Monday, June 29, 2026
 

فرانس سمیت کسی کو بھی آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں ہٹانے کی اجازت نہیں دیں گے؛ ایران

 



ایران نے آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں ہٹانے کے فرانس اور عمان کے دعوے کو مسترد کردیا۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں ہٹانا صرف ایران کی ذمہ داری ہے، کسی بھی دوسرے ملک کو ایسا کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں کی صفائی کا کام ہم خود انجام دیں گے۔ کسی دوسرے ملک کو اس عمل میں شامل ہونے کی اجازت نہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ ایرانی اصولی طور پر ایسی کسی بھی مداخلت کی اجازت نہیں دیتے۔خطے کی صورتحال انتہائی حساس اور پیچیدہ ہے اس لیے فرانس کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کرے جو مزید اشتعال کا باعث بن سکتے ہیں۔ کاظم غریب آبادی نے مزید کہا کہ ایران اپنی سمندری حدود اور آبنائے ہرمز کی سلامتی سے متعلق معاملات خود سنبھالنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس مقصد کے لیے کسی بیرونی فوجی یا تکنیکی تعاون کی ضرورت نہیں۔ فرانس اور عمان نے کیا اعلان کیا تھا؟ اس سے قبل جمعے کے روز فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے اعلان کیا تھا کہ فرانس اور عمان اپنے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں کی صفائی، بحری جہاز رانی کے تحفظ اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے تعاون کریں گے۔ میکرون کے مطابق اس مشترکہ اقدام کا مقصد خلیج میں تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت کو یقینی بنانا، کسی بھی ممکنہ بحری خطرے کا تدارک کرنا اور ایران، امریکا و خلیجی ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات کو محدود کرنا ہے۔ فرانسیسی صدر نے کہا تھا کہ عمان خطے میں ثالثی کے کردار کے باعث اہم شراکت دار ہے اور دونوں ممالک اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر ایسے اقدامات کریں گے جن سے آبنائے ہرمز کھلی اور محفوظ رہے۔ خیال رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی سطح پر خام تیل اور قدرتی گیس کی بڑی مقدار برآمد کی جاتی ہے۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ کشیدگی اور امریکی فوجی کارروائیوں کے بعد اس آبی گزرگاہ کی سلامتی عالمی تشویش کا موضوع بنی ہوئی ہے۔  

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل