Monday, June 29, 2026
 

افغان سرزمین دہشت گردوں کی محفوظ آماجگاہ

 



یہ امر اب کسی ابہام کا محتاج نہیں رہا کہ پاکستان میں حالیہ دہشت گرد کارروائیوں کے تانے بانے افغان سرزمین سے جا ملتے ہیں۔ جماعت الاحرار، فتنۃ الخوارج اور ان جیسے دیگر عناصر کی سرگرمیاں اس بات کی واضح علامت ہیں کہ دہشت گردی محض چند منتشر گروہوں کی کارروائی نہیں بلکہ ایک منظم نیٹ ورک کا نتیجہ ہے جس کے پیچھے مالی، نظریاتی اور جغرافیائی پشت پناہی موجود ہے۔ جب گرفتار دہشت گرد اپنے اعترافی بیانات میں جلال آباد، پکتیا، پکتیکا اور کنڑ جیسے علاقوں میں تربیتی مراکز، خودکش جیکٹ سازی اور منظم عسکری تربیت کا ذکر کرتے ہیں تو یہ ان شکوک کو مزید تقویت دیتا ہے کہ دہشت گردی کا یہ سلسلہ کسی اتفاقی انتشار کا نتیجہ نہیں۔  اس تناظر میں پاکستان کے سیکیورٹی اداروں کی حالیہ زمینی اور فضائی کارروائیاں نہ صرف بروقت بلکہ ناگزیر تھیں۔ پاک افغان سرحد کے دونوں جانب دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانا ایک واضح پیغام ہے کہ پاکستان اپنی خودمختاری، قومی سلامتی اور شہریوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ پکتیا، پکتیکا اور کنڑ میں دہشت گردوں کے اہم مراکز پر کامیاب فضائی حملوں کے نتیجے میں متعدد دہشت گردوں کی ہلاکت اور اسلحے کے ذخائر کی تباہی اس امر کی غماز ہے کہ ریاست دفاعی اور انٹیلی جنس دونوں محاذوں پر پوری طرح بیدار ہے۔ اسی طرح باجوڑ میں جماعت الاحرار کے اہم کمانڈر کا خاتمہ اس بات کا ثبوت ہے کہ دہشت گردوں کے لیے اب نہ سرحد محفوظ ہے اور نہ پناہ گاہیں۔  افغانستان کی سرزمین صدیوں سے بڑی طاقتوں کے تصادم، علاقائی رقابتوں اور نظریاتی کشمکش کا میدان رہی ہے، مگر موجودہ عہد کا سب سے تلخ اور تشویشناک پہلو یہ ہے کہ ایک ہمسایہ اسلامی ملک کی سرزمین مسلسل ایسے عناصر کے لیے جائے پناہ بنتی جا رہی ہے جو پاکستان کے امن، استحکام اور داخلی سلامتی کو نقصان پہنچانے کے درپے ہیں۔ پاکستان نے گزشتہ کئی دہائیوں میں دہشت گردی کے خلاف جو بے مثال قربانیاں دی ہیں، وہ تاریخ کے صفحات پر خون جگر سے لکھی گئی داستان ہیں۔ ہزاروں جانوں کی قربانی، اربوں ڈالر کے معاشی نقصانات اور اجتماعی قومی نفسیات پر پڑنے والے گہرے زخم اس جنگ کی وہ قیمت ہیں جسے کوئی مہذب معاشرہ آسانی سے فراموش نہیں کرسکتا۔ ایسے میں اگر افغان سرزمین دوبارہ دہشت گردوں کی محفوظ آماجگاہ بن جائے تو یہ محض ایک سرحدی مسئلہ نہیں بلکہ پاکستان کی قومی سلامتی، علاقائی توازن اور عالمی امن کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات ہمیشہ محض جغرافیائی قربت تک محدود نہیں رہے۔ دونوں ممالک مذہبی، تہذیبی اور قبائلی رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں، مگر بدقسمتی سے یہی قربت بعض اوقات غیر ریاستی عناصر کے لیے سہولت کا ذریعہ بھی بن جاتی ہے۔ چمن بارڈر سے لے کر کوئٹہ، وزیرستان، باجوڑ اور دیگر سرحدی علاقوں تک دہشت گرد نیٹ ورکس کا پھیلاؤ اس تلخ حقیقت کا عکاس ہے کہ دشمن اب روایتی جنگ کے بجائے غیر متوازن جنگی حکمت ِ عملی اختیار کر چکا ہے۔ سرحد کے آرپار موجود سہولت کار، اسمگلنگ کے راستے، جعلی شناختیں اور مقامی نیٹ ورکس مل کر ایک ایسی پیچیدہ صورت حال پیدا کرتے ہیں جو سیکیورٹی اداروں کے لیے مسلسل آزمائش بنی ہوئی ہے۔ کراچی میں پاکستان رینجرز کے کیمپ پر ہونے والے حالیہ حملے نے بھی کئی پردے چاک کر دیے ہیں۔ گرفتار دہشت گرد کے اعترافات سے واضح ہوا کہ حملہ آور افغانستان سے منظم منصوبہ بندی کے تحت پاکستان میں داخل ہوئے، انھیں مقامی سہولت کار میسر آئے، اسلحہ و بارود مخصوص راستوں سے منتقل کیا گیا اور خودکش جیکٹس تک افغانستان میں تیار کی گئیں۔ یہ تمام شواہد اس حقیقت کو آشکار کرتے ہیں کہ پاکستان میں خونریزی پھیلانے والے عناصر کسی منتشر گروہ کا حصہ نہیں بلکہ ایک مربوط دہشت گرد نیٹ ورک کے مہرے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ سب کچھ افغان سرزمین پر ہو رہا ہے تو وہاں کی حکومت کی ذمے داری کہاں جاتی ہے؟ اس مسئلے کا سب سے اہم پہلو افغان طالبان حکومت کا کردار ہے۔ طالبان برسوں سے یہ دعویٰ کرتے آئے ہیں کہ افغانستان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی، مگر زمینی حقائق اس دعوے کی نفی کرتے دکھائی دیتے ہیں، اگر افغان حکومت واقعی دہشت گرد عناصر سے بے خبر ہے تو یہ اس کی کمزور ریاستی گرفت کا ثبوت ہے، اور اگر وہ ان سے آگاہ ہے تو یہ کھلی سرپرستی کے مترادف ہے۔ دونوں صورتیں خطے کے امن کے لیے یکساں طور پر خطرناک ہیں۔ ایک ذمے دار ریاست کے لیے یہ ناقابل قبول ہے کہ اس کی سرزمین ہمسایہ ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہو۔ مزید تشویش ناک امر یہ ہے کہ خطے میں بعض بیرونی قوتیں بھی پاکستان میں عدم استحکام سے فائدہ اٹھاتی دکھائی دیتی ہیں۔ بھارت طویل عرصے سے پاکستان مخالف سرگرمیوں اور پراکسی نیٹ ورکس کے الزامات کی زد میں رہا ہے، جب کہ اسرائیل بھی خطے میں اپنے تزویراتی مفادات کے تحت نئی صف بندیاں تشکیل دے رہا ہے، اگر افغانستان کی سرزمین ان عناصر کے لیے سازگار ماحول فراہم کرتی ہے تو یہ صورتحال محض دو ہمسایہ ممالک کے تعلقات کا مسئلہ نہیں رہتی بلکہ وسیع تر علاقائی سلامتی کا بحران بن جاتی ہے۔ ریاستی سرپرستی یافتہ دہشت گردی ہمیشہ دیرپا بدامنی کو جنم دیتی ہے، اور تاریخ گواہ ہے کہ ایسی آگ آخرکار سرحدوں کی قید میں نہیں رہتی۔ تاہم مسئلے کا حل صرف عسکری قوت میں پوشیدہ نہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ بندوق سے لڑی جا سکتی ہے، مگر پائیدار امن صرف ریاستی بصیرت، سیاسی استحکام اور سماجی ہم آہنگی سے حاصل ہوتا ہے۔ باڑ، برقی نگرانی، ڈرون سرویلنس اور بائیومیٹرک کنٹرول کو مزید موثر بنانا ہوگا تاکہ غیر قانونی نقل و حرکت روکی جا سکے۔ چمن بارڈر اور دیگر حساس گزرگاہوں پر ایسا انتظام درکار ہے جو تجارت کو متاثر کیے بغیر دہشت گردوں کی دراندازی کا راستہ بند کرے۔ دوسرا اہم پہلو داخلی نیٹ ورکس کا خاتمہ ہے۔ کوئی بھی بیرونی دہشت گرد نیٹ ورک اس وقت تک موثر نہیں ہوسکتا جب تک اسے اندرونی سہولت کار میسر نہ ہوں۔ کوئٹہ، چمن، باجوڑ اور وزیرستان جیسے علاقوں میں خفیہ نیٹ ورکس کا وجود اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے صرف سرحد پار خطرات پر نہیں بلکہ داخلی معاونت کے ڈھانچوں پر بھی بھرپور توجہ دیں۔ کرائے کی عمارتیں، اسمگلنگ چینلز، غیر قانونی مالی ترسیلات اور سہولت کاری کے پوشیدہ راستے مکمل نگرانی کے متقاضی ہیں۔تیسرا اور شاید سب سے اہم محاذ بیانیے کا ہے۔ دہشت گردی صرف بارود سے نہیں پھیلتی بلکہ ذہنوں میں جگہ بنا کر اپنی جڑیں مضبوط کرتی ہے۔ ریاست کو مذہبی علماء، قبائلی عمائدین، تعلیمی اداروں اور ذرائع ابلاغ کے ذریعے ایک مضبوط قومی بیانیہ تشکیل دینا ہوگا جو نوجوان نسل کو شدت پسندی کے فریب سے محفوظ رکھ سکے۔ فتنۃ الخوارج جیسے عناصر دین کے نام پر فساد برپا کرتے ہیں، اس لیے ان کے نظریاتی رد کے لیے مستند مذہبی آوازوں کو فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔ مزید برآں بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے سرحدی علاقوں میں پائیدار امن کے قیام کے لیے محض عسکری کارروائیاں کافی نہیں ہوں گی بلکہ سماجی و معاشی استحکام کو بھی قومی سلامتی کی حکمتِ عملی کا لازمی جزو بنانا ہوگا۔ غربت، بے روزگاری، تعلیمی پسماندگی اور احساسِ محرومی وہ خلا پیدا کرتے ہیں جن سے شدت پسند عناصر فائدہ اٹھاتے ہیں۔ پاکستان کی خارجہ حکمت عملی میں اب نرم بیانات کے ساتھ واضح سفارتی دباؤ، علاقائی تعاون اور فیصلہ کن پیغام کا امتزاج ناگزیر ہوچکا ہے تاکہ دنیا پر یہ حقیقت آشکار ہو کہ جنوبی ایشیا کا امن سرحدی دہشت گردی کے خاتمے سے مشروط ہے۔ اس تمام صورت حال میں پاکستان کے سیکیورٹی اداروں کی قربانیاں خراجِ تحسین کی مستحق ہیں۔ سرحدی چوکیوں پر مامور جوان، انٹیلی جنس آپریشنز میں شریک افسران اور دہشتگردی کے خلاف شب و روز سرگرم اہلکار دراصل قومی بقا کے محافظ ہیں۔ ان کی کامیاب کارروائیاں ثابت کرتی ہیں کہ پاکستان کی ریاست نہ کمزور ہے، نہ غافل اور نہ ہی دشمن کے عزائم سے بے خبر۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ جنگ صرف عسکری اداروں ہی کی نہیں پوری قوم کی مشترکہ ذمے داری ہے۔ افغان حکومت کو دوٹوک انداز میں یہ باور کرانا ہوگا کہ پاکستان حسنِ ہمسائیگی چاہتا ہے، مگر اپنی سلامتی کی قیمت پر نہیں۔ امن کی خواہش کمزوری نہیں ہوتی، لیکن صبر کی بھی ایک حد ہوتی ہے، اگر کسی سرزمین سے مسلسل خونریزی کی منصوبہ بندی ہو، اگر معصوم شہری اور بہادر سپاہی نشانہ بنتے رہیں اور اگر ریاست مخالف عناصر کو محفوظ پناہ گاہیں میسر رہیں، تو پھر خاموشی جرم بن جاتی ہے۔ پاکستان نے بارہا ثابت کیا ہے کہ وہ امن کا داعی ہے، جنگ کا خواہاں نہیں، لیکن امن کا پرچم اسی ہاتھ میں بلند رہتا ہے جس کے پاس دفاع کی قوت اور فیصلہ کن ارادہ موجود ہو۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ دہشت گردوں، ان کے سہولت کاروں اور ان کے سرپرستوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے۔ سرحد کے اس پار ہو یا اس طرف، ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے والے ہر عنصر کو واضح پیغام ملنا چاہیے کہ پاکستان کی سرزمین کسی فتنے، کسی پراکسی جنگ اور کسی دہشت گرد ایجنڈے کے لیے نرم ہدف نہیں۔ یہی قومی سلامتی کا تقاضا ہے، یہی عوام کے تحفظ کی ضمانت اور یہی پائیدار امن کی واحد راہ ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل