Loading
گزشتہ چند برسوں میں پاکستان میں درجہ حرارت پچاس ڈگری سینٹی گریڈ کے قریب پہنچ گیا، ہیٹ ویوز نے سیکڑوں جانیں لے لیں، گلیشیئر تیزی سے پگھلنے لگے، کہیں شدید خشک سالی اور کہیں تباہ کن سیلاب نے لاکھوں انسانوں کو بے گھر کر دیا۔ ماہرین مسلسل خبردار کر رہے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی اب مستقبل کا نہیں بلکہ حال کا مسئلہ ہے اور پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو اس کے اثرات سب سے زیادہ بھگت رہے ہیں۔ پاکستان میں گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے کے بارے میں پیش گوئیاں کی جا رہی ہیں، جس سے مزید تباہی کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
سوال یہ ہے کہ آخر ہم نے زمین کے ساتھ ایسا کیا کیا ہے کہ قدرت کا توازن بگڑ گیا؟ اس کا ایک واضح جواب جنگلات کی بے دریغ کٹائی، سبزے کی مسلسل تباہی اور کنکریٹ کے بے ہنگم جنگلات ہیں۔آج بھی ہم بڑی تعداد میں درخت کاٹ رہے ہیں اور مشینری کا بے تحاشا استعمال کر رہے ہیں۔
گاڑیاں، فریج، ایئر کنڈیشنرز اور دیگر آلات توانائی کے بڑھتے ہوئے استعمال کا سبب بن رہے ہیں۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ اس مسئلے کا علاج کیا ہے؟ جواب سیدھا سا یہ ہے کہ توانائی کا محتاط استعمال کیا جائے، طرز زندگی کو نسبتاً سادہ بنایا جائے اور زیادہ سے زیادہ سبزہ اگایا جائے۔
آئیے !جائزہ لیتے ہیں کہ سبزہ کیسے بڑھایا جا سکتا ہے۔ ہمارے بزرگ کہا کرتے تھے کہ ’’ساون میں درخت لگاؤ، قدرت خود اس کی پرورش کرے گی۔‘‘ اگرچہ یہ کہنا کہ ’’سوکھی لکڑی بھی ساون میں سبز ہو جاتی ہے‘‘ ایک محاورہ لیکن اس میں ایک گہرا پیغام ضرور پوشیدہ ہے کہ برسات کا موسم شجرکاری کے لیے سب سے موزوں وقت ہے۔ جولائی کے وسط سے ساون کا مہینہ شروع ہو جاتا ہے اور یہ موسم ایک بار پھر ہمارے دروازے پر دستک دے رہا ہے۔
اس موسم کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں ایک عام شخص بھی ماحول کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کر سکتا ہے۔ہمارے ایک دوست گھر میں استعمال ہونے والے پھلوں کے بیج جمع کرتے رہتے ہیں اور جب بھی کسی سفر پر نکلتے ہیں تو انھیں مختلف مقامات پر بکھیر دیتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ بارش ہونے پر ان میں سے بعض بیج ضرور اگتے ہوں گے اور یوں سبزے میں اضافہ ہوتا ہوگا۔ یقینا تمام بیج درخت نہیں بنتے، لیکن اگر سو میں سے چند بیج بھی کامیاب ہو جائیں تو وہ ماحول کے لیے ایک مثبت اضافہ ہیں۔
درخت صرف لکڑی کا ذخیرہ نہیں ہوتے بلکہ یہ ہمارے خاموش محافظ ہیں۔ یہ فضا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتے ہیں، آکسیجن پیدا کرتے ہیں، گردوغبار کو کم کرتے ہیں، پرندوں کو آشیانہ فراہم کرتے ہیں، زمین کو کٹاؤ سے بچاتے ہیں، بارش کے پانی کو زمین میں جذب ہونے کا موقع دیتے ہیں اور شہروں کے درجہ حرارت کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ایک گھنا درخت اپنے اردگرد ایسا مائیکرو کلائمٹ پیدا کرتا ہے جو انسانوں، جانوروں اور دیگر پودوں سب کے لیے راحت کا باعث بنتا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ پاکستان میں شجرکاری اکثر فوٹو سیشن تک محدود ہو جاتی ہے۔
سرکاری مہم شروع ہوتی ہے، ہزاروں پودے لگا دیے جاتے ہیں، تصاویر اخبارات اور سوشل میڈیا پر آ جاتی ہیں، مگر چند ماہ بعد انھی پودوں کی بڑی تعداد پانی، حفاظت اور دیکھ بھال نہ ملنے کی وجہ سے خشک ہو جاتی ہے۔دیہی علاقوں میں زرعی جنگلات کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ کھیتوں کے کناروں پر درخت لگانے سے نہ صرف ماحول بہتر ہوتا ہے بلکہ کسان کو لکڑی، چارہ اور اضافی آمدنی بھی حاصل ہوتی ہے۔ شہروں میں چھتوں پر باغبانی، عمودی باغبانی، بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کا نظام اور خالی پلاٹوں کو عارضی سبزہ زار بنانا بھی نہایت موثر اقدامات ہیں۔
ذرا تصور کیجیے کہ اگر پاکستان کا ہر دکاندار اپنی دکان کے سامنے صرف ایک نیم، شیشم یا کسی اور مقامی سایہ دار درخت کا پودا لگا دے اور روزانہ صرف دو گلاس پانی اس کے حصے میں ڈال دے تو چند ہی برسوں میں وہ ننھا سا پودا ایک تناور درخت بن جائے گا، پھر بازاروں میں سبزہ ہوگا، سایہ ہوگا، گردوغبار کم ہوگا، گرمی کی شدت میں کمی آئے گی اور خریداری کے لیے آنے والے لوگوں کو بھی سکون ملے گا۔
ایک معمولی سی روزانہ کی محنت پورے شہر کا موسم بدل سکتی ہے۔ اسی طرح ہماری مساجد میں روزانہ وضو کے لیے سیکڑوں بلکہ ہزاروں لیٹر پانی استعمال ہوتا ہے، جو اکثر نالیوں اور سیوریج لائنوں میں بہہ جاتا ہے، اگر ہر مسجد کے باہر ایک چھوٹی سی کیاری بنا دی جائے اور وضو کا نسبتاً صاف پانی اس کی طرف موڑ دیا جائے، جہاں نیم، شیشم، کچنار، جامن یا دیگر مقامی درخت لگائے جائیں، تو چند برسوں میں ہر مسجد کے باہر ایک خوبصورت سبز قطعہ یا چھوٹا سا باغ وجود میں آ سکتا ہے۔ یہ درخت نمازیوں، راہگیروں اور مسافروں کو سایہ فراہم کریں گے، ماحول کو خوشگوار بنائیں گے اور مسجد کے حسن میں بھی اضافہ کریں گے۔
اسی طرح اگر ہر سرکاری اور نجی اسکول یہ اصول بنا لے کہ ہر طالب علم اپنی تعلیم کے دوران کم از کم ایک درخت لگائے اور اس کی دیکھ بھال بھی کرے تو ہر سال لاکھوں نئے درخت ملک کا حصہ بن سکتے ہیں۔ گھروں کی چھتوں پر باغبانی، بالکونیوں میں گملے، دیواروں پر عمودی باغبانی، بارش کے پانی کو ذخیرہ کر کے پودوں کو دینا اور گھر کے استعمال شدہ نسبتاً صاف پانی کو درختوں کی آبپاشی کے لیے استعمال کرنا بھی ایسے آسان اقدامات ہیں جو پانی کی بچت کے ساتھ شجرکاری کو فروغ دے سکتے ہیں۔ یہ بھی ضروری ہے کہ درختوں کی بے جا کٹائی کو سنجیدگی سے لیا جائے۔ جس معاشرے میں ایک سو سال پرانا درخت چند گھنٹوں میں کاٹ دیا جائے اور اس کی جگہ صرف ایک پودا لگا کر فرض پورا سمجھ لیا جائے، وہاں ماحول کا توازن بحال نہیں ہو سکتا۔ ایک بالغ درخت بننے میں کئی دہائیاں لگتی ہیں۔ اس لیے ہر کٹے ہوئے درخت کے بدلے متعدد نئے درخت لگانا اور ان کی بقا یقینی بنانا قومی پالیسی کا حصہ ہونا چاہیے۔
اس ساون اگر ہم بھی خاموشی سے ایک درخت لگا دیں، اس کی حفاظت کریں اور اسے پروان چڑھائیں، تو ممکن ہے یہی درخت کل ہماری بقا کی ضمانت بن جائے، کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ انسان زمین کو نہیں بچاتا، دراصل درخت انسان کو بچاتے ہیں۔
شجرکاری کو ایک سماجی تحریک بنانے کی ضرورت ہے، اگر ہر پاکستانی خاندان سال میں صرف ایک درخت لگا کر اس کی حفاظت کی ذمے داری قبول کر لے تو چند برسوں میں ملک کا منظر نامہ بدل سکتا ہے، اگر ہر اسکول ’’ایک طالب علم، ایک درخت‘‘ کی مہم شروع کرے، ہر مسجد اپنے احاطے اور اطراف میں شجرکاری کرے، ہر یونیورسٹی اپنے کیمپس کو تحقیقی نرسری میں تبدیل کرے، ہر صنعت اپنی گرین بیلٹ قائم کرے اور ہر ہاؤسنگ سوسائٹی اپنے سبز رقبے پر فخر کرے تو اس کے نتائج دور رس ہوں گے۔ پاکستان میں اگر شجرکاری کے لیے ایسی جگہ کا انتخاب کیا جائے کہ جہاں قریب میں رہنے والا کوئی نہ کوئی شخص اس کو پانی دے سکے تو شجر کاری زیادہ کامیاب ہو سکتی ہے کیونکہ ہمارے ہاں اصل مسئلہ درخت لگانا نہیں بلکہ اسے درخت بننے تک پانی دینا اور دیکھ بھال کرنا ہے۔
ہمارے ہاں شہروں میں گھر کے باہر درخت بہت کم ہی دکھائی دیتے ہیں ،کیونکہ لوگ گاڑی کھڑی کرنے کے لیے اپنے گھر کی کیاری اور پودے،درخت سب ختم کر دیتے ہیں اگر وہ صرف ایک درخت گھر کے باہر ایک کونے میں لگا دیں تو اس طرح گاڑی کی جگہ بھی بچ جائے گی اور گاڑی کو سایہ بھی مل جائے گا درخت کی شکل میں۔شہریوں کو اس طرف ضرور توجہ دینا چاہیے۔
ہمارے ایک دوست نے اپنے محروم والدین کے نام سے ایک فٹ پاتھ پر درخت لگایا اور اس کو پانی دینا شروع کیا ان کو دیکھ کر ان کے دیگر دوستوں نے بھی اپنے والدین کے نام سے درخت لگا ئے، اگر ہم سب بھی اپنے مرحوم والدین کے نام سے درخت لگا دیں یا اپنے ہی نام کا ایک درخت لگا دیں تاکہ مرنے کے بعد ہمیں صدقہ جاریہ کے طور پہ اس کا اجر ملتا رہے تو اس سے بھی ایک اچھی تبدیلی بھی آسکتی ہے۔ آئیے! غور کریں اور عمل کریں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل