Monday, June 29, 2026
 

بابری مسجد کی جگہ بنائے گئے مندر سے 20 کروڑ روپے سے زائد عطیات چوری؛ 8 افراد گرفتار

 



بھارتی شہر ایودھیا میں رام مندر میں جمع ہونے والے عطیات کی گنتی کے نظام میں ہوشربا کرپشن ہونے کے انکشاف کے بعد تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا گیا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق کروڑوں روپے کی خرد برد کیس میں پولیس نے 8 افراد کو گرفتار کر لیا جب کہ بینک اہلکاروں اور مندر ٹرسٹ کے بعض سابق عہدیدار بھی تحقیقات کی زد میں آ گئے۔ بھارتی پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی شواہد کے مطابق عطیات کی گنتی پر مامور افراد نے تقریباً 7 سے ساڑھے 7 کروڑ بھارتی روپے (20 کروڑ سے زائد پاکستانی روپوں) خرد برد کے ٹھوس شواہد ملے ہیں۔ پولیس نے ملزمان کے قبضے سے 70 سے 80 لاکھ روپے نقد برآمد کرنے کا بھی دعویٰ کیا ہے جبکہ مزید رقم اور دیگر اثاثوں کا سراغ لگانے کی کوشش جاری ہے۔ تفتیش میں یہ بھی معلوم ہوا کہ مبینہ طور پر خرد برد کی گئی رقم سے ملزمان نے قیمتی جائیدادیں اور دیگر اثاثے خریدے جن میں تقریباً 65 لاکھ روپے مالیت کا مکان، فارم ہاؤس، ایک اسپورٹس یوٹیلٹی گاڑی، مہنگی موٹر سائیکل اور دیگر قیمتی سامان شامل ہیں۔ رپورٹس کے مطابق اسٹیٹ بینک آف انڈیا نے تقریباً تین ماہ قبل عطیات گننے والے عملے پر شبہ ظاہر کرتے ہوئے انہیں تبدیل کرنے کی سفارش کی تھی تاہم یہ اقدام مبینہ طور پر نافذ نہیں ہو سکا۔ 2 ملازمین کے کرپشن میں ملوث ہونے کے شواہد ملے ہیں۔ پولیس نے مندر ٹرسٹ کے سابق جنرل سیکریٹری چمپت رائے کا بیان بھی ریکارڈ کر لیا ہے جبکہ سابق ٹرسٹی انیل مشرا اور گوپال راؤ کو بھی نوٹس جاری کیے جانے کا امکان ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق گرفتار افراد میں سے کئی کو سفارش پر ملازمت دی گئی تھی اور ان کی پولیس سے باضابطہ تصدیق بھی نہیں کرائی گئی تھی۔ اس معاملے کے بعد رام مندر ٹرسٹ نئی بھرتیوں کے لیے سخت قواعد متعارف کرانے پر غور کر رہا ہے جس پر حتمی فیصلہ 11 جولائی کے اجلاس میں متوقع ہے۔  

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل