Saturday, June 27, 2026
 

امریکا ایران معاہدہ اور مستقبل کے خدشات

 



امریکا ایران تاریخی معاہدہ دونوں ممالک سمیت عالمی دنیا اور بالخصوص مڈل ایسٹ کی سیاست اور امن کے لیے کافی اہمیت رکھتا ہے۔اس معاہدے کا ہونا امن کی ایک بڑی تصویر کو پیش کرتا ہے ۔پاکستان سمیت چین ،روس، ترکی ،قطر، سعودی عرب نے اس عمل میں ثالثی کا کردار ادا کیا، وہ بھی خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ اس معاہدہ کی پایہ تکمیل میں پاکستان کی سیاسی اور بالخصوص عسکری قیادت کے کردار کو بھی کسی طور پر نظرانداز نہیں کیا جاسکتا اور امن معاہدے کی تقریب کی میزبانی کا اعزاز بھی پاکستان کو ملا اور پاکستان کے کردار کو عالمی دنیا سمیت خود امریکا اور ایران نے پزیرائی دی ہے ۔ لیکن ایک طرف یہ امن معاہدے کی خوشی ہے تو دوسری طرف آج بھی اس معاہدے کے باوجود سب میں بہت سے سوالات اور خدشات ہیں کہ اس امن معاہدے کا مستقبل کیا ہوگا۔ دونوں ممالک کے لیے یہ معاہدہ کرنا آسان کام نہیں تھا۔ اس معاہدہ سے فوری طور پر عالمی معیشت،علاقائی استحکام اور جوہری عدم پھیلاواقتصادی فوائد سامنے آسکتے ہیں ۔اگلے ساٹھ دن اس معاہدہ کے مستقبل کا فیصلہ کریں گے کہ حالات کیا رخ اختیار کریں گے۔ اب تک کے جو معاملات ہم دیکھ رہے ہیں اس میں فی الحال بہت سے سوالات ہیں ۔مثال کے طور پر ابنائے ہرمز، ایران پر امریکا کی جانب سے جو پابندیاں ہیں ان میں نرمی کا حتمی ٹائم فریم یا امریکا جو ایران کے جوہری پروگرام پر پابندیاں دیکھنا چاہتا ہے یا جو افزودہ یورنیم کا مستقبل کیا ہوگا اس پر بھی اہم سوالات ہیں ۔ اسی طرح خاص طور پر کیا دونوں اطراف سے یعنی اسرائیل اور حزب اللہ جو سخت گیر مزاج رکھتے ہیں اس امریکا اور ایران کے ممکنہ معاہدہ کو قبول کرلیں گے یا ان کی مزاحمت ایک دوسرے کے خلاف جاری رہے گی۔ دوسری طرف ایران enrichmentکا حق چھوڑنے کو اپنی ریڈ لائن قرار دیتا ہے جب کہ امریکا صفر enrichment یا سخت تصدیق چاہتا ہے ۔خود ایران میں جو داخلی مزاحمت ہے اسے بھی ایران کی موجودہ قیادت کو سامنا ہے اور سپریم لیڈر کی منظور ی آسان کام نہیں ہوگا۔ ایران سپریم لیڈر کے بقول انہو ں نے صدر کی درخواست پر معاہدہ کی منظوری دی ہے اور اگر امریکا اس پر عملدرآمد نہیں کرے گا تو ہمارا موقف امریکا سے مختلف ہوگا۔ اگر اس معاہدے کے برعکس حالات خراب ہوتے ہیں تو پھر دنیا میں یا عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوگا، اہم مسئلہ اس معاہدے کے باوجود امریکا اور ایران کے درمیان اعتماد کی کمی کا بھی ہے ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ عملا ایران نے واضح طور پر کہا ہے کہ معاہدے کی کامیابی کا بڑا انحصار امریکا کے کردار پر ہوگا۔دوسری طرف ہمیں اس معاہدے کے تناظر میں جو نئی صورتحال بنی ہے اس میں امریکا اور اسرائیل کے تعلقات میں جو بگاڑ دیکھنے کو ملا ہے اس کی نئی نوعیت کیا ہوگی۔ یہ کہا جارہا کہ اس معاہدے کے اگلے ساٹھ دنوں میں اس کی تمام تر تکنیکی تفصیلات سامنے آجائیں گی اور اگر ان میں مثبت تبدیلی کا عمل ہوگا تو ایران پر پابندیوں کا خاتمہ،اور علاقائی سطح پر بات چیت کا نیا راستہ کھلے گا۔سب سے بڑا خدشہ enrichment and verificationپر ناکامی پر بات چیت کی ناکامی ہوسکتا ہے ۔ بعض عالمی ماہرین کے بقول اگر اس ڈیل میں اسرائیل اور حزب اللہ نہیں ہیں تو اس کی کامیابی کے بارے میں فوری طور پر کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا کیونکہ اسرائیل بھی جنگ کا اہم حصہ ہے جسے نظر انداز کرنا آسان نہیں ہوگا۔ خود یورپی یونین کے بقول اگر ایران اپنے اوپر لگائی گئی پابندیوں کا خاتمہ چاہتا ہے تو اس کو اپنے طرز عمل کو تبدیل کرنا ہوگا اور عالمی دنیا کے تحفظات کو دور کرکے ہی وہ اپنے لیے بہتر حالات پیدا کرسکتا ہے ۔ کیونکہ ایران کی جانب سے یہ کہنا کہ اس معاہدے کا مطلب یہ نہیں کہ ہم امریکی اور اسرائیلی جرائم کو بھول جائیں گے یا ان کو معاف کردیں گے مزید معاملات میں تلخی کو پیدا کرسکتا ہے ۔اسی طرح ایک طرف امریکا اور ایران معاہدہ ہورہا تو دوسری طرف امریکی نائب صدر کے بقول ابھی بھی اس معاہدے کی بہت سی تفصیلات آنا باقی ہے۔ یعنی یہ اس ابہام کو پیدا کرتا ہے کہ جو معاہدہ ہونے جارہا ہے وہ مکمل معاہدہ نہیں بلکہ اگلے کچھ عرصے کی بات چیت سے بہت کچھ نیا سامنے آئے گا اوردیکھنا ہوگا کہ اس کی دونوں اطراف سے قبولیت کیا ہوگی ۔ لیکن اچھی بات یہ ہے اس جنگ کے نتیجہ میں ہم نے عالمی سفارت کاری کی ایک نئی دنیا دیکھی ہے ۔جنگ کے بعد جو ناکامی ہوئی اس کے بعد چاروں اطراف سے ثالثی اور سفارت کاری کی آوازوں نے مسائل کو بات چیت کی مدد سے حل کرنے پر زور دیا۔ یہ جو کچھ ہم امن معاہدے کی صورت میں دیکھ رہے ہیں اس کا بڑا کریڈیٹ ہی سفارت کاری پر مبنی پالیسی اور حکمت عملی کو جاتا ہے ۔اب مسائل کے حل کو جنگوں کی بنیادوں پر حل کرنے کا دور گیا اور اب وقت دنیا کی سیاست میں سفارت کاری پر مبنی جنگ کا ہے ۔ اس لیے اگر ان حالات میں امریکا اور ایران معاہدے کی صورت میں ہم نے کوئی امن کا فریم ورک طے کرلیا ہے تو یہ اچھی بات ہے اور اسی بنیاد پر جو مسائل رہ گئے ہیں اس کا علاج بھی تلاش کیا جاسکتا ہے ۔لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ سب مل کر اس پر اتفاق کریں کہ ہم نے جتنے بھی تنازعات ہیں ان کا علاج سیاسی بنیادوں پر سیاسی حکمت عملی اور بات چیت کی مددسے حل کریںگے ۔ اسی طرح وہ قوتیں جو اس ماہدے کی قبولیت سے انکاری ہیں یا اس کو مستردکررہی ہیں ان کے ساتھ بھی عملی طور پر بات چیت اور اعتماد سازی کے ماحول کو پیدا کرنا ہوگا۔کیونکہ اگر مفاہمت اور امن کی سیاست میں دنیا کے مختلف ملکوں میں تقسیم ہوتی ہے یا برقرار رہتی ہے تو پھر جنگوں کی سیاست کا خاتمہ آسانی سے ممکن نہیں ہوگا۔ اس معاہدے کی کامیابی اسی صورت میں ممکن ہوگی جب ہم جنگ کو بنیاد بنانے کی بجائے امن اور ایک دوسرے کی خود مختاری اور سلامتی کو تسلیم کریں۔خاص طور پر بڑے طاقت ور ممالک کو چھوٹی دنیا کے ممالک کی خود مختاری کو قبول کرنا ہوگا۔ یہ بات بھی اہم ہے امریکا اور ایران اس معاہدے کو اپنی اپنی دنیا میں کیسے پیش کرتے ہیں اور اگر وہ اس معاہدہ کو ایک دوسرے کے خلاف جنگ میں فتح اور شکست کے طور پر پیش کریں گے تو اس سے حالات میں تلخی آئے گی ۔ کیونکہ اس طرز کے معاہدوں میں فتح اور شکست کے مقابلے میں ون ون صورتحال بنائی جاتی ہے اور تصویر پیش کی جاتی ہے کہ ہم نے تمام تر معاملات کو بات چیت اور جمہوری یا مفاہمت کی حکمت عملی سے کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر حاصل کیے ہیں۔لیکن اگر اس ڈھول کو پیٹنا ہے کہ ہم نے اس جنگ میں امریکا یا ایران کو شکست دی ہے تو یہ معاہدہ آگے نہیں بڑھ سکے گا۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل