Loading
ابتدائے دنیا سے لے کر تمام زمانوں کے دوران سوجھ بوجھ،فہم و فرست،دانائی اور شعور اپنی انسانی صفات کو ہر انسان میں دیکھنے کا متمنی رہا ہے ،جب کہ دوسری جانب عقل و خرد کی مخالف قوتیں انسانی شعور سے دوری پر ہی کمربستہ رہی ہیں،عقل و خرد کا انسانی ذہنی صلاحیتوں میں اضافے کی خواہش کو ہمیشہ زمانے کی نادیدہ قوتوں نے ملیا میٹ کرنے کی کوشش کی ہے۔
جس کی پاداش میں انسانی ذہنی صلاحیت اور تہذیب اب تک اپنے شعور کی فراہمی کی رکاوٹ کے اس دکھ اور تکلیف میں مبتلا ہے ،جس پر صاحب نظر اب تک یا تو نوحہ کناں ہیں یا اس خانمہ خرابی پر صرف ماتم کر تے رہنے پر مجبور کر دیے گئے ہیں،اس مرحلے پر بھارت کے غیر معروف شاعر عبیدالرحمان کا یہ شعر بر محل لگتاہے کہ۔
نکھرنا عقل و خرد کا اگر ضروری ہے
جنوں کی راہبری میں سفر ضروری ہے
تاریخ کے تناظر میں ہم اگر ماضی کے زمانوں کی بات کو نظر انداز کر بھی دیں تو عقل و خرد کے انسانی شعور کے زاویئے یا معنی و مطالب کو ہم آج کی جدید اور ترقی یافتہ کہلانے والی دنیا میں بھی تبدیل نہیں کر سکتے،یہ عقل و خرد کے شعور کی وہ طاقت ہے جو زمانے کے منفی تھپیڑے کھانے کے بعد بھی انسانی شعور کو بڑھانے کی مثبت سوچ کے ساتھ تواناکھڑی نظر آئے گی۔
زمانہ اپنے زمان و مکان کے مطابق اپنی سبک رفتار جاری تو رکھتا ہے مگر اس کے درمیان یہ سوال آج تک موضوع بحث بنا ہوا ہے کہ زمانے میں ہونے والی ترقی کے ساتھ ساتھ کیا انسانی سماج اپنے عقل و خرد کے رجحانات کو بڑھا سکا ہے یا کہ عقل و خرد کے زاویئے اور سوچ زمانے کے ہم رکاب نہیں ہوئے تو کیونکر نہیں ہو سکے،کیا عقل و خرد کو سرمایہ داری کی ترقی ہڑپنا چاہتی ہے یا کہ عقل و خرد کی مثبت سوچ کو مذہب غٹکنا چاہتا ہے ،یہ ہمارے آج کے عہد کی وہ مشکلات ہیں جس سے اہل نظر نکلنا بھی چاہتے ہیں مگر پھر کسی نہ کسی مرحلے پر وہ زمانہ سازی کی روایتوں میں خود کو بے بس سمجھ کر عقل و خرد کی بلند سطح پر پہنچنے کی کوشش کو چھوڑ دیتے ہیں۔
یہ کیوں ہوتا ہے اور کیونکر زمانے کے اس منفی رجحان سے چھٹکارا پایا جا سکتا ،یہ آج کا وہ اہم موضوع ہے جس پر بار بار غور ہونا بھی چاہییے اور اس کے عمل پذیری کی دشواریوں پر کھل کر اظہار بھی کیا جانا چاہیے،کیونکہ جب تک اظہار کے ذریعوں کو آزاد فضا میں سانس لینے نہیں دیا جائے گا ۔اس وقت تک زمانے کی شعوری سمت میں فراوانی کا پیدا ہونا مشکل امر ٹہرے گا۔
آج کی بے ہنگم اور سرمایہ داری کے بل بوتے پر چلنے والی دنیا کی معاشی اور سیاسی قدروں میں جدید ترقی کے باوجود کیونکر عام انسان کی سیاسی و معاشی کے ساتھ علمی پسماندگی بر قرار ہے جب کہ دوسری جانب عقل و خرد کو سماج کی بنیادی ضرورت کے خواہاں اہل نظر ان منافع بخش سرمایہ داروں کے سامنے بے بس نظر آتے ہیں۔
عام سماجی فرد میں عقل و خرد کی ضرورت کیا سرمایہ دارانہ اور مذہبیت پسندوں کے لیے نقصان کا باعث ہے یا کہ مذہبی اور سرمایہ دار طبقہ نہیں چاہتا کہ عقل و خرد کے شعوری زاویے عام فرد کے سیاسی مذہبی ،سماجی شعور کو وا کریں؟ان تمام سماجی الجھنوں کا حل کیسے اور کس طرح تلاش کیا جائے۔
یہ آج کے سماج کا وہ ضروری سوال ہے جس کو علم و فکر کے زاویوں کے تحت حل ہونا چاہیے ،وگرنہ سماج میں ترقی کرتی ہوئی ٹیکنالوجی انسانی حالات کار اور شعور فراہم کرنے کے مقاصد میں ناکام ہی ہوتی دکھائی دے گی،اس مقام پر یہ تعین کرنا ضروری نہیں کہ کون اس سماجی خانمہ خرابی کا اصل ذمے دار ہے،البتہ کچھ سماجی رویے اور علم و فکر سے دوری کے وہ اشارے ضرور زیر بحث لائے جا سکتے ہیں یا یہ سوچ کہ سماج کی لاعلمی یا لاتعلقی اور غور وفکر کرنے کی صلاحیت سے دوری کیا مشترکہ مسئلہ تو نہیں؟جن کی بنا پر سماج کے عام فرد میں سوچنے سمجھنے کی علمی فکر دم توڑ رہی ہے۔
عالمی طور سے جب دنیا کے ترقی یافتہ سمجھے جانے والے افراد میں بھوک بلک رہی ہو،رہنے کا مناسب بندوبست نہ ہویا انصاف کی بنیادی فراہمی رک جائے یا روک دی جائے تو اس کی ذمے دار کسی بھی ریاست کا وہ نظام ہوتا ہے جس کے تحت ریاست چلائی جا رہی ہے،دنیا میں یکساں انصاف کی فراہمی میں سب سے بڑی رکاوٹ کسی بھی ریاست کی عدلیہ اور قانون پر مکمل عملداری کا نہ ہونا قرار پاتا ہے۔
دنیا کی پیشتر ریاستیں سمجھتی ہیں کہ سرمایہ داری کی جدید ترقی ہی عام فرد کی بھوک و پیاس،غربت کا خاتمہ اور معاشی ناہمواری کو مٹانے کے لیے کافی ہیں،جب کہ ان سرمایہ دار ریاستوں میں افراد کی سیاسی معاشی اور سماجی پابندیوں کے وہ دیو ہیکل طریقے سرمایہ دار ریاستوں نے ایجاد کر رکھے ہیں کہ جو قومی سلامتی کے جھوٹے اور پر فریب نعروں میں ریاست کے جبر کو چھپانے کا کام کررہے ہوتے ہیں۔
دنیا کی سرمایہ دار ریاستوں میں علم و تحقیق ایک خاص طبقے کے لیے مختص کرکے عام فرد کے عقل و خرد کے زاویوں کو جدید تعلیم کے نظام کی زنجیروں میں اس طرح جکڑ رکھا ہے کہ عام فرد تحقیق و جستجو کے وہ سماجی راستے نہ تلاش کرے جن سے سماجی برتائو کی بہتری ممکن ہوسکے یا سماجی رویوں میں اخلاقی برتری کے سبب برداشت در گزر کا راستہ نکلے اور سماج اپنے انسانی رویوں میں عقل و خرد کے شعور کا راستہ اپنائے۔
سرمایہ داروں کی ان ہولناکیوں کو توانا کرنے میں سب سے زیادہ ان منافع بخش سرمایہ داروں اور اعلی طبقات کا سب سے بڑا حلیف یا مدد گار وہاں کا مذہبی طبقہ ہوتا ہے جو مذہب کی آڑ میں ناجائز منافع سے کمائے جانے والے پیسے یا دولت کو مذہبی چادر پہنا کر عام فرد میں مذہبی تاویلات پیش کرکے منافع بخش افراد کی لوٹ کھسوٹ کی دولت کو مختلف حیلے بہانوں سے جائز قرار دے کر تمام ناجائز دولت کے رسیائوں کو مذہبی رسم و روایات کی فرسودہ رسموں کے اپنانے میں انھیں مصنوعی نجات دلواتا ہے۔
آپ اگر ایشیا اور خاص طور پر برصغیر کی سیاسی،معاشی اور سماجی صورتحال کا بغور مطالعہ کریں گے تو نظر آئے گا کہ سرمایہ داروں کا یہ حلیف مذہبی طبقہ دراصل اپنے مخصوص مفاد کے لیے سادہ اور عام فرد کے شعور کو مذہب کے فرسودگی میں جکڑ کر اس کو عقل و خرد کے زاویوں سے دور لے جائے گا،کیونکہ مذہبی طبقے کا سرمایہ دارانہ مفاد ہی ناجائز دولت کمانے والوں کو لالچی بنانے اور عام فرد کو عقیدت پسند رکھنے میں ہے۔
اس پوری بحث کے دوران یہ بات تو بہت واضح طور سے سامنے آچکی ہے کہ جب تک دنیا میںعام افراد کی لوٹ کھسوٹ کے سرمایہ دارانہ نظام اور مذہب پرستوں کا اتحاد قائم رہے گا کم از کم اس وقت تک عقل و خرد کی رسوائی ہوتی رہے گی،علم دھتکارا جاتا رہے گا،سماجی شعور ڈگریاں حاصل ہونے تک محدود ہو جائے گا اور سماج کے رویے مستقبل میں کورئیر کے ذریعے گھروں پر آن لائن منگوائے جائیں گے،یہی وہ نوحہ ہے جس پر عقل و خرد زمانے سے رو رہا ہے اوراب تو صرف ماتم یا سینہ کوبی کر رہا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل