Loading
کیا ہی نظارہ تھا، صحن میں عورتوں کا اژدہام تھا اور اس کے بیچوں بیچ ایک تابوت پڑا تھا اور اس تابوت سے لپٹ لپٹ کر روتی ہوئی ایک بے بس ماں … اس کا سارا گھر لٹ گیا تھا۔ کیسا دن آغاز ہوا تھا فجر کے وقت سے ہی جب وہ نماز کی ادائیگی میں مصروف تھی اور صحن میں ہونے والے شور سے وہ بے چینی سے اپنی نماز مکمل کر کے باہر نکلی اور اس نے صحن میں جو منظر دیکھا وہ کسی کو بھی دل کا دورہ پڑ جانے کے لیے کافی تھا۔ـ
ایک بیٹا ہاتھ میں پستول لیے کھڑا تھا اور صحن کا سفید ماربل کا فرش لہو کے رنگ سے سیاہ پڑتا جا رہا تھاـ وہ سکتے میں چلی گئی اور وہی لمحہ تھا جس وقت اس شیطان کو اندازہ ہوا کہ اسے بھاگ جانا چاہیے۔
صحن میں اس کے بڑے بیٹے کے ہاتھوں گولیوں کا شکار ہونے والے تین نہیں بلکہ حقیقت میں چار نفوس ٹیڑھے میڑھے گرے ہوئے تھے جو کہ اب نفوس رہے بھی نہیں تھے ـ فوری رد عمل کے طور پر چیک کیا گیا کہ کیا وہ سانس لے رہے ہیں مگر بد قسمتی سے وہ سب جان کی بازی ہار چکے تھے۔ـ
ہمارے گاؤں کے قریبی ہی ایک گاؤں بزرگوال ، کا یہ واقعہ لمحوں میں سوشل میڈیا سے الیکٹرانک میڈیا تک پہنچا اور تمام چینلزپر خبر نشر ہونے لگی۔ بڑے بھائی نے کسی وجہ سے اپنے چھوٹے بھائی اور اس کی بیوی کوقتل کر دیا تھا اور پڑوس سے شور سن کربیچ بچاؤ کروانے کے لیے آنے والے پھوپھا کو بھی قتل کر دیا۔
اس نے دو دو گولیاں بھائی اور بھابی کو ماریں اور تین گولیاں پھوپھا کو ایک گولی اس نے اپنی بھابی کے پیٹ پر ماری تھی تا کہ اس کا دو ماہ کے بعد دنیا میں آنے والا بچہ بھی ختم ہو جائے۔
بربریت کا یہ واقعہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں ہے اور نہ ہی آخری … زن، زر اور زمین بالخصوص ایسی منحوس چیزیں ہیں جن کا لالچ کسی بھی انسان کو شیطان بنا سکتا ہے اور وہ اپنی شیطانیت میں کسی بھی حد تک جاسکتا ہے ۔
اس نے تو اپنی بربریت کا اظہار کرتے ہوئے یوں علی الصبح بہیمانہ قتل کیے مگر کیا قصور اس ماں کا جو میت سے لپٹ لپٹ کر روتی اور نڈھال تھی اور اس باپ کا کیا جو اس حادثے کی خبر سن کر پردیس سے آیا تھا اور میت کے قریب آتے آتے گر کر بے ہوش ہوگیا تھاـ
تین بہنیں جو ساری کی ساری پردیس سے سفر کر کے یا تو پہنچ چکی تھیں یا راستے میں تھیں۔ ان کے لیے یہ سفر کیا ہو گا اور وہ کیا دیکھنے کے لیے آرہی تھیں ، باقی یہ دو بھائی ہی تھے جن میں سے ایک اس وقت قاتل اور دوسرا مقتول بن چکا تھا، خاندان تو ختم ہی ہو گیا تھا ۔
یہ خاندان بظاہر اپنے گاؤں کا ایک متمول ، خوشحال اور حقیقتا شریف خاندان ہے مگر نیک لوگوں کے ہاں بھی ناخلف اولادیںجنم لے لیتی ہیں اور چوروں ڈاکوؤں کے ہاں بھی شریف اولادیں پیدا ہوتی ہیں۔ اس سے چند ہفتے قبل ہی میں نے اسی نوعیت کے واقعے پر ایک کالم لکھا تھا کہ باپ کمائیاں کرنے کو پردیس چلے جاتے ہیں اور وہاں محنت اور مزدوری کرتے اور اپنی جان مارتے ہیں، اپنوں سے دوری بھی برداشت کرتے ہیں اوراپنی ذات پر ہی ساری قربانیوں کا بوجھ اٹھاتے ہیں، کسی سے اپنے دکھ اور تکالیف کہہ بھی نہیں سکتے۔
وہ اس کمائی میں اتنے مصروف ہوتے ہیں کہ پیچھے گھر میں ان کی اصل دولت ان کے ہاتھوں سے نکل جاتی ہے، پھر اسی طرح کے تہی دست باپ ہوتے ہیں جو اپنے جوان اور خوبصورت مقتول بیٹے کا چہرہ تک دیکھنے کی سکت نہیں رکھتے اور جھولی اٹھا اٹھا کر ان ہاتھوں کو بد دعائیں دیتے ہیں جن ہاتھوں نے ان کے لال ان سے چھین لیے، خواہ وہ ہاتھ ان کے ہی کسی بیٹے کے ہوں ۔
اس ملک میں نہ وہ صرف ایک ایساخاندان ہے نہ ہی یہ اس نوعیت کا پہلا اور آخری واقعہ کہ جہاں بھائی بھائی کو، باپ بیٹے کو اور بیٹا باپ کو، چچا اپنے بھتیجوں کو اور بھتیجے چچاؤں کو، سسر داماد کو اور داماد سسر کو اور اسی طرح خاوند بیویوں کو اور بیویاں خاوندوں کو ایسی ہی طیش کی حالت میں قتل کرتے اور نہ صرف اس کی زندگی کا خاتمہ کرتے بلکہ اپنے لیے بھی زندگی کا دائرہ تنگ کر لیتے ہیں۔
قاتل جن مقاصد کے حصول کے لیے قتل کرتے ہیں وہ انھیں حاصل بھی نہیں ہوتے اور کسی کو معلوم بھی نہیں۔ لوگوں کو عمر بھر اس کا تجسس ہی رہ جاتا ہے کہ وجہ کیا ہوئی۔ اس وقت اس بڑے سے صحن میں ایک طرف ایک چارپائی پر بیٹھے ہوئے ہم اس رش کو دیکھ بھی رہے تھے اور ارد گرد بیٹھے ہوؤں کی سرگوشیوں کو بھی سن رہے تھے۔
ان کی ادھوری آدھی باتوں سے جو سمجھ آتی تھی وہ یہی تھی کہ قاتل کئی برسوں سے بگڑا ہوا لڑکا تھا اور عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ اس کے ’’ ہنر ‘‘ میں اضافہ ہی ہوا تھا، کئی بار وہ ماں پر بھی چیخا تھا اور اب معاملہ یہاں تک پہنچ گیا تھا۔
اس وقت وہ دکھیاری ماں خود لوگوں کو یہی بتا رہی تھی کہ وہ خود کشی کرنا چاہ رہا تھا اور اسے بھائی منع کرنے کو آیا تو اسے غلطی سے گولیاں لگ گئیں اور پھر اسی طرح بھابی اور پھوپھا کو بھی۔ تین لوگوں کو مار کر بھی اس نے اپنی خود کشی کی خواہش یا کوشش کو عملی جامہ نہیں پہنایا؟؟
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل