Loading
کراچی میں رینجرز ہیڈ کوارٹر پر خود کش حملہ کے بعد پاکستان نے افغانستان کی سرحد پردہشت گرد ٹھکانوں اور دہشت گرد تنظیموں کے ٹریننگ سینٹرز پر بمباری کی ہے۔
پاکستان کے وزیر اطلاعات کے بیان کے مطابق کنہڑ، پکتیا، پکتیکا میں پاکستان کے جنگی جہازوں کی جانب سے دہشت گرد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ پہلی دفعہ نہیں ہے کہ پاکستان نے افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔ لیکن یہ ضرور ہے کہ اب کافی دیر بعد افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ کافی وقفہ آگیا ہے۔ ورنہ پہلے تسلسل سے نشانہ بنایا جا رہا تھا۔
کہا جاتا ہے کہ چین کے شہر ارمچی میں چین کی ثالثی میں پاک افغان مذاکرات ہوئے تھے ۔ جس کے بعد آپ کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کافی حد تک سیز فائر ہو گیا تھا ۔ پاکستان نے سرجیکل اسٹرائیکس بند کر دی تھیں۔
لیکن اس سیز فائر کے نتیجے میں پاک افغان تعلقات بہتر نہیں ہوئے بلکہ افغان طالبان نے اس صورتحال کو تعلقات کی بہتری کے لیے نہیں بلکہ اپنے مذموم عزائم کی مزید تیاری کے لیے استعمال کیا ہے۔ اس لیے سیز فائر کا کوئی خاص فائدہ نہیں ہوا۔ بلکہ یہ احساس زیادہ مضبوط ہوا ہے کہ پاکستان کو سیز فائر نہیں کرنا چاہیے تھا بلکہ دہشت گرد ٹھکانوں کے خلاف اپنی کارروائیاں جاری رکھنی چاہیے تھیں۔
پاکستان نے تجارت بند کر کے دیکھ لی ہے۔ آمدو رفت بند کر کے دیکھ لی ہے۔ لیکن افغان طالبان کے روئیے اور پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ وہ بھارت کی گیم کھیل رہے ہیں۔ وہ بھارت کی پراکسی بنے ہوئے ہیں۔ اس لیے یہ سمجھنا کہ وہ کسی ثالثی کے نتیجے میں اپنی پالیسی بدل لیں گے ممکن نہیں۔ وہ ٹائم ضرور حاصل کرتے ہیں۔ مذاکرات سے اپنے لیے رعائت ضرور حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن ان کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔
یہ بات بھی قابل فہم ہے کہ عالمی سطح پر پاکستان کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ نے بھارت کو بہت پریشان کیا ہے۔ بھارت پاکستان کے بڑھتے عالمی کردار کو اپنے لیے خطرہ سمجھ رہا ہے۔ ایسے میں بھارت اب پاکستان میں حالات کو زیادہ خراب کروانے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ عالمی سطح پر پاکستان کے امیج کو خراب کیا جا سکے۔ حال ہی میں کراچی میں ہونے والا رینجرز ہیڈ کوارٹر پر خود کش حملہ بھی اسی سلسلہ کی کڑی نظر آرہا ہے۔ کراچی کو نشانہ ہی اس لیے بنایا گیا ہے تا کہ پاکستان کے عالمی امیج اور معیشت کو نشانہ بنایا جا سکے۔ بھارت کی پریشانی نے افغانستان میں دہشت گردی کے نیٹ ورک کو مزید تیز کیا ہے۔ وہاں دہشت گردوں کے لیے نئی منڈی کھول دی گئی ہے۔ ڈالر کی برسات نظرآ رہی ہے۔
ایران امریکا امن مذاکرات سے اسرائیل بھی پریشان ہے۔ اسرائیل بھی سمجھتا ہے کہ پاکستان نے اس کی گریٹ گیم کو ناکام بنا دیا ہے۔ اس لیے یہ کہا جا رہا ہے کہ اسرائیل نے بھی پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنے کے لیے بھارت کے پراکسی کھیل کو جوائن کر لیا ہے۔ اس وقت افغانستان میں بھارت اور اسرائیل مل کر پاکستان کے خلاف کھیل کھیل رہے ہیں۔اس لیے پاکستان کو زیادہ ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ ہم اس وقت کسی بھی قسم کی کوتاہی کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ ہمیں چوکس رہنے کی ضرورت ہے۔
اس لیے دفاعی تجزیہ نگاروں کی رائے میں پاکستان کی یہ پالیسی درست نہیں کہ جب پاکستان میں دہشت گردی کا کوئی بڑا واقعہ ہو تب ہی پاکستان اس کے جوابی ردعمل میں افغانستان میں سرجیکل اسٹرائیکس کرے۔ ہمیں انتظار نہیں کرنا چاہیے کہ جب کوئی بڑا واقعہ ہوگا ہم جواب دیں گے۔ دفاعی تجزیہ نگاروں کی رائے میں ہمیں افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو ہر وقت نشانہ بناتے رہنا چاہیے۔ اس میں کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے۔ پاکستان کی سرجیکل اسٹرائیکس میں ایک تسلسل ہونا چاہیے۔ پاکستان کی پالیسی میں ایک یکسوئی ہونی چاہیے۔
کراچی رینجرز ہیڈ کوارٹر کے ملزمان میں سے ایک عثمان کا اعترافی بیان بھی سامنے آیا ہے۔ لیکن کیا اس اعترافی بیان کی کوئی اہمیت ہے۔ سب جانتے ہیں کہ افغانستان وہاں سے دہشت گرد بھیجتا ہے۔ اس لیے اس کا افغان ہونا کوئی بڑی خبر نہیں۔ وہ افغانستان سے آیا کوئی بڑی خبر نہیں ہے۔ اس کو افغانستان میں ٹریننگ ملی یہ بھی کوئی خبر نہیں۔ یہ حقائق سب جانتے ہیں۔ یہ حقائق زبان زد عام نہیں۔دنیا بھی جانتی ہے۔ ہم بھی جانتے ہیں، افغان بھی جانتے ہیں۔ افغان طالبان کو بھی اس سے کوئی انکار نہیں ہے۔
اب سوال یہ بھی ہے کہ کیا اب جو سرجیکل اسٹرائیکس شروع کی ہیں ان سے مطلوبہ نتائج حاصل ہو جائیں گے۔ مجھے نہیں لگتا کہ یہ کافی ہیں۔ پہلے بھی ہم نے دیکھا ہے کہ مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوئے۔ افغان طالبان وقتی طور پر تو ان اسٹرائیکس کو بند کروانے کے لیے کوئی نہ کوئی طریقہ استعمال کرتے ہیں۔ لیکن وہ افغان طالبان کی کامیابی ہوتی ہے کہ وہ ان اسٹرائیکس کو رکوانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ پاکستان کی کامیابی تو تب ہو جب وہ پاکستان کے مطلوبہ دہشت گرد پاکستان کے حوالے کرنے کے لیے تیار ہو جائیں، دہشت گرد نیٹ ورک ختم کرنے کے لیے تیار ہو جائیں۔ دہشت گردی کے خلاف مشترکہ آپریشن پر تیار ہو جائیں۔ ایسا کچھ نہیں ہوتا تو پاکستان کی کامیابی تو نہ ہوئی۔ وقتی کھیل کھیلا جاتا ہے۔
اس لیے پاکستان کو ایسی حکمت عملی بنانی ہوگی کہ پاکستان اپنے مطلوبہ نتائج تک پہنچ جائے۔ ایک رائے یہ ہے کہ پاکستان کو سخت اور بڑا حملہ کرنا ہوگا۔ فضائی زمینی دونوں حملے کرنے ہوں گے۔ پاک افغان سرحد پر ایک بفر زون بنانا ہوگا۔ علاقے خالی کروانے ہوں گے۔ سرحد کی دوسری طرف سارا انفراسٹرکچر ختم کرنا ہوگا۔ کچھ بفر زون پہلے بنائے گئے تھے لیکن پھر نرمی کر دی گئی۔
تاہم اب تو یہی سمجھ آتا ہے کہ سرحد پر بفر زون ہی مسئلہ کا مستقل حل ہے۔ ورنہ سرحد پر سے دہشت گرد آتے رہیں گے۔ اس ضمن میں یقیناً ایک مربوط حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ جس سے دہشت گردی ختم ہو سکے۔ بہرحال بھارت اور افغان طالبان کا گٹھ جوڑ ٹوٹنا کوئی آسان نہیں۔ اس لیے پاکستان کوحکمت عملی کے بارے میں از سر نو جائزہ لینا چاہیے۔ وقتی سرجیکل اسٹرائیکس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا۔ایک عمومی رائے یہی ہے۔ افغان طالبان کا ڈر اتر گیا ہے۔ ان اسٹرائیکس کو وہ اپنے لیے کوئی بڑا خطرہ نہیں سمجھتے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ انھیں نشانہ نہیں بنایا جا رہا ہے۔ یہی کافی ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل