Monday, July 06, 2026
 

اگر ایران نے معاہدہ کرلیا تو ٹھیک ورنہ اس کا کام تمام کردیں گے؛ ٹرمپ کی دھمکی

 



امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کو دھمکی دی ہے کہ اب دو ہی راستے ہیں، یا تو معاہدہ کر لے یا پھر امریکا فیصلہ کن کارروائی کرے گا۔ صدر ٹرمپ نے یہ بات ایک ٹی وی انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے کی کہ حالیہ جنگ میں امریکی فوج نے ایرانی بحریہ کے جہازوں، فضائیہ کے تمام طیاروں اور ریڈار نظام کو مکمل طور پر تباہ کر دیا۔ انھوں نے مزید کہا کہ امریکی بحریہ نے ایران کے خلاف ایسی سخت بحری ناکہ بندی نافذ کی جو اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔ ان کے بقول تقریباً دو ماہ تک کوئی بھی جہاز اس ناکہ بندی کو عبور نہیں کر سکا۔ صدر ٹرمپ کے بقول ایران کو اندازہ ہو گیا کہ وہ اپنی فضائی حدود کا دفاع کرنے کی صلاحیت کھو چکا ہے جس کے بعد مذاکرات پر راضی ہوا اور ممکنہ معاہدے کے امکانات کے پیش نظر امریکا نے بھی نرمی سے کام لیا تھا۔ امریکی صدر نے مزید دعویٰ کیا کہ ضرورت پڑنے امریکی افواج بہت کم وقت میں ایران کے بنیادی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنا کر تباہ کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں جس کی تیاری بھی مکمل ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ہم ایک گھنٹے کے اندر ایران کے پل تباہ کر سکتے ہیں اس کا بجلی کا نظام مفلوج کر سکتے ہیں اور اس کے جدید پاور پلانٹس کو ناکارہ بنا سکتے ہیں لیکن میں فوجی کارروائی کے بجائے سفارتی حل کو ترجیح دیتا ہوں۔ امریکی صدر نے مزید کہا کہ میں معاہدے کو اس لیے ترجیح دیتا ہوں کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ ایران کی تقریباً 9 کروڑ 10 لاکھ آبادی اس کا خمیازہ بھگتے لیکن معاہدہ نہیں کیا تو فیصلہ کن کارروائی ناگزیر ہوگی۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران اب معاشی طور پر بھی کمزور ہو چکا ہے اور اس کے پاس پہلے جیسی مالی طاقت نہیں رہی۔ اس لیے وہ بھی جنگ کے بجائے مذاکرات کی خواہش رکھے گا۔    

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل