Loading
راولپنڈی کے تھانہ سہالہ کے علاقے میں قیدی وین سے حوالاتیوں کے فرار کے معاملے پر سہالہ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے قیدی وین پر تعینات راولپنڈی پولیس کے پانچ افسران و اہلکاروں کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کر لیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں وین کے انچارج سب انسپکٹر امتیاز اور چار اہلکار شامل ہیں جن میں ہیڈ کانسٹیبل یاسر، کانسٹیبل محرم، عذیر اور دیگر اہلکار شامل ہیں۔
پولیس ذرائع کے مطابق مقدمے میں فرار ہونے کے بعد دوبارہ گرفتار کیے گئے چار حوالاتیوں کو بھی نامزد کیا گیا ہے جبکہ فرائض میں غفلت، کار سرکار میں مزاحمت اور فرار ہونے سمیت دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے، پولیس آفیسر نے بھی مقدمے کی تصدیق کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق راولپنڈی پولیس کے پانچ اہلکاروں اور چار حوالاتیوں سمیت فرار ہونے والے مجموعی طور پر دس ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے، فرار ہونے والے اسیران کے گھروں پر رات گئے چھاپے بھی مارے گئے تاہم کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی، ملزمان کو آج اسلام آباد کی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
آئی جی پنجاب راؤ عبد الکریم نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے غفلت اور لاپرواہی پر ایس پی ہیڈکوارٹر مدثر اقبال کو تبدیل کر کے سنٹرل پولیس آفس کلوز کر دیا جبکہ ڈی ایس پی ہیڈکوارٹر محمد امتیاز کو معطل کر کے سی پی او کلوز کر دیا گیا۔
ذرائع کے مطابق فرار ہونے والے 10 حوالاتی قتل، اقدام قتل اور ڈکیتی جیسے سنگین مقدمات میں گرفتار تھے، جن میں منشیات کے مقدمے کا ملزم عالم زیب 2024 کے کیس میں گرفتار تھا، سنگین ڈکیتی کے الزام میں وہاب قیوم بھی 2024 کے مقدمے میں گرفتار تھا۔
احتشام شبیر، عدیل اور شاہ ضیغم شاہ ڈکیتی کے مقدمات میں نامزد تھے، عدنان عرف دانی اور واحد عرف واحدی قتل کے مقدمات میں گرفتار تھے جبکہ شامیر، عبد الرحمن اور اسد ستی اقدام قتل اور دیگر جرائم کے مقدمات میں زیر حراست تھے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل