Saturday, June 27, 2026
 

عوام خاموش کیوں رہتے ہیں

 



کسی بھی ملک کی سیاسی تاریخ صرف اقتدار کے ایوانوں میں نہیں لکھی جاتی بلکہ گلیوں ،بازاروں، کھیتوں ،کارخانوں اور عام لوگوں کے دلوں میں بھی لکھی جاتی ہے۔ سیاست دان اکثر یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے ساتھ عوام کی محبت ہمیشہ ایک ہی شدت کے ساتھ قائم رہے گی، لیکن عوام کا حافظہ جذبات کے ساتھ ساتھ تجربات سے بھی بنتا ہے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں کئی ایسے موڑ آئے جب بڑے بڑے سیاسی نام آزمائشوں سے گزرے۔ ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی گئی، ایک ایسا رہنما جس نے عام آدمی کو سیاست کے میدان میں صدا دی تھی۔ ان کے چاہنے والوں کی تعداد بہت زیادہ تھی مگر اس سانحے کے وقت وہ عوامی رد عمل سامنے نہ آیا جس کی توقع کی گئی تھی۔ بعد کے برسوں میں مختلف سیاسی رہنماؤں کو جیلوں مقدمات اور سیاسی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ کسی کو اقتدار سے ہٹایا گیا ،کسی کو جلاوطنی اختیار کرنا پڑی، کسی کو قید کا سامنا کرنا پڑا لیکن ہر بار سوال اٹھا کہ عوام سڑکوں پر کیوں نہیں نکلے؟ کیا عوام بے حس ہو گئے ہیں؟ کیا لوگ اپنے رہنماؤں کے ساتھ وفادار نہیں رہے؟ شاید اس سوال کا جواب اتنا آسان نہیں۔ عوام کسی بھی سماج کی سب سے بڑی طاقت اور حقیقت ہوتے ہیں۔ وہ صرف جذبات سے نہیں بلکہ اپنے تجربے سے فیصلے کرتے ہیں۔ ایک عام انسان کے لیے سیاست صرف تقریروں، جلسوں اور نعروں کا نام نہیں۔ اس کے لیے سیاست اس کے گھر کے چولہے ،بچوں کی تعلیم، روزگار، علاج انصاف اور عزت نفس سے جڑی ہوتی ہے۔ جب ایک مزدور صبح سویرے اپنے کام کی تلاش میں نکلتا ہے، جب ایک کسان اپنی فصل کے مناسب دام کا انتظار کرتا ہے، جب ایک نوجوان روزگار کے لیے دروازے کھٹکھٹاتا ہے تو اس کے لیے سیاسی وعدوں کی اہمیت اسی وقت ہوتی ہے ،جب وہ وعدے اس کی زندگی میں کسی تبدیلی کی صورت اختیار کریں۔ عوام اپنے رہنماؤں کو صرف اس لیے نہیں چاہتے کہ وہ مقبول ہیں بلکہ اس لیے چاہتے ہیں کہ وہ ان کے دکھوں کو سمجھیں اور ان کے مسائل کا حل تلاش کریں۔ تاریخ میں ایسے کئی مواقعے آئے جب عوام نے قربانیاں دیں، جیلیں کاٹیں ،ظلم برداشت کیا اور تحریکوں کا حصہ بنے، لیکن یہ قربانی ہمیشہ کسی شخصیت کے نام پر نہیں ہوتی،اکثر یہ کسی بڑے مقصد کسی امید اور کسی بہتر مستقبل کے خواب کے لیے ہوتی ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ عوام کو اکثر سیاسی طاقتوں نے استعمال کیا۔ انتخابات کے دن ان کی اہمیت بڑھ جاتی ہے، ان کے ووٹ کی قدر کی جاتی ہے مگر اس کے بعد بہت سے لوگ خود کو بھولا ہوا محسوس کرتے ہیں۔ بار بار کی مایوسی انسان کو خاموش کر دیتی ہے۔ یہ خاموشی بے وفائی نہیں ہوتی، کبھی کبھی یہ تھکن ہوتی ہے، کبھی بداعتمادی اور کبھی یہ احساس کہ شاید تبدیلی کا وعدہ پھر ایک خواب ہی ثابت ہوگا۔ سیاسی رہنماؤں کی سب سے بڑی آزمائش یہ ہے کہ وہ عوام کی محبت کو کس طرح ذمے داری میں تبدیل کرتے ہیں۔ مقبولیت ایک لمحاتی کیفیت ہو سکتی ہے لیکن اعتماد برسوں کی محنت سے بنتا ہے۔ عوام کسی رہنما کو سر آنکھوں پر بٹھا سکتے ہیں ،مگر اگر اسے محسوس ہو کہ اس کی زندگی میں کوئی حقیقی بہتری نہیں آئی تو وہ خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔ ایک اور پہلو بھی اہم ہے کسی بھی سیاسی رہنما کی جدوجہد کو صرف اس بنیاد پر نہیں پرکھا جا سکتا کہ مشکل وقت میں کتنے لوگ سڑکوں پر نکلے۔ سیاست کا اثر کبھی فوری نظر آتا ہے اور کبھی آنے والی نسلوں تک پہنچتا ہے۔ بعض خیالات اور تحریکیں اپنے وقت میں ناکام دکھائی دیتی ہیں مگر تاریخ بعد میں ان کا جائزہ مختلف انداز میں لیتی ہے۔ سیاسی قیادت کے لیے یہ ایک بڑا سبق ہے کہ عوام کو صرف جذباتی وابستگی کے ذریعے ہمیشہ ساتھ نہیں رکھا جا سکتا۔ عوام محبت بھی کرتے ہیں اور سوال بھی کرتے ہیں، وہ کسی کو اقتدار دے سکتے ہیں اور کسی وقت خاموشی سے دور بھی ہو سکتے ہیں۔ اصل سوال یہ نہیں کہ عوام کیوں نہیں نکلے؟ اصل سوال یہ ہے کہ عوام کے دل میں وہ یقین کیوں کمزور ہوا، جس کے لیے وہ اپنا آرام، وقت اور جان قربان کرنے پر تیار ہوتے ہیں؟ عوام کو کم عقل سمجھنا سیاسی غلطی ہے۔ عوام شاید خاموش ہوں، لیکن وہ اپنے تجربات کو بھولتے نہیں۔ انھیں معلوم ہوتا ہے کہ کس نے امید دی، کس نے وعدے کیے اور کس حد تک ان وعدوں کو حقیقت بنایا۔جمہوریت کا حسن بھی یہی ہے کہ آخری فیصلہ عوام کا ہوتا ہے۔ کبھی وہ آواز بلند کرتے ہیں، کبھی خاموش رہتے ہیں لیکن اس کی خاموشی کے اندر ایک سوال چھپا ہوتا ہے۔ عوام کی خاموشی کو محض بے عملی یا دلچسپی کے فقدان سے تعبیر کرنا درست نہیں۔ اکثر اوقات یہ خاموشی گہرے مشاہدے، تلخ تجربات اور مسلسل آزمائشوں کا نتیجہ ہوتی ہے۔ ایک ایسا سماج، جہاں عام آدمی روزگار، مہنگائی ،تعلیم ،صحت اور تحفظ جیسے بنیادی مسائل سے نبرد آزما ہو، وہاں سیاسی وابستگیوں کی نوعیت بھی بدل جاتی ہے۔ لوگ اپنے رہنماؤں کے نعروں سے زیادہ ان کی کارکردگی کو اہمیت دینے لگتے ہیں۔ وہ یہ دیکھتے ہیں کہ اقتدار میں آنے کے بعد کون ان کے مسائل کو سمجھتا ہے ،کون ان کے لیے عملی اقدامات کرتا ہے اور کون صرف وعدوں اور دعووں تک محدود رہتا ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ عوام کے شعور کو صرف جلسوں کے ہجوم یا احتجاجی مظاہروں سے نہیں ناپا جا سکتا۔ بہت سے لوگ بظاہر خاموش ہوتے ہیں ،لیکن وہ حالات کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہوتے ہیں۔ ان کے ذہن میں سوالات بھی ہوتے ہیں اور توقعات بھی۔ وہ ہر سیاسی واقعے کو اپنے تجربات کی روشنی میں پرکھتے ہیں اور پھر اپنی رائے قائم کرتے ہیں۔ اسی لیے عوامی فیصلے اکثر سیاسی تجزیہ نگاروں اور رہنماؤں کی توقعات کے برعکس سامنے آتے ہیں۔ مزید یہ کہ تاریخ میں کئی ایسی مثالیں موجود ہیں جہاں عوام نے طویل عرصے تک خاموش رہنے کے بعد اچانک اپنے اجتماعی شعور کا اظہار کیا اور سیاسی منظرنامہ بدل کر رکھ دیا۔ اس لیے عوام کی خاموشی کو رضامندی یا بے حسی سمجھ لینا ایک بڑی غلط فہمی ہے۔ یہ خاموشی دراصل احتساب کا ایک غیر اعلانیہ مرحلہ بھی ہو سکتی ہے جس میں لوگ اپنے حکمرانوں اور سیاسی نمایندوں کی کارکردگی کا جائزہ لے رہے ہوتے ہیں۔ جمہوری سماج میں عوام صرف ووٹر نہیں بلکہ اجتماعی دانش اور تجربے کی حامل ایک طاقت ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی قیادت کے لیے ضروری ہے کہ وہ عوام کے اعتماد کو محض جذباتی نعروں کے ذریعے نہیں بلکہ دیانت دار طرز حکمرانی شفافیت انصاف اور عوامی خدمت کے ذریعے حاصل کرے کیونکہ بالآخر عوام کا فیصلہ ہی تاریخ کا رخ متعین کرتا ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل