Loading
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے امریکا کو یقین دہانی کرائی ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی یا دیگر بحری جہازوں سے کسی قسم کا ٹول ٹیکس یا اضافی فیس وصول نہیں کی جائے گی۔
اس بات کا دعویٰ امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری ایک بیان میں کیا۔
انھوں نے یہ بھی واضح کیا کہ امریکا نے ایران کو کوئی نئی مالی امداد فراہم نہیں کی اور نہ ہی ایران کے منجمد فنڈز میں سے کوئی رقم واپس کی گئی ہے۔
صدر ٹرمپ نے یہ بھی بتایا کہ ایران کے منجمد فنڈز میں سے کچھ رقم امریکا جاری کردے گا تاہم اس رقم کا مکمل کنٹرول امریکا کے پاس ہی ہوگا اور اسے براہ راست ایران کو نہیں دیا جائے گا۔
ٹرمپ کے بقول یہ رقم صرف امریکا کے کسانوں اور مویشی پالنے والوں سے مکئی، گندم، سویابین اور دیگر زرعی اجناس خریدنے کے لیے استعمال کی جائے گی تاکہ ایران میں غذائی ضروریات پوری کی جا سکیں۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران کو خوراک کی شدید ضرورت ہے اس لیے ہم ان کے لیے صرف امریکا سے خوراک خریدیں گے۔
انھوں نے بتایا کہ ایران نے واضح طور پر آگاہ کیا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر نہ کوئی ٹول عائد کیا جا رہا ہے، نہ اضافی انشورنس اخراجات طلب کیے جا رہے ہیں اور نہ ہی کسی اور قسم کی فیس وصول کی جا رہی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی آمیز لہجے میں خبردار کیا کہ اگر تول فیس یا اضافی چارجز نہ لینے کی یہ معلومات غلط ثابت ہوئیں تو ایران کے ساتھ جاری مذاکرات فوری طور پر ختم کر دیے جائیں گے۔
واضح رہے کہ ایران کے اربوں ڈالرز امریکی پابندیوں کے باعث منجمد ہیں اور حال ہی میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے بعد ان کے بحال ہونے کے امکانات بڑھ گئے ہیں تاہم صدر ٹرمپ کے اس بیان سے لگتا ہے کہ وہ ان فنڈز پر اپنا کنٹرول رکھیں گے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل