Loading
ایران کے موجودہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی اہلیہ زہرہ حداد عادل کو گزشتہ روز تہران میں آیت اللہ خامنہ ای کی تجہیز و تکفین کے آغاز کے پہلے روز سپرد خاک کردیا گیا تھا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای ملکی حساس اداروں سے سیکیورٹی کلیئرنس نہ ملنے کے باعث اپنی اہلیہ زہرہ حداد عادل کی نماز جنازہ میں بھی شرکت نہیں کرسکے تھے۔
اسرائیل نے آیت اللہ علی خامنہ ای کی تجہیز و تکفین کے اعلان کے فوری بعد ایک بیان میں دھمکی دی تھی کہ ایرانی قیادت کو نشانہ بنائیں گے اور ہٹ لسٹ پر مجتبیٰ خامنہ ای ہی تھے جو سپریم لیڈر بننے کے بعد سے تاحال منظرعام پر نہیں آئے۔
زہرہ حداد عادل بااثر خاندان کی بیٹی اور ایرانی اشرافیہ کی خاموش شخصیت
ایران کے موجودہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی اہلیہ زہرہ حداد عادل ان شخصیات میں شمار ہوتی تھیں جو ملک کے طاقتور ترین سیاسی اور مذہبی خاندانوں سے تعلق رکھنے کے باوجود ہمیشہ عوامی اور میڈیا کی نظروں سے دور رہیں۔
زہرہ حداد بھی 28 فروری کو اُس اسرائیلی حملے میں شہید ہوگئی تھیں جس میں ان کے سسر آیت اللہ علی خامنہ ای اپنے رفقا سمیت شہید ہوگئے تھے۔ جس کے بعد زہرہ حداد کی شخصیت ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی۔
زہرہ حداد عادل ایران کے ممتاز قدامت پسند سیاست دان غلام علی حداد عادل کی صاحبزادی تھیں۔ غلام علی حداد عادل ایرانی پارلیمنٹ (مجلسِ شورائے اسلامی) کے سابق اسپیکر رہ چکے ہیں۔
غلام علی حداد عادل انھیں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے قریبی سیاسی اتحادیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ وہ ایرانی سیاست میں قدامت پسند دھڑے کی اہم شخصیت ہیں اور کئی برسوں سے مختلف اعلیٰ سرکاری اور تعلیمی عہدوں پر فائز رہے ہیں۔
زہرہ حداد عادل کی پیدائش غالباً 1979 کے آس پاس ہوئی، تاہم ان کی تاریخ پیدائش، تعلیم اور ابتدائی زندگی کے بارے میں کوئی مستند اور تفصیلی سرکاری معلومات دستیاب نہیں ہیں۔ انہوں نے ہمیشہ میڈیا سے دور رہنے کو ترجیح دی اور ان کی تصاویر بھی بہت کم منظرعام پر آئیں۔
2004 میں مجتبیٰ خامنہ ای سے شادی
زہرہ حداد عادل نے 2004 میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے دوسرے صاحبزادے سید مجتبیٰ خامنہ ای سے شادی کی۔ اس رشتے نے ایران کے دو بااثر مذہبی اور سیاسی خاندانوں کو مزید قریب کر دیا۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اس شادی کے بعد حداد عادل خاندان کا اثر و رسوخ ایرانی اقتدار کے اعلیٰ حلقوں میں مزید مضبوط ہوا۔
اولاد
دستیاب اطلاعات کے مطابق زہرہ حداد عادل اور مجتبیٰ خامنہ ای کے تین بچے ہیں، تاہم ان کے بارے میں بھی انتہائی کم معلومات منظرعام پر آئی ہیں۔ مختلف رپورٹس میں دو بچوں کے نام محمد باقر اور فاطمہ بتائے گئے ہیں، جبکہ بعض ذرائع تیسرے بچے کا بھی ذکر کرتے ہیں، لیکن اس کی شناخت یا نام کی سرکاری تصدیق موجود نہیں۔
عوامی زندگی سے دور رہیں
ایرانی حکمران خاندان کی رکن ہونے کے باوجود زہرہ حداد عادل نے کبھی سیاسی سرگرمیوں میں نمایاں کردار ادا نہیں کیا۔ وہ نہ تو عوامی اجتماعات میں زیادہ نظر آئیں اور نہ ہی انہوں نے کبھی میڈیا کو انٹرویوز دیے۔ ان کی زندگی مکمل طور پر نجی دائرے تک محدود رہی۔
حالیہ جنگ میں ہلاکت کی اطلاعات
حالیہ ایران، امریکا اور اسرائیل جنگ کے بعد متعدد بین الاقوامی ذرائع نے دعویٰ کیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای، ان کی اہلیہ اور خاندان کے دیگر افراد کے ساتھ زہرہ حداد عادل بھی بمباری میں ہلاک ہو گئی ہیں۔ تاہم ان کی ہلاکت کی تفصیلات اور حالات کے بارے میں ایرانی حکومت نے محدود معلومات جاری کی ہیں، جبکہ مختلف بین الاقوامی رپورٹس میں اس حوالے سے تفصیلات مختلف ہیں۔
خاموش مگر بااثر خاندان کی فرد
اگرچہ زہرہ حداد عادل کبھی سیاسی منظرنامے پر فعال دکھائی نہیں دیں، لیکن وہ ایران کے دو طاقتور خاندانوں—خامنہ ای اور حداد عادل—کے درمیان ایک اہم خاندانی ربط سمجھی جاتی تھیں۔ ان کی شخصیت ہمیشہ پردۂ اخفا میں رہی، مگر ان کا نام ایرانی اقتدار کے بااثر حلقوں میں ایک نمایاں خاندانی حیثیت رکھتا تھا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل