Saturday, June 27, 2026
 

آبنائے ہرمز…خدشات اور توقعات

 



ایران اور امریکا کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد آبنائے ہرمزمیں حالات ایک بار پھر کشیدہ ہونے کی اطلاعات مل رہی ہیں۔اگلے روز میڈیا کی اطلاعات سے پتہ چلتا ہے کہ امریکا اور ایران میں ایک دوسرے کے خلاف بقول ان کے جوابی حملے کیے ہیں۔ بہرحال میڈیا کے مطابق برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (یو کے ایم ٹی او) کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ایک آئل ٹینکر کو نامعلوم پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا ہے۔ یو کے ایم ٹی او کے مطابق ٹینکر کے کپتان نے اطلاع دی ہے کہ جہاز کو ایک نامعلوم پروجیکٹائل آ کر لگا، جس کے نتیجے میں جہاز کے برج (بریج) کو نقصان پہنچا۔ادارے نے مزید بتایا کہ واقعے میں جہاز کا تمام عملہ محفوظ ہے۔ ادھر ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے ایرانی ساحلوں پر بقول ان کے امریکی حملوں کے جواب میں خطے میں امریکی فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے تاہم ایرانی پاسداران انقلاب نے اہداف کے مقام، حملے کی نوعیت یا ممکنہ نقصانات کے بارے میں کوئی تفصیلات جاری نہیں کیں۔ اس سے پہلے امریکا نے آبنائے ہرمز میں ایران کی جانب سے ایک تجارتی جہاز کو نشانہ بنانے پر ایران کے میزائل اور ڈرون اسٹوریج کے مقامات اور ساحلی ریڈار تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔اس کے بعد ایران کی پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی حملے کا جواب ضرور دیا جائے گا اور اس جارحیت کو بغیر ردعمل کے نہیں چھوڑا جائے گا۔ ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق آئی آر جی سی نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ اس کی بحری اور فضائی افواج نے سیریک جزیرے پر کیے گئے امریکی حملے کو ناکام بنا دیا ہے اور اس کے اثرات کو غیر مؤثر کر دیا۔ بیان میں کہا گیا کہ ہم واضح کرتے ہیں کہ اس جارحیت کا جواب ضرور دیا جائے گا اور ہمارا ردعمل ہماری مرضی کے وقت اور مقام پر تیز اور فیصلہ کن ہوگا۔آئی آر جی سی نے مزید خبردار کیا کہ اگر امریکا نے کوئی نئی حرکت کی تو اسے سخت جواب دیا جائے گا۔ ابتدائی طور پر اس حوالے سے حتمی طور پر تو کچھ نہیں کہا جا سکتا تاہم میڈیانے جو اطلاعات دی ہیں‘ اس سے یہ تاثر ضرور پیدا ہوا ہے کہ آبنائے ہرمز میں صورتحال کشیدہ ہے اور اس حوالے سے بروقت اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ ادھر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران سے متعلق کہا ہے کہ تشدد کا جواب تشدد سے دیا جائے گا۔جے ڈی وینس نے ایک بیان میں کہا کہ اگر ایران کو اس بات پر کوئی اختلاف ہے کہ مفاہمت کی یادداشت (MOU) پر کس طرح عمل درآمد کیا جا رہا ہے؟ تو وہ فون اٹھا کر بات کر سکتے ہیں۔ اس سے پہلے کارگو جہاز پر ڈرون حملے کے جواب میں امریکا کا ایران پر فضائی حملہ کیا تھا۔سینٹرل کمانڈ کے مطابق آبنائے ہرمز میں ایران کی جانب سے ایک تجارتی جہاز پر حملے کے جواب میں کارروائی کی گئی۔یہی نہیں بلکہ بحرین نے ایرانی ڈرون حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشیدگی میں کمی کے درمیان حملے جاری رکھ کر امن کی کوششوں کو نقصان پہنچانے کا ذمے دار ایران ہے۔ بحرینی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق حکومت نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ملک کی سلامتی اور خودمختاری پر کسی بھی قسم کے حملے کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔بحرینی سرکاری میڈیا کے مطابق بحرین اپنے دفاع کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کا حق رکھتا ہے۔ سوئزرلینڈ میں مفاہمتی یادداشت پر دستخطوں کے بعد آبنائے ہرمز کھولنے کے اعلانات سامنے آئے تھے۔ عالمی معیشت پر اس کے خوشگوار اثرات پڑے ہیں۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی آئی ہے تاہم اگلے روز آبنائے ہرمز میں جو کچھ ہوا اس سے صورت حال سنگین ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکی حملے ایران اور امریکا کے درمیان مفاہمتی یادداشت کی صریح خلاف ورزی ہیں۔ایرانی وزارتِ خارجہ کے مطابق امریکا نے ایرانی ساحلی نگرانی کی تنصیبات کو نشانہ بنا کر معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایرانی افواج نے امریکی حملوں کے ردِعمل میں امریکا سے منسلک اہداف پر دفاعی کارروائیاں کیں۔ایران نے خلیجِ فارس کے جنوبی ساحلی ممالک کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خلیج کے جنوبی ساحل پر واقع ممالک ہمسائیگی کے اصولوں کی پاسداری کریں اور اپنی سر زمین ایران کے خلاف کسی بھی حملے کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے مطابق ایسے اقدامات کے تمام نتائج کی ذمے داری امریکا اور ان تمام فریقین پر عائد ہو گی جو کسی بھی شکل میں ایران کے خلاف کارروائیوں میں معاونت کریں گے۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے صاف الفاظ میں کہا کہ ہمارے دفاعی ذرائع کسی سودے بازی یا رعایت کا موضوع نہیں بن سکتے۔ تہران سے جاری بیان میں اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران کی عسکری صلاحتیں اس کے حق دفاع کی ضمانت ہیں۔انھوں نے کہا کہ ایران کی عسکری صلاحیتوں پر خلیج تعاون کونسل (جی سی سی)کے تحفظات کو مسترد کرتے ہیں۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ ایران کے دفاعی ذرائع کسی قسم کی سودے بازی یا رعایت کا موضوع نہیں بن سکتے۔ پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی میں ٹیلی فونک رابطہ بھی ہوا ہے ۔دفتر خارجہ کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے گفتگو میں اسحاق ڈار نے خطے کے امن و استحکام کے حصول کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔ ترجمان کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امن عمل کو آگے بڑھانے میں پاکستان کی مسلسل حمایت کو سراہا، ایرانی عملے اور ماہی گیروں کی محفوظ وطن واپسی پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔بتایا گیا ہے کہ اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے باہمی رابطے برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔ سوئزرلینڈ مذاکرات کا دوسرا راؤنڈ بھی شروع ہونے والا ہے۔ اس سے قبل آبنائے ہرمز میں کشیدگی پیدا ہونے کا مطلب یہ ہے کہ بعض قوتیں مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کرنا چاہتی ہیں۔ یہ امر بھی قابلِ توجہ ہے کہ امریکی اور مغربی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والے تجزیے اس تصور کو تقویت دے رہے ہیں کہ حالیہ جنگ کے باوجود ایران کی ریاستی طاقت مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔ اس کا سیاسی نظام قائم ہے، اس کا جوہری پروگرام مکمل طور پر ختم نہیں کیا جا سکا، اس کی میزائل صلاحیتیں موجود ہیں اور خطے میں اس کے اثرات بھی برقرار ہیں۔اس قسم کے تجزیے اور خبریں صورت حال کو خراب کرنے کا باعث بن رہی ہیں۔ ادھر ایرانی رجیم کے اندر بھی بعض گروپ ایسے ہو سکتے ہیں جو سوئزرلینڈ میں مذاکراتی عمل کے دوران جو شرائط طے ہوئی ہیں ‘ان کے حق میں نہ ہوں ‘خلیجی ممالک کے بھی اپنے معاملات ہیں ‘ادھر اسرائیل کی صورتحال بھی سب کے سامنے ہے تاہم واشنگٹن میں امریکی کی ثالثی میں اسرائیل ‘لبنان اور امریکا کے درمیان ایک فریم ورک معاہدے پر دستخط ہوئے ہیں جسے خطے میں کشیدگی کم کرنے کی جانب ابتدائی قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق معاہدے کے تحت لبنانی فوج مرحلہ وار پورے ملک میں اپنی ساخت اور سیکیورٹی بحال کرے گی اور غیر ریاستی مسلح گروہوں خصوصاً حزب اللّٰہ کو غیر مسلح کیا جائے گا۔اس عمل کی تصدیق کے بعد ہی اسرائیلی فوج مرحلہ وار لبنانی علاقوں سے انخلاء کرے گی۔ رپورٹ کے مطابق معاہدے میں جنوبی لبنان کے 2 ابتدائی علاقوں کو پائلٹ زون قرار دیا گیا ہے جہاں لبنانی فوج مکمل سیکیورٹی سنبھالے گی، متاثرہ علاقوں کی تعمیرِ نو شروع ہو گی اور بے گھر شہریوں کی واپسی ممکن بنائی جائے گی۔ امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے معاہدے کو ’آغاز کا پہلا قدم‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاہدے کا مقصد لبنان کی خود مختاری کی بحالی، حزب اللّٰہ کی عسکری صلاحیت کا خاتمہ اور اسرائیل کی سرحدی سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔ دوسری جانب لبنانی وزیرِ اعظم نواف سلام کا کہنا ہے کہ معاہدے کا مقصد تمام لبنانی علاقوں سے اسرائیلی فوج کا انخلاء ہے تاہم موجودہ متن کے مطابق انخلاء کو حزب اللّٰہ کے غیر مسلح ہونے کی سے مشروط کیا گیا ہے۔ادھر اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے واضح کیا ہے کہ جب تک حزب اللّٰہ غیر مسلح نہیں ہوتی اور اسرائیل کو خطرہ برقرار رہتا ہے، اسرائیلی فوج لبنان سے مکمل انخلاء نہیں کرے گی۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق حزب اللّٰہ نے معاہدے میں شرکت نہیں کی۔تنظیم کا مؤقف ہے کہ اسرائیل کو بغیر کسی شرط کے لبنان چھوڑنا چاہیے جب کہ اس نے اسرائیل کے ساتھ کسی بھی قسم کے تعلقات معمول پر لانے کو بھی مسترد کر دیا ہے۔ اسرائیلی فوج کی کارروائیاں، جنوبی لبنان پر قبضہ اور حزب اللّٰہ کے سخت مؤقف کے باعث مستقل امن کا راستہ اب بھی غیر یقینی دکھائی دیتا ہے۔ادھر ایران لبنان کی حزب اللہ کا حلیف ہے۔ اس قسم کی صورت حال معاملا ت کو پیچیدہ بنا رہی ہے۔ مشرق وسطی کے معاملات ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ اگر اسرائیل لبنان میں حزب اللہ کے خلاف فوجی کارروائیاں جاری رکھتا ہے تو ایران کے لیے بھی امریکا کے ساتھ امن مذاکرات میں حصہ لینا مشکل ہو جائے گا۔ ادھر ایران جس طرح خلیجی ممالک کے بارے میں موقف دے رہا ہے ‘اس سے بھی صورت حال پیچیدہ ہوتی ہے۔بہرحال امن عمل ہر صورت جاری رہنا چاہیے تاہم خطے میں دیرپا امن کی راہ نکالی جاسکے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل