Saturday, June 27, 2026
 

مہنگائی اور انسان

 



مہنگائی صرف بازار میں قیمتیں نہیں بڑھاتی، یہ انسان کے اندر بھی بہت کچھ توڑ دیتی ہے۔ یہ صرف آٹے، چینی، بجلی اور پٹرول کا مسئلہ نہیں رہتا، یہ آہستہ آہستہ انسان کے لہجے، عادتوں، خوابوں اور رشتوں تک پہنچ جاتا ہے۔ کبھی ہم نے سوچا تھا کہ ایک وقت آئے گا جب لوگ شاپنگ مال میں گھومنے نہیں، صرف اے سی کی ٹھنڈی ہوا لینے جائیں گے؟کبھی یہ تصور کیا تھا کہ بچے کھلونے کی ضد کم اور والدین قیمت پوچھنے سے زیادہ ڈرنے لگیں گے؟ یہ وہ دور ہے جہاں آدمی بازار سے سامان کم اور پریشانی زیادہ لے کر واپس آتا ہے۔ مہینے کے آخر میں جیب خالی ہوتی تھی، اب مہینے کے شروع میں ہی دل پریشان ہونے لگتا ہے۔ مہنگائی کے اثر سے اس کی مسکراہٹ بھی مہنگی ہو جاتی ہے۔اس کا صبر کم ہو جاتا ہے۔اس کے اندر چھپی ہوئی چھوٹی چھوٹی خوشیاں مرنے لگتی ہیں۔ پہلے لوگ دکان پر جا کر اپنی پسند کی چیز پوچھتے تھے، اب سب سے پہلے قیمت پوچھتے ہیں اور پھر خاموش ہو جاتے ہیں۔یہ خاموشی صرف جیب کی نہیں ہوتی، یہ اندر ٹوٹتے ہوئے اعتماد کی آواز ہوتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں ایک درمیانہ طبقہ ہوا کرتا تھا۔ وہ طبقہ جو نہ بہت امیر تھا، نہ بہت غریب۔ جس کے پاس محدود وسائل تھے مگر عزتِ نفس تھی۔جو سال میں ایک بار بچوں کو نئے کپڑے دلا دیتا تھا، کبھی کبھار خاندان کو باہر کھانا کھلا دیتا تھا، اور مہینے میں ایک دو بار زندگی کو زندگی سمجھ لیتا تھا۔ مہنگائی نے سب سے پہلے اسی طبقے کو مارا ہے۔امیر آدمی آج بھی خواہشات پوری کر لیتا ہے، غریب آدمی آج بھی مزدوری کر لیتا ہے، مگر درمیانے طبقے کا انسان ہر روز تھوڑا تھوڑا مرتا ہے۔وہ اپنے بچوں سے نظریں چرا کر کہتا ہے: ‘‘ابھی نہیں، اگلے مہینے لے دیں گے۔’’اور یہ ‘‘اگلا مہینہ’’ کبھی نہیں آتا۔ مہنگائی کے بعد انسان حسابی ہو جاتا ہے۔ وہ بازار میں چیزیں نہیں، اپنی حیثیت تولتا ہے۔ایک وقت تھا لوگ پسند سے کھاتے تھے، اب حساب کتاب رکھ کر کھاتے ہیں۔ چائے میں چینی کم کرنا صرف ڈاکٹری مشورہ نہیں رہا، معاشی حکمتِ عملی بن چکا ہے۔ پہلے گھر میں مہمان آتے تھے تو خوشی ہوتی تھی۔ اب مہمان کی آمد سے پہلے گیس، بجلی چینی اور دودھ کا حساب شروع ہو جاتا ہے۔ مہنگائی صرف چیزوں کو مہنگا نہیں کرتی، یہ تہواروں کا ذائقہ بھی پھیکا کر دیتی ہے۔پہلے عید خوشی لاتی تھی، اب عید سے پہلے قیمتوں کی خبریں خوف لاتی ہیں۔ آپ نے غور کیا ہوگا کہ اب لوگ کم ہنستے ہیں۔ٹریفک میں غصہ زیادہ ہے، گھروں میں چڑچڑاپن زیادہ ہے، دفتر میں برداشت کم ہے۔ کیونکہ جب انسان مسلسل معاشی دباؤ میں زندہ رہے تو اس کے اندر برداشت کم ہو جاتیہے۔ ایک باپ جو سارا دن محنت کے بعد صرف اتنا سوچے کہ ’’آج بچوں کے لیے پھل لے جاؤں یا بجلی کا بل جمع کرا دوں‘‘، وہ آہستہ آہستہ جذباتی طور پر تھک جاتا ہے۔ ایک ماں جو ہر ہفتے راشن کم کرتی جائے، سالن پتلا کرتی جائے، بچوں کی فرمائشوں کو کہانیوں میں بدلتی جائے، اس کے چہرے کی مسکراہٹ بھی ایک دن بجٹ کا حصہ بن جاتی ہے۔اور بچے؟بچے سب سمجھتے ہیں۔ وہ شاید معاشیات نہ جانتے ہوں، مگر اپنے والدین کی خاموشیاں پڑھ لیتے ہیں۔ وہ جان لیتے ہیں کہ ابا آج کل بازار جاتے ہوئے زیادہ خاموش کیوں ہو جاتے ہیں۔ وہ محسوس کر لیتے ہیں کہ امی نے اپنے لیے نئی چپل کیوں نہیں لی۔مہنگائی کے بعد سب سے زیادہ خطرناک چیز ‘‘خواہشات کی موت’’ ہے۔ جب ایک قوم خواب دیکھنا چھوڑ دے تو وہ صرف زندہ رہتی ہے، ترقی نہیں کرتی۔ آج نوجوان ڈگری لینے کے بعد نوکری نہیں، صرف ‘‘کوئی کام’’ ڈھونڈ رہے ہیں۔ ان کے خواب اب بیرونِ ملک جانے، کرپٹو میں امیر ہونے یا کسی شارٹ کٹ کی تلاش تک محدود ہو چکے ہیں۔ مہنگائی صرف معیشت کو خراب نہیں کرتی، یہ اخلاقیات کو بھی متاثر کرتی ہے۔ جب حلال آمدنی سے گھر چلانا مشکل ہو جائے تو معاشرے میں بے ایمانی بڑھنے لگتی ہے، لوگ کام چوری کرتے ہیں، ناپ تول میں کمی کرتے ہیں، رشوت کو ‘‘مجبوری’’ کہنا شروع کر دیتے ہیں۔ایک معاشی بحران آہستہ آہستہ اخلاقی بحران میں بدل جاتا ہے۔ لوگ دوسروں کی خوشی برداشت نہیں کر پاتے۔سوشل میڈیا پر کسی کی نئی گاڑی، نیا گھر یا بیرونِ ملک تصویر دیکھ کر دل سے دعا نہیں نکلتی، اندر کہیں حسرت اور تھکن جنم لیتی ہے۔یہ وہ مقام ہے جہاں مہنگائی صرف جیب پر نہیں، انسان کی روح پر اثر ڈالنا شروع کر دیتی ہے۔ اور سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ ہم نے مہنگائی کو نارمل ماننا شروع کر دیا ہے۔اب جب پٹرول مہنگا ہوتا ہے تو لوگ صرف میمز بناتے ہیں۔ بجلی کا بل آئے تو تھوڑی دیر غصہ کرتے ہیں، پھر خاموش ہو جاتے ہیں۔ ہم اجتماعی طور پر معاشی تکلیف کے عادی ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ عادت خطرناک ہے۔ کیونکہ انسان جب مسلسل دباؤ میں جینا سیکھ لے تو وہ انصاف مانگنا بھی چھوڑ دیتا ہے۔لیکن اس ساری تاریکی میں ایک حقیقت اب بھی زندہ ہے۔ ہمارے ملک کا عام انسان ابھی مکمل طور پر نہیں ٹوٹا۔ آج بھی ایک مزدور شام کو گھر جاتے ہوئے بچوں کے لیے دو ٹافیاں لے جاتا ہے۔ آج بھی ایک ماں اپنے حصے کا کھانا بچوں کی پلیٹ میں ڈال دیتی ہے۔ آج بھی لوگ قرض لے کر رشتے نبھاتے ہیں، بیماری میں ساتھ کھڑے ہوتے ہیں، اور مشکل وقت میں ایک دوسرے کو سہارا دیتے ہیں۔ یہی اس معاشرے کی اصل طاقت ہے۔ مہنگائی انسان کو تھکا سکتی ہے، مگر اگر معاشرے میں ہمدردی باقی رہے تو انسان مکمل طور پر بے حس نہیں ہوتا۔ ہمیں شاید اب صرف معاشی اصلاحات کی نہیں،اپنے رویے بدلنے ہوں گے۔ معاشی طور پر کمزور اور غریب آدمی کا مذاق اڑانے کے بجائے اس کی عزت کرنی ہوگی۔ٹپ دینے ہوئے یہ سوچنا ہوگا کہ سامنے والا بھی مہنگائی زدہ ہے۔ مہنگائی کے اثرات کا سامنا کرنے والا انسان پہلے جیسا نہیں رہتا۔وہ کم بولتا ہے، زیادہ سوچتا ہے۔ وہ حساب زیادہ کرتا ہے، خواب کم دیکھتا ہے۔ وہ جیتا تو ہے، مگر ہر دن کچھ نہ کچھ اپنے اندر ہارتا رہتا ہے۔ شاید کسی قوم کا سب سے بڑا المیہ یہی ہوتا ہے کہ اس کے لوگ زندہ رہیں مگر آہستہ آہستہ زندگی محسوس کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل