Loading
امریکی آٹو موبِل کمپنی فورڈ نے اعتراف کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر حد سے زیادہ انحصار کمپنی کے لیے مہنگا ثابت ہوا، جس کے بعد گزشتہ تین برسوں میں 350 سے زائد تجربہ کار انجینئرز کو دوبارہ ملازمت پر رکھ لیا گیا۔
بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق کمپنی نے ان سینئر انجینئرز (جنہیں اندرونی طور پر ’گرے بیئرڈز‘ کہا جاتا ہے) کو خودکار نظام کی غلطیوں کی نشاندہی اور معیار کو بہتر بنانے کے لیے واپس بلایا ہے۔ اے آئی پر ضرورت سے زیادہ انحصار کے باعث کمپنی کو اربوں ڈالر کے نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔
فورڈ کے چیف آپریٹنگ آفیسر کمار گلہوترا نے کہا کہ کمپنی مسلسل خودکار کوالٹی سسٹمز پر انحصار کر رہی تھی، مگر مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو رہے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ تجربہ کار ماہرین کو دوبارہ لانے کا مقصد یہ ہے کہ وہ پرزوں کی تیاری کے دوران ہی ممکنہ خامیوں کی نشاندہی کریں جبکہ بعض انجینئرز اے آئی سسٹمز کو مزید بہتر بنانے اور تربیت دینے میں بھی کردار ادا کریں گے۔
فورڈ کا یہ فیصلہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے باوجود انسانی مہارت اور تجربہ اب بھی صنعت میں کلیدی اہمیت رکھتے ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل