Loading
ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے تیزاب گردی کا شکار ڈاکٹر ماہ نور کیس کے بعد پیش کیے گئے مطالبات پر کوئی بھی پیشرفت نہ ہونے پر ریڈ زون میں دھرنے کا عندیہ دے دیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان کے صدر ڈاکٹر حئی بلوچ نے کہا ہے کہ ڈاکٹر ماہ نور کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے قائم احتجاجی کیمپ کو 22 روز مکمل ہو چکے ہیں، تاہم حکومت کی جانب سے اب تک ان کے مطالبات پر کوئی عملی پیش رفت نہیں کی گئی۔
کوئٹہ کے سول اسپتال میں ینگ ڈاکٹر ایسوسی ایشن کے رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈاکٹر حئی بلوچ نے کہا کہ اگر ہمارے مطالبات آئین اور قانون کے منافی ہیں تو حکومت واضح طور پر اس کی نشاندہی کرے۔
انہوں نے کہا کہ گرینڈ ڈاکٹرز الائنس کے پلیٹ فارم سے تمام ڈاکٹرز نے مشترکہ لائحہ عمل اختیار کر رکھا ہے اور وہ اپنے مطالبات کے حصول کے لیے پرامن جدوجہد جاری رکھیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ان کا بنیادی مطالبہ سیکرٹری صحت اور میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (ایم ایس) سول ہسپتال کو عہدوں سے ہٹانا تھا، تاہم حکومت نے مطالبات پر عمل درآمد کے بجائے سول اسپتال میں ایک جونیئر افسر کو سینئر عہدے پر تعینات کر دیا، جبکہ مبینہ کرپشن کے معاملات پر بھی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔
ڈاکٹر حئی بلوچ نے الزام عائد کیا کہ حال ہی میں ٹراما سینٹر میں ایک پولیس اہلکار نے مبینہ طور پر نشے کی حالت میں ایک ڈاکٹر پر حملہ کیا، لیکن ذمہ داروں کے خلاف اب تک مؤثر قانونی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔
انہوں نے اعلان کیا کہ اگر حکومت نے ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے تو آج دوپہر 12 بجے ریڈ زون کے سامنے احتجاجی دھرنا دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ احتجاج مکمل طور پر پرامن ہوگا، تاہم مطالبات منظور نہ ہونے کی صورت میں احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جا سکتا ہے۔
اس موقع پر ڈاکٹر بہار شاہ نے کہا کہ اسپتالوں میں اسلحہ بردار افراد کا داخلہ کسی بھی صورت قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت مسائل کے حل کے بجائے انہیں مزید پیچیدہ بنا رہی ہے اور ٹراما سینٹر واقعے میں ملوث افراد کے خلاف فوری قانونی کارروائی کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان احتجاج کو دبانے کے لیے طاقت کا استعمال کر رہی ہے۔ ڈاکٹر بہار شاہ نے سوال اٹھایا کہ سول ہسپتال میں پیش آنے والے تیزاب گردی کے واقعے میں کیا ڈاکٹر ملوث تھے؟
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر آج کے احتجاج کے دوران طاقت کا استعمال کیا گیا تو بلوچستان بھر کے سرکاری ہسپتالوں میں تمام طبی خدمات کا مکمل بائیکاٹ کیا جائے گا، جس کی تمام تر ذمہ داری حکومت بلوچستان پر عائد ہوگی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل