Saturday, June 27, 2026
 

عالمی امن کا ضامن

 



یہ دنیا ہے ہی کچھ الٹ پلٹ سی، جوبرائی کو اچھائی اوراچھائی کو برائی بنا دیتی ہے اوریہی گلہ مرشد کو بھی تھا کہ کی وفا ہم سے تو غیر اس کو جفا کہتے ہیں ہوتی آئی ہے کہ اچھوں کو براکہتے ہیں لیکن ہمیں دنیا کی پروا نہیں ہے، بھاڑ میں جائے یہ دنیا ،اس کے مالی موالی، اس کے طرف دار، تابعدار اورنمک خوار ۔ اورہم اس کی پروا کریں ہی کیوں ؟ دنیا نے ہم کو دیا کیا دنیا سے ہم نے لیا کیا اس لیے بات انصاف بلکہ تحریک انصاف کی کریں گے اورڈنکے کی چوٹ پر کریں گے ۔ چلیے! ہم آپ سے پوچھیں گے کہ وہ کون ہے یا کیا ہے جس کی وجہ سے یہ دنیا امن وآشتی کا گہوارہ ہے؟ جس کے دم قدم سے ساری رونقیں ہیں، زندگی ہے، خوشیاں ہیں اورہرطرف محبت ہی محبت ، امن ہی امن اورآشتی ہی آشتی ہے، ہمارے بس میں ہوتا تو ہم اسے اقوام متحدہ ، دولت مشترکہ، عالمی امن کاضامن بلکہ ساری دنیا کا بادشاہ یا وزیر اعظم بنادیتے۔ وزیراعظم نہ سہی وزیر، مشیر یا معاون ضروربنادیتے ۔لیکن پھروہی افسوس کہ ناہنجار دنیا اوراس کے الٹ پلٹ لوگ ہم سے اتفاق نہیں کریں گے ۔ وہی بات کہ ہوتی آئی ہے کہ اچھوں کو برا کہتے ہیں اوریہ اچھا بلکہ بہت اچھا اوراچھوں کے اچھا ،جس کاذکر کرناچاہتے، مدح سرائی کرنا چاہتے ہیں، اس کا نام نامی اوراسم گرامی ہے ’’جھوٹ‘‘ ۔کیوں بہک گئے نا آپ۔ پھر وہی بات کہ ہوتی آئی ہے کہ اچھوں کو برا کہتے ہیں لیکن اگر تھوڑی دیر کے لیے اپنی کھوپڑی کو زحمت دیں جو اگرچہ عدم استعمال کی وجہ سے گل سڑ نہ چکی ہو تو یہ سارے شہروں کے بازاروں میں گلیوں میں گلیاروں میں، دفتروں میں مجلسوں میں ، مطلب یہ کہ ہرجگہ جو یہ امن آشتی نظر آرہی ہے، لوگ ایک دوسرے سے ہنس بول رہے ہیں، گلے مل رہے ہیں، واری صدقے ہورہے ہیں، کس کے دم قدم سے ہے ؟ بلکہ ہم تو یہاں تک کہتے ہیں کہ یہ سب کچھ ہی نہیں بلکہ یہ دنیا ہی اب تک موجود نہ ہوتی، اگر عالمی امن کاضامن ’’جھوٹ‘‘ موجود نہ ہوتا، پہلے ہی سب لوگ آپس میں کٹ مرچکے ہوتے ۔ چلئیے ابھی آپ کے سامنے ثابت کرتے ہیں۔ ایسا کیئجے کہ گھر سے نکلتے ہوئے قسم کھائیں کہ جھوٹ نہیں بولیں گے، صرف سچ بولیں گے اورسچ کے سوا کچھ نہیں بولیں گے ۔ سب سے پہلے تو دروازے سے نکلتے ہی آپ کا اپنے پڑوسی کے ساتھ اگر لات یا ہاتھ و گریبانی، گالم گلوچ نہیں تو کم سے کم ’’یویو اورمی می‘‘ تو ضرور ہوجائے گی۔ آگے بڑھیں گے تو نکڑ کے دکاندار کی بے ایمانیاں یاد آجائیں گی اورپھر۔۔۔ آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا؟ شام کو آپ گھر کے بجائے اسپتال یاحوالات میں پہنچ چکے ہوں گے اورہاں! آپ گھر سے نکلیں گے کیسے ؟اگر آپ نے سچ بولا تو پہلی جنگ عظیم تو اپنے گھر میں ہی برپا ہوجائے گی، اگر آپ اورآپ کی بیوی دونوں نے سچ بولا تو ؟ ہم دعوے سے کہہ سکتے ہیں کہ اگر آج اسی وقت کسی جادو گر نے کوئی منتر پڑھ کر یا جادو پھونک کر سارے لوگوں کا منہ جھوٹ کے لیے بند کردیا تو ایک حشر برپا ہوجائے گا۔ یہ ہنستے بولتے لوگ ایک دوسرے سے شیرو شکر لوگ ،کلی، پھول وبہار اورگل وگلزار لوگ اچانک خاردار، زیربار اورشعلہ بار ہوجائیں گے، ہرطرف ،مونہوں اورزبانوں سے شعلے نکلنا شروع ہوجائیں گے ، ہرطرف ہاتھ وگریبانی، لات مکے بلکہ چاقو چھریاں تک چلنے لگیں گی ، ڈزا ڈزکی آوازیں بھی سنائی دے سکتی ہیں ، شام تک نہ اسپتالوں میں کوئی جگہ باقی رہے گی نہ حوالاتوں میں ۔ پشتو میں ایک کہاوت ہے کہ بعض سچ گالی ہوتے ہیں ۔ اب آپ خود انصاف بلکہ تحریک انصاف سے کام لیں کہ آپ کسی کو غلیظ گالی دیں گے اور وہ آپ کو کچھ نہیں کہے گا بلکہ ’’کہنے‘‘ کے بجائے ’’کرنے‘‘ پر اتر آئے گا۔ اس پر چھوٹی سی حکایت ہے، کہتے ہیں کہ ایک بیوہ کا بیٹا اکثر مار کھا کر گھر آتا تھا۔ بیوہ ماں نے ایک دن پوچھا ، بیٹا لوگ تجھے روزکیوں مارتے ہیں؟ بیٹے نے کہا، ماں میں سچ کہتا ہوں اس لیے ۔اس پر ماں نے افسوس کااظہار کرتے ہوئے کہا، یہ کیسے برے لوگ ہیں جو تمہیںسچ کہنے پر مارتے ہیں، سچ تو بڑی اچھی چیز ہے، ہرکسی کو ہمیشہ سچ بولنا چاہیے ۔ بیٹے نے کہا، ماں یہ سچ ہے ہی ایسی کڑوی چیز۔ لوگ اسے پسند نہیں کرتے ۔ اگر میں نے آپ سے بھی سچ کہا تو آپ بھی مجھے ماریں گی۔ ماں نے کہا، ناں بیٹا ناں، بھلا میں سچ کہنے پر تمہیںکیوں ماروں گی۔ تم سچ بولو۔ بیٹے نے کہا، ماں میرے باپ کو تو مرے ہوئے کئی سال ہوگئے ہیں تو آپ اپنا بنائو سنگھار کس لیے کرتی ہو۔ لڑکے کو انجام کا اندازہ تھا، اس لیے وہ پہلے ہی دروازے کی طرف دوڑلگا چکا تھااورماں کی پھینکی لکڑی دروازے پر پڑ گئی ۔ ویسے سچ کے بارے میں بھی لوگوں نے ادھر ادھر کی فضول باتیں کی ہیں مثلاً سب سے بڑا جہاد کسی جابر سلطان کے سامنے سچ کہنا ہے ۔ اب جابر سلطان کاتو پتہ نہیں لیکن سب سے مشکل کام کسی شوہر کااپنی بیوی کے سامنے سچ کہنا ہے اوراس سے بھی زیادہ مشکل کام اپنے آپ کے سامنے سچ کہنا ہے ۔ چنانچہ ہم کبھی بھول کر بھی اپنے آپ کو سچ نہیں کہتے، جب بھی کہتے ہیں، اپنے آپ سے جھوٹ ہی کہتے ہیں کہ اسی میں عافیت ہے ۔ ایک دومرتبہ ہم نے یہ غلطی کی تھی اورپھر مدتوں ہم اپنے آپ سے ناراض رہے ۔ چنانچہ اب جب بھی بولتے ہیں جھوٹ ہی بولتے ہیں اورجھوٹ کے سوا کچھ نہیں بولتے ۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل