Loading
آج پاکستان کی سیاست میں اصولوں اور نظریات کا کہیں کوئی ذکر نہیں کرتا بلکہ اصولوں کی پامالی اور سیاسی مفادات کا حصول ہماری قومی سیاسی زندگی کی پہچان بن چکا ہے، اس پہ مستزاد ہمارے اکابر سیاست دان بڑی شان بے نیازی سے اس کا تذکرہ بھی کرتے ہیں اور پھر دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ اگر ماضی کی غلطی درست تھی تو آج کی غلطی بھی جائز ہے جیساکہ اگلے دنوں وزیر اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف نے قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی تقریر کے جواب میں کہا کہ 2018 کے الیکشن کی تحقیقات کرا لیں، دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جانا ہے، اگر اس میں بکسے نہیں بھرے گئے اور وہ حکومت جائز تھی تو پھر یہ حکومت بھی جائز ہے۔
آج کی قومی سیاست کا پورا چہرہ عیاں ہو چکا ہے ، سیاسی جماعتوں نے ہر الیکشن میں جیت پر بھی خود ہی بڑا سوالیہ نشان لگایا ۔اگر تجزیہ کیا جائے تو آج کے حکمران کہہ رہے ہیں کہ 2018 کے الیکشن میں دھاندلی ہوئی تھی اور بانی پی ٹی آئی کو انتخابی بدعنوانی کے تحت وزیر اعظم بنایا گیا تھا اور اسے جائز حکومت قرار دیا گیا تھا۔ اگر جیتنے والوں نے 2018 کے الیکشن کو جائز قرار دے دیا تھا تو اب ہارنے کے بعد موجودہ الیکشن کو دھاندلی زدہ کیسے قرار دیا جا سکتا ہے۔ یہ تو ہر الیکشن میں ہوتا آیا ہے کہ ہارنے والے سیاستدان الیکشن کو دھاندلی زدہ قرار دیتے ہیں اور جیتنے والے اسے شفاف الیکشن گردانتے ہیں۔
2018 کے الیکشن کی تحقیقات کا کہا جا رہا ہے تو سوال یہ ہے کہ جب اپریل 22 میں تحریک عدم اعتماد کے ذریعے اس وقت کے وزیر اعظم عمران خان کو عہدے سے معزول کیا گیا تھا تو اسی دھاندلی زدہ اسمبلی سے نئی اتحادی حکومت وجود میں آئی تھی اور میاں شہباز شریف ملک کے 23 ویں وزیر اعظم منتخب ہوئے تھے ۔ 2018ء کے الیکشن کے ساتھ ساتھ یوں تو ہر الیکشن کی تحقیقات ہونی چاہیے۔
ہمارے منتخب ارکان انتخابات کو دھاندلی زدہ بھی قرار دیتے ہیں اور اسی اسمبلی سے چاہے وہ اقتدار میں ہوں یا اپوزیشن میں ، تنخواہ اور تمام مراعات حاصل کرتے ہیں۔ آج بھی الیکشن کو دھاندلی زدہ قرار دینے والے اپوزیشن ارکان اسی اسمبلی سے تمام مراعات حاصل کر رہے ہیں،انھوں نے کبھی یہ نہیں کہا کہ چونکہ یہ اسمبلی دھاندلی کی پیداوار ہے لہٰذا وہ کسی قسم کی تنخواہ اور مراعات اسمبلی سے حاصل نہیں کریں گے۔ جب اپنی تنخواہ بڑھانی ہو تو اس وقت حزب اقتدار اور حزب مخالف تمام اختلافات بھلا کر متحد ہو جاتے ہیں ۔ یہی سب سے بڑا المیہ ہے کہ ہمارے اکابرین سیاست نے اصولوں اور نظریات کی بجائے ہمیشہ اپنے سیاسی اور جماعتی مفادات کو ترجیح دی جس نے قومی سیاست کو داغ دار کر دیا۔
پاکستان کا ہر سیاستدان بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے خوابوں کی تعبیر بنانے کا دعویٰ کرتا ہے لیکن عملاً اپنے قائد کے سیاسی اصولوں اور نظریات کو پامال کرنے میں ذرا تامل نہیں کرتا۔ قائد اعظم آئین و قانون کی حکمرانی کے داعی تھے، ان کے متعدد بیانات، خطابات اور تقریریں اس بات کی گواہ ہیں کہ وہ ملک میں صاف ستھری سیاست، آئین و قانون کی حکمرانی، پارلیمنٹ کی بالادستی اور قومی مفادات کے تحفظ پر یقین رکھتے تھے جب کہ آج کے سیاستدان قائد کے دیے گئے سبق کے برعکس بدعنوانی میں لتھڑی سیاست، آئین و قانون کی پامالی، پارلیمنٹ کی بے توقیری اور قومی مفادات کی بجائے ذاتی مفادات کو ترجیح دیتے ہیں۔ نتیجتاً ملک میں سیاست کی اساس جمہوریت کو پروان چڑھنے کا موقع نہ مل سکا اور ملک غیر جمہوری قوتوں کے نرغے میں رہا پھر دونیم ہو گیا، لیکن ہمارے اکابرین سیاست نے پھر بھی سبق نہ سیکھا۔ آج کا بلوچستان سلگ رہا ہے لیکن سیاسی حکمت عملی سے مسائل حل کرنے کی کوششیں عنقا ہیں، چنگاری کو شعلہ بننے سے روکنے کے لیے ارباب اقتدار کو حالات کی سنگینی کا ادراک کرنا ہوگا۔
الیکشن 2018-2024 کی تحقیقات کی بات کی جا رہی ہے لیکن اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ تحقیقات شفاف ہوں گی؟ کیا فارم 45 اور فارم 47 کی اصل کہانی سامنے لائی جائے گی؟ اگر ہر الیکشن کی اصل کہانی سامنے لائی جائے تو ایک نیا پنڈورہ بکس کھل جائے گا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل