Loading
رشوت ستانی ایک ایسا مرض بن گیا ہے جو آج کل انسانوں کے بلڈ پریشر کی مانند کبھی بڑھتا اور کبھی گھٹتا ہے ویسے یہ گھٹتا کم اور بڑھتا زیادہ ہے۔ بھارت میں رشوت ستانی کا ایک عجیب کیس سامنے آیا، جو دل دہلانے والا تھا۔ریاست اترپردیش کے ضلع مظفر گڑھ میں ایک ڈاکٹر نے ایک ایسی حرکت کی جسے سن کر پہلے تو یقین ہی نہ آیا لیکن ایسا ہو چکا ہے۔
ایک چودہ سالہ ذہنی معذور بچی کی ڈیڑھ مہینہ قبل ٹانگ ٹوٹ گئی تھی جسے اسپتال میں منتقل کر دیا گیا تھا، بچی کی ماں کے مطابق اسپتال کے عملے نے بچی کی سرجری کے لیے پچیس ہزار رشوت کا مطالبہ کیا تھا لیکن رشوت نہ دینے پر ڈاکٹر نے مبینہ طور پر جوڑی گئی ہڈی کو دوبارہ توڑ دیا حالانکہ ضلعی ہدایات کے مطابق بچی کا علاج مفت ہونا تھا۔
رشوت لینا اور دینا اخلاقی، معاشی و معاشرتی بیماری ہے جو انسان کو بربادی کی اتھاہ گہرائیوں میں دھکیل دیتی ہے اور مادی خواہشات کی چاہ میں انسان اس میں گرتا ہی چلا جاتا ہے۔
اخلاقی بیماریاں اکثر ہماری زندگی میں اہمیت کی حامل نہیں ہوتیں ہم یہ کہہ کر کہ فلاں کی عادت حسد کرنے کی ہے، جل ککڑ، جھوٹا، منافق، چالاک، چلتر کہہ کر آگے بڑھ جاتے ہیں لیکن یہ خیال ہی نہیں ابھرتا کہ دراصل اس طرح کی منفی سوچ اور کردار رکھنے سے ہم خود کو اخلاق کے کس خانے میں فٹ کر رہے ہیں، کون جانتا ہے ہمارے اندر کے انسان کو؟
قابلیت، اہلیت اور شکل و صورت جو ہم نے خود نہیں بنائی، نہ عقل نہ ہی سمجھ و فہم پر ان کی حسد نہ پوچھیے۔ عام طور پر خاندانوں میں ایسا ہوتا ہے لیکن لوگ اسے جذبات سمجھتے ہیں، اب سمجھ آتا ہے یہ جذبات نہیں یہ اخلاقی بیماریاں ہوتی ہیں جو انسان میں پنپتے ہوئے ناسور بن جاتی ہیں اور اس کا آخری وقت آ جاتا ہے۔ ابھی جو آپ کو بتائی وہ ایک مثال نہیں ،ایک خاندان، ایک معاشرے کا کلیہ بھی ہے۔ یہ کسی ایک شخص پر محیط نہیں ہے۔
’’یعنی اس طرح ہر گلی محلے، دفاتر بلکہ محکمات اور ایوانوں میں بھی جاری ہے؟‘‘
’’بالکل درست، یہ ہمارے معاشرے میں ہو رہا ہے۔ کیا گھر کیا دفتر اور کیا سیاسی میدان، سب جگہ اخلاقی بیماریاں ناسور بن کر رسنے لگی ہیں۔ ایک شخص بظاہر بہت اچھا ہے، نیک ہے لیکن جب اس کو اپنی مخالفت میں یا اپنے سے آگے بڑھتا کوئی دکھائی دیتا ہے، کینسر کی طرح یہ مرض ابلتا ہے اور حسد ابھرتا ہے اب سب بھول جاتا ہے کہ حسد ہماری نیکیوں کو ایسے کھا جاتا ہے جیسے آگ لکڑی کو جلا کر راکھ کر دیتی ہے لیکن ہمیں وہ راکھ نظر نہیں آتی لہٰذا ہمیں کوئی پرابلم ہی نہیں ہوتی، کون ہمارے اندر جھانک کر اس غلیظ جذبے کو دیکھ رہا ہے۔
سائنس کی زبان میں حسد پیدا ہوئی اور امیگڈالا کی حرکت شروع ہو جاتی ہے جسم میں ایک ہارمون کارٹیول کی مقدار بڑھنے لگتی ہے اور اس کی مستقل زیادتی سے خون کا شوگر لیول بڑھ جاتا ہے ،یادداشت کمزور ہونے لگتی ہے۔ اب سامنے والے کو کیا خبر کہ اس سے حسد کرنے کی وجہ سے میرے اندر قدرتی طور پر ایک الٹا چکر جو صحت کے اعتبار سے میرے لیے خطرناک ہے شروع ہو چکا ہے۔ لیکن نہیں، میں نہیں رکتا، میں نے تو حسد کرنا ہے، تین چار طنز کے تیر بھی ساتھ کر دیتا ہے اور رب العزت کے سامنے جو حشر ہوگا اس کی تو کوئی فکر ہی نہیں کہ جب مریں گے تب دیکھی جائے گی پر ہماری زندگی کی لاگ بک میں پوائنٹس گر گئے، نیکیاں کاٹ دی گئیں اور آگے کیا کہیں؟‘‘
’’اس خاص مثال کے بارے میں بتائیں؟‘‘
’’جی بالکل ساری زندگی مزے لے لے کر دوسروں کے لیے یوں کہہ لیں کہ گڑھے کھودے۔ ایسا نہیں کہ وہ ایک انتہائی بری مثال ہیں اور سارے گناہ ہی کیے۔ اچھے کام بھی کیے ،لیکن آخری وقت جب موت سے پہلے ان کی طبیعت خراب ہوئی تو وہ سارے اپنے پیارے جن کی خاطر یہ سب بلاوجہ کے گناہ کیے اور اپنا کیس بگاڑا، سب بھاگ گئے ایک بھی ساتھ نہیں تھا۔ اپنی آنکھوں سے یہ سب دیکھا، اس میں بھی ان کی دعاؤں اور عبادات کا عمل دخل تھا، ویسے تو ہم انسانوں میں اتنی سمجھ نہیں لیکن جتنا دیکھا اور دیکھتے ہیں کہ ظاہر ہے کام ایسا ہے دراصل اوپر والے کی کرم نوازی ہی تھی کہ ان کی مشکل آسان کی۔
عام طور پر جو لوگ اعتدال کو چھوڑ کر شدت اور انتہا پسندی کو اختیار کر لیتے ہیں ایسے لوگوں کی زندگی سے اعتدال کے ساتھ ساتھ امن و سکون بھی رخصت ہو جاتا ہے ان کے مسائل، معاملات الجھ جاتے ہیں اور ان کی ساری قوتیں اور وقت کا بڑا حصہ انھی الجھنوں کو سلجھانے میں صرف ہو جاتا ہے انھیں راحت نہیں ملتی پھر وہ لوگوں سے گلہ کرتے ہیں کہ وہ تو اتنے اچھے ہیں، اب بتائیں کون اپنے آپ کو برا کہے گا۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم ایسے اچھے ہیں، کچھ نہیں بولتے پھر بھی ان کے ساتھ ایسا کیوں ہو رہا ہے، جب کہ وہ خود ہی اپنے ساتھ برا کر رہے ہیں۔‘‘
’’اخلاقی بیماریوں کے لیے کیا کریں، کیسے نکلیں؟‘‘
’’ہمارا مذہب ایک مکمل ضابطہ حیات ہے ہم سب کہتے ہیں، پڑھتے بھی ہیں پر نہ تو عمل کرتے اور نہ سمجھتے ہیں ہم دین کو کتابوں تک محدود سمجھتے ہیں، جب کہ اس پر عمل کرنا ہماری ذہنی اور جسمانی صحت کے لیے بہترین ہے آپ اپنی روح کی صفائی کریں، اب کیا کریں گے کس ڈٹرجنٹ سے روح دھوئیں۔ آسان سی بات منفیت پیدا ہوئی۔ مثلاً حسد، رقابت یا تکبر، فوراً پکڑیں اس جذبے کو وہیں روکیں شروع میں مشکل ہوگی پہلے تشخیص ہوتی ہے ،پھر علاج شروع کیا جاتا ہے۔
جیسے رشوت کیوں لی جاتی ہے؟ آسانی سے مل بھی جاتی ہے اور آسانی سے دے بھی جاتی ہے۔ یہ تو جرم کی حد تک بڑھ گئی ہے اور اب یہ جرائم اتنے بڑھ چکے ہیں کہ بڑے بڑے ایوانوں تک اس کے ڈنکے بج رہے ہیں۔ پہلے اپنے اندر کے انسان کو پہچانیے اس نفس کو جو آپ کو اتنا چلاتا ہے کہ آپ تھک جاتے ہیں، آپ غور کریں کئی بار آپ خواب بنتے بنتے ایسے ہو جاتے ہیں کہ الجھ جاتے ہیں جب کہ ان کا تعلق کسی معمولی سے حادثے، واقعے یا کسی کی کہی بات سن کر کچھ دماغ میں آ جاتا ہے اب وہ کیا ہے، اصل بات کہیں اور، پر انسان کہیں اور بنتے بنتے نکل جاتا ہے۔
غیر فطری کیفیت دراصل بے اعتدالی ہے اس سے بچیں، زندگی ایسے بسر کریں کہ جس میں حقوق اور فرائض کے درمیان توازن ہو، اپنے فرائض کو نہ بھولیے اور نہ غفلت برتیں اور نہ اپنے حقوق سے اپنے نفس کو محروم کریں۔ دونوں صورتوں میں سختی کرنا رب العزت کو پسند نہیں۔ ہمارے دین کو اسی لیے آسان بنایا ہے تاکہ لوگ سختی اور شدت سے گھبرا کر دین کو ترک نہ کریں، اپنی گفتگو میں کھانے پینے میں روز مرہ زندگی میں میانہ روی اختیار کریں، یہ ہمارے لیے بہتر ہے اور اس طرح ہم اپنی اخلاقی بیماریوں سے نبرد آزما ہو سکتے ہیں، کرکے دیکھ لیں۔‘‘
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل