرنا شیطانی تھی ہمارے پاس ہائی کورٹ فل بینچ کا متفقہ بڑا فیصلہ موجود ہے، سپرنٹنڈنٹ جیل چھوٹا آفیسر ہے جو اسلام آباد ہائی کورٹ فل بینچ کے فیصلے کے سامنے کچھ نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس درخواست کے بعد مختصر سی نورین خان سے ملاقات کرا کے بانی کو طویل قید تنہائی ڈالنا مقصد تھا، ہمارے ایکسپرٹ وکلاء نے یہ سارا کھیل ہمیں سمجھا دیا، نورین خان سے بھائی کی مختصر ملاقات سے ہمارا دباؤ ختم ہوجاتا جب کہ جیل مینوئل موجود ہے جس کے تحت بانی چیئرمین فیملی سے آئینی ملاقاتیں کرسکتے ہیں۔
علیمہ خان کا کہنا تھا کہ ہائی کورٹ فل بینچ نے 6 فیملی ممبرز، 6 وکلاء اور 6 دوستوں سمیت کُل 18 افراد کو ہفتہ وار ملاقات کی اجازت دی، محسن نقوی کوئی پیشکش کریں اور ہم شک نہ کریں یہ نہیں ہوسکتا،محسن نقوی کی سپرنٹنڈنٹ جیل کو ایک بہن کی ملاقات کے لیے نئی درخواست کی پیشکش کو مسترد کرتے ہیں۔
وکیل فیصل ملک میڈیا ٹاک
علیمہ خان کے وکیل فیصل ملک نے میڈیا ٹاک میں کہا کہ آج وزرا اور میڈیا پرسن کی طلبی پر سماعت مکمل ہوگئی، علیمہ خان پر الزام ہے کہ انہوں نے 26 نومبر احتجاج کا 24 نومبر کا پیغام پہنچایا، جن وزرا میڈیا پرسن کو بطور کورٹ گواہ طلب کیا وہ اس بابت پہلے سے گفتگو کر رہے تھے، ہم نے صفائی کورٹ گواہان کے لیے سپریم کورٹ کے متعدد فیصلے پیش کیے۔
وکیل صفائی نے کہا کہ بانی نے عدلیہ آزادی آئین قانون بحالی کے لیے پُرامن احتجاج کی ہدایت کی، پرامن احتجاج ہر کسی کا آئینی حق ہے، ان گواہان کی طلبی کےلئے ہائی کورٹ سپریم کورٹ تک جائیں گے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل