Saturday, June 27, 2026
 

ایک نیا موڑ

 



ایران دنیا سے واپس جڑ گیا ہے،یہ کہنا قبل از وقت ہوگا،لیکن موجودہ صورتحال خوش آیند ضرور ہے،موجودہ حالات حوصلہ افزا ہیں۔ایران و امریکا کی جنگ سے صدر ٹرمپ کی مقبولیت بہت متاثر ہوئی ہے اور امریکا میں مڈٹرم انتخابات اکتوبر میں ہوںگے ۔ امریکا میں پیٹرول کی قیمتوں میں خاطرخواہ اضافہ ہوا ۔امریکا کی کچھ ایسی بھی ریاستیں ہیں جو سیونگ کرتی ہیں،افراط زر کے بڑھنے سے دونوں ایوانوں یعنی کانگریس اور سینیٹ میں ٹرمپ کی نمائندگی متاثر ہو سکتی ہے اور اسی بات کے اثرات ہیں کہ امریکا ٹیبل ٹاکس پر آیا اور معاہدے پر دستخط کیے اور یہ ایران کی بہت بڑی کامیابی ہے،اس بات کی مزید وضاحت اکتوبر کے بعدہوگی۔ اسی اکتوبر میں اسرائیل میں بھی انتخابات ہیں۔ اسرائیلی رائے عامہ یہ کہہ رہی ہے کہ اسرائیل کو اس جنگ میں شکست ہوئی ہے ، لہٰذا نیتن یاہو بھی انتخابات میں شکست کھائیں گے۔اسی طرح مودی بھی ہندوستان میں غیر مقبول ہو چکے ہیں، لیکن ہندوستان کی اس تبدیلی میںشاید دو یا ڈھائی سال باقی رہتے ہیں۔ پاکستان کے لیے ایران کی معرفت سینٹرل ایشیا میں تجارت کے راستے کھل رہے ہیں۔ہمیں کیسپیئن سمندر تک بھی رسائی مل سکتی ہے۔ ہم ریل کے راستے سے بھی سینٹرل ایشیا کے ساتھ جڑ سکتے ہیں۔ پاکستان کی تجارت دہائیوں سے مایوس کن رہی ہے۔اب نئی منڈیوں تک رسائی پاکستان کی ایکسپورٹ تجارت کو سو فیصد بڑھا سکتی ہے،اگر ہم اپنے لیے ایک جامع پالیسی ترتیب دیں تو۔ دفاعی اعتبار سے ایران ، سعودی عرب،قطر، ترکیہ،اومان اور پاکستان ایک طرف ہیں اور دوسری طرف ہیں اسرائیل ، ہندوستا ن اور افغانستان۔ متحدہ عرب امارات ،کویت ، بحرین اور اردن بھی دوسری طرف ہیں، لہٰذا طاقت کا ایک نیا توازن پیدا ہوتا ہے۔ اس توازن میں سوائے اسرائیل اور ہندوستان کے باقی تمام ممالک پاکستان اور ایران کے(Antagonistic) مخالف نہیں ہونا چاہیں گے۔ متحدہ عرب امارات اگر پاکستان کے خلا ف کہیں استعمال ہوا ہے تو کہیں اندورنی طور پر ہوا ہے کیونکہ بظاہر ان ممالک کا پاکستان کا مخالف ہونا ،ان کے بھی حق میں نہیں ہے۔ ان کے اور ہمارے تعلقات سرد ہونا ،نہ ہماری معیشت کے لیے اچھا ہے اور نہ ہی ان کی معیشت کے لیے،اگر کسی کو گوادر یا کراچی پورٹ سے مسائل ہیں تو وہ اپنے منفی رجحانات کا علاج کرے۔ہمارے اندرونی حالات خراب کرنے میں بیرونی ممالک ملوث تھے،مگر اب صورتحال بدل چکی ہے۔ بیرونی ممالک اب ایسا نہیں کر سکتے، اگر ہم نہ چاہیں تو۔اس پورے خطے میں سینٹرل ایشیا سے لے کر مشرق وسطیٰ تک بلیک ہول صرف ایک ہی ہے اور وہ ہے افغانستان۔اب وہ بھی سفارتی آداب کو سیکھنے کی جستجو میں ہیں کیونکہ زمینی حقائق کا اندازہ اب ان کو بھی ہو نے لگا ہے کہ پاکستان کے بغیر ان کو سمندر تک رسائی نہیں مل سکتی۔ پاکستان کو ایران کے ذریعے سینٹرل ایشیا تک رسائی حاصل ہوگی۔یہ صورتحال دیکھ کر اب طالبان بھی یہ سوچنے پر مجبور ہو جائیں گے کہ وہ افغانستان کو کب تک جنگ وجدل، منشیات، اسلحہ کے کاروبار سے چلائیں گے۔افغانستان میں عورتوں کے حقوق کی جس طرح سے پامالی کی گئی ہے، کوئی مہذب ملک او ریاست افغانستان سے روابط رکھنے کی خواہاں نہیں۔آیندہ پانچ سال افغانستان میں تبدیلوں کے حوالے سے بڑے اہم ہیں۔ پاکستان کے لیے بڑی اچھی خبر ہے کہ ایران و پاکستان کا گیس معاہدہ جس میں ایران سے پاکستان تک گیس کی رسائی کے لیے بچھائی گئی پائپ لائن کا کام ایران پر لگی پابندیوں کے باعث رک گیا تھا ،وہ اب بحال ہونے جا رہا ہے۔ یہی پائپ لائن ہندوستا ن تک جانی تھی اور یقینا جانی بھی چاہیے۔ اس گیس پائپ لائن کی باعث ہندوستان کے ساتھ ہمارا ایک معاشی تعلق بڑھے گا جو ہمارے درمیان امن کو فروغ دے گا۔ پاکستان، ایران اور ہندوستان آپس میں تجارت کر سکتے ہیں، جو پورے خطے کے لیے بہتر ثابت ہوگا، پورے خطے میں خوشحالی آئے گی۔ یہی بات چین بھی سمجھ رہا ہے کہ اس کوریڈور میں چین بھی شامل ہو سکتا ہے۔ آنے والے دس برس پاکستان کے لیے بہت اہم بلکہ فیصلہ کن ہیں۔ایک نئے انداز سے پاکستان مستحکم ہو سکتا ہے۔آزادی کے 78 برس بعدیہ ایک ایسا موڑ ہے جو ہمارا منتظر ہے۔ہمارے اندرونی اور سیاسی بحران ہیں جہاں نہ عدالتیں آزاد ہیں نہ پارلیمان ، سیاسی پارٹیاں مفلوج ، صوبوں میں ہم آہنگی نہیں ،لہٰذا ہمیں آئینی راستہ چننا ہوگا۔ آزادی کے فوراً بعد اگر اس ملک کو آئین دے دیا جاتا جیسا کہ ہندوستان میں ہوا تھا تو 1971یہ ملک دو لخت نہ ہوتا۔آزادی کے بعد یہ ملک سیاسی بحران کا شکار رہا، اس ملک کو آئین نہ مل سکا، ایسا کیوں ہوا؟ وہ اس لیے کہ جس سیاسی پارٹی نے اس ملک کی آزادی میں اہم کردار ادا کیا ،اس کی جڑیں پاکستان کے صوبوں میں مضبوط نہیں تھیں۔ ہندوستان کی بہ نسبت ہمارے حصے میں عسکری اثاثے زیادہ آئے،کیونکہ دفاعی اعتبار سے متحدہ ہندوستان میں انگریزوں کا فوکس افغان سرحدوں پر زیادہ تھا، کیونکہ انگریزوں کو ہمیشہ سے ہی سوویت یونین سے خطرہ محسوس ہو تا تھا۔ اس بات کو ماننے میں کوئی حرج نہیں کہ اس ملک کا وجود دوسری جنگ عظیم کے پس منظر میں تشکیل پایا۔اس وقت جو نئے حقائق سامنے آئے ،ان حقائق کے پیش نظر پاکستان بنا۔سرد جنگ کا زمانہ تھا، دنیا کی سپر قوتوں کا غلبہ تھا۔ پاکستان میں آمریت کا ہونا امریکا کے مفاد میں تھا۔ایک مخصوص بیانیہ ابھرا، تاریخ کی غلط تشریح کو لے کر ہم آگے چلے۔اس ملک کو آئین نہیں دیا گیا اور بنگالی ہمارے لیے درد سر بن چکے تھے، لہٰذا ان سے چھٹکارا حاصل کیا گیا۔ مغربی پاکستان میں جمہوری اقدار انتہائی کمزور تھیں،جو زرعی اصلاحات ہندوستان لے کر آیا، وہ ہم نہیں لا سکے۔ مشرقی پاکستان میں جاگیردار اور وڈیرے نہیں تھے مگر مغربی پاکستان میں تھے اور جاگیرداروں کی مجبوری تھی، اقتدار اس کے بغیر ان کا چلنا محال تھا۔ ووٹ ان کی ذاتی ملکیت تھی۔انھیں وجوہات کی بناء پر بر حیثیت ایک قوم اور سماج ارتقاء نہ ہوسکی۔آمریتوں کی بھی یہی چاہت تھی کہ اس قوم پر ان کا غلبہ رہے۔ان کو غلام بنا کر رکھا جائے۔ عوامی لیگ اور پیپلز پارٹی پاکستان کا سب سے بڑا سیاسی ارتقاء تھا۔شیخ مجیب اور ذوالفقار علی بھٹو۔ایک فاطمہ جناح کے ساتھ کھڑا رہا تو دوسرا آمر کے ساتھ۔ایک کی پارٹی کے ووٹر متوسط طبقے سے تھے اور دوسرے کی پارٹی کے ووٹر وڈیرے اور جاگیردار۔ دونوں ہی پاپولر لیڈر تھے مگر انتخابات کے جو نتائج سامنے آئے ہم نے ماننے سے انکا ر کردیا۔ پھر ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں ایک کامیابی پاکستان کویہ نصیب ہوئی کہ پاکستان کو بلاخر آئین ملا۔ بھٹو صاحب امریکا کونہیں بھائے کیونکہ بھٹو صاحب پاکستان کو بیرونی طاقتوں کے چنگل سے بچانا چاہتے تھے، آزاد کروانا چاہتے تھے۔ بھٹو صاحب نے ایٹمی پروگرام متعارف کروایا،جس کے نتیجے میں ان کو پھانسی پر لٹکایا گیا۔ان کی بیٹی اس کام کو لے کر آگے بڑھیں، حالا ت کو سمجھتے ہوئے آگے چلیں مگر وہ بھی آہنی ہاتھوں سے ماری گئیں۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ بہت بھیانک ہے اور سیاسی جماعتیں انتہائی کمزور۔ اس خطے کی تیزی سے بدلتی صورتحال میں ہمیںان تمام حقیقتوں کا ادراک کرنا ہوگا۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل