Monday, July 06, 2026
 

عظیم رہبر کا جنازہ

 



طاقت کی تاریخ میں بعض لمحے ایسے آتے ہیں جب توپوں کی گھن گرج سے زیادہ بلند آواز خاموشی کی ہوتی ہے اور فاتح کے اعلانات سے زیادہ گہرا اثر جنازوں کے جلوس چھوڑ جاتے ہیں۔ ریاستیں صرف اپنے ہتھیاروں سے نہیں بلکہ اپنے اجتماعی حافظے، قومی شعور اور سیاسی ارادے سے بھی زندہ رہتی ہیں۔ اسی لیے بعض اوقات ایک طرف میزائلوں کی گنتی جاری ہوتی ہے اور دوسری طرف کروڑوں انسان اپنے وجود کی اجتماعی معنویت کا اعلان کر رہے ہوتے ہیں۔ مشرق وسطیٰ اس وقت اسی دہری حقیقت کے بیچ کھڑا ہے جہاں عسکری طاقت، مذہبی جذبات، توانائی کی سیاست، عالمی سفارت کاری اور داخلی سیاسی مفادات ایک دوسرے میں اس طرح پیوست ہو چکے ہیں کہ کسی ایک واقعے کو الگ کرکے سمجھنا ممکن نہیں رہا۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں خبر صرف خبر نہیں رہتی بلکہ پورے عہد کی سمت متعین کرنے والا اشارہ بن جاتی ہے۔  ایران میں سابق رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ میں غیر معمولی عوامی شرکت محض ایک مذہبی اجتماع نہیں تھا بلکہ ایک سیاسی پیغام بھی تھا۔ تہران کی سڑکوں پر امڈنے والا انسانی سمندر، میٹرو میں لاکھوں افراد کی آمدورفت اور قومی یکجہتی کا اظہار اس حقیقت کی یاد دہانی کراتا ہے کہ ریاستوں کے بارے میں صرف عسکری اندازوں سے رائے قائم کرنا اکثر گمراہ کن ثابت ہوتا ہے۔ مغربی دنیا طویل عرصے سے ایرانی نظام کے اندرونی تضادات، معاشی دباؤ اور عوامی بے چینی پر گفتگو کرتی رہی ہے، لیکن ایسے مواقع یہ بھی ثابت کرتے ہیں کہ بیرونی دباؤ کے وقت ایرانی معاشرہ اپنی داخلی تقسیم کو وقتی طور پر پس پشت ڈال کر قومی وحدت کی صورت اختیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہی وہ نفسیاتی سرمایہ ہے جسے کسی بھی جنگی تجزیے میں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔  نمازِ جنازہ کے موقع پر انتقام کے نعروں، ایرانی فوجی قیادت کے سخت بیانات اور ذمے داروں کو ہر قیمت پر انصاف کے کٹہرے میں لانے کے عزم نے واضح کر دیا ہے کہ ایران اس واقعے کو محض ایک سانحہ نہیں بلکہ اپنی قومی سلامتی کے خلاف اعلانِ جنگ تصور کر رہا ہے۔ ایسے بیانات صرف داخلی جذبات کی تسکین کے لیے نہیں ہوتے بلکہ ان کا مقصد دشمن کو یہ باور کرانا بھی ہوتا ہے کہ وقت گزرنے سے ریاست کی یادداشت کمزور نہیں پڑتی۔ مشرق وسطیٰ کی سیاست میں انتقام کا تصور محض جذباتی نہیں بلکہ طویل المدتی تزویراتی حکمت عملی کا حصہ بھی ہوتا ہے، جہاں جواب فوری نہ بھی آئے تو اس کی تیاری برسوں جاری رہتی ہے۔دوسری طرف ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر سروس فیس عائد کرنے کا اعلان اس حقیقت کا اظہار ہے کہ تہران اب اپنی جغرافیائی اہمیت کو زیادہ جارحانہ انداز میں استعمال کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی توانائی کی شہ رگ ہے، اگر اس راستے کی اقتصادی حیثیت کو سیاسی دباؤ کے آلے میں تبدیل کیا جاتا ہے تو اس کے اثرات صرف خلیج تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی تجارت، افراطِ زر، بحری بیمہ، توانائی کی قیمتوں اور بین الاقوامی منڈیوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ ایران اس اقدام کے ذریعے یہ پیغام بھی دے رہا ہے کہ اقتصادی پابندیوں کا جواب صرف عسکری میدان میں نہیں بلکہ عالمی تجارتی راستوں کے ذریعے بھی دیا جا سکتا ہے۔ایران اور قطر کے درمیان بحری تجارت کی بحالی اور بندر عباس سے فضائی سرگرمیوں کا دوبارہ آغاز ایک اور اہم اشارہ ہے۔ یہ اقدامات ثابت کرتے ہیں کہ شدید کشیدگی کے باوجود تہران اپنی معیشت کو مکمل طور پر مفلوج ہونے نہیں دینا چاہتا۔ جنگ کے بعد کسی بھی ریاست کی اصل آزمائش میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ سپلائی لائنوں، بندرگاہوں، تجارتی راہداریوں اور سرمایہ کاری کے اعتماد کی بحالی میں ہوتی ہے۔ ایران اسی مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں اسے اپنے عوام کو یہ یقین دلانا ہے کہ ریاستی نظام برقرار ہے اور اقتصادی سرگرمیاں دوبارہ معمول کی طرف لوٹ سکتی ہیں۔ اسرائیل کی جانب سے لبنان میں کارروائیوں کا تسلسل، حزب اللہ کے خلاف مسلسل عسکری حکمت عملی اور غزہ کی تعمیر ِ نو کو حماس کے ہتھیار ڈالنے سے مشروط کرنا اس امر کی علامت ہے کہ تل ابیب اب بھی اپنی سلامتی کے تصور کو مکمل عسکری برتری کے ذریعے نافذ کرنا چاہتا ہے، تاہم گزشتہ برسوں نے یہ حقیقت بھی نمایاں کر دی ہے کہ فوجی کامیابیاں ہمیشہ سیاسی استحکام میں تبدیل نہیں ہوتیں۔ غزہ کی تباہی، لبنان میں مسلسل حملے اور ایران کے ساتھ براہِ راست محاذ آرائی نے اسرائیل کو وقتی عسکری برتری تو دی ہے، مگر اس کے ساتھ سفارتی تنہائی، عالمی تنقید اور داخلی سیاسی اختلافات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ اسی تناظر میں اسرائیلی انٹیلی جنس کا اپنے ہی وزیر اعظم کے ایران کے جوہری پروگرام کی مکمل تباہی کے دعوے کی توثیق سے انکار غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ جدید ریاستوں میں سیاسی قیادت اور انٹیلی جنس اداروں کے درمیان اختلاف کوئی نئی بات نہیں، مگر جنگ کے فوراً بعد اس نوعیت کا اختلاف یہ ظاہر کرتا ہے کہ زمینی حقائق اور سیاسی بیانیے میں فاصلہ موجود ہے۔ اگر انٹیلی جنس ادارے خود نقصان کی مکمل تصدیق سے گریز کر رہے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ جنگی کامیابی کے دعوؤں کو اب بھی احتیاط سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ سیاسی قیادت کو اکثر عوامی حوصلہ بلند رکھنے کے لیے قطعی زبان استعمال کرنا پڑتی ہے، مگر پیشہ ورانہ انٹیلی جنس اندازے عموماً امکانات اور حدود کے ساتھ بیان کیے جاتے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ دعویٰ کہ امریکا نے ایران کی عسکری قوت کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے، اسی وسیع تر بیانیاتی جنگ کا حصہ محسوس ہوتا ہے۔ عالمی سیاست میں بعض اوقات الفاظ بھی ہتھیار بن جاتے ہیں، لیکن کسی فوجی طاقت کی مکمل تباہی کا دعویٰ اس وقت تک قابلِ قبول نہیں ہو سکتا جب تک زمینی شواہد، آزاد تجزیے اور بعد کے واقعات اس کی تصدیق نہ کریں، اگر ایران واقعی مکمل طور پر عسکری لحاظ سے ناکارہ ہو چکا ہوتا تو نہ اس کی بحری سرگرمیاں بحال ہوتیں، نہ وہ آبنائے ہرمز کے حوالے سے نئے فیصلے کرتا، نہ اس کے علاقائی اتحادی متحرک دکھائی دیتے اور نہ ہی عالمی طاقتیں آیندہ مذاکرات کے لیے اس سے مسلسل رابطے میں ہوتیں۔ پاکستان کے لیے اس پورے منظرنامے میں سب سے اہم خبر ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ بالواسطہ مذاکرات کے تناظر میں اعلیٰ سطح ایرانی وفد کا متوقع دورہ ہے، یہ دورہ محض سفارتی آداب کی ادائیگی نہیں بلکہ خطے میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے کردار کا مظہر بھی ہو سکتا ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں پاکستان نے اگرچہ شدید معاشی مشکلات کا سامنا کیا، مگر اس کی خارجہ پالیسی نے بتدریج ایک متوازن سفارتی انداز اختیار کیا ہے۔ ایران، سعودی عرب، خلیجی ریاستوں، چین اور امریکا کے ساتھ بیک وقت رابطے برقرار رکھنا آسان کام نہیں، لیکن یہی توازن اسلام آباد کو ایک ممکنہ ثالث کے طور پر قابلِ قبول بناتا ہے۔ ایرانی وفد میں صرف سیاسی شخصیات نہیں بلکہ تجارت، صنعت، زراعت، ثقافت، سیاحت اور بنیادی ڈھانچے سے وابستہ نمایندوں کی شمولیت بھی اس امر کی علامت ہے کہ دونوں ممالک تعلقات کو محض سلامتی کے دائرے تک محدود نہیں رکھنا چاہتے، اگر یہ تعاون عملی منصوبوں میں تبدیل ہوتا ہے تو سرحدی تجارت، توانائی، ٹرانزٹ، علاقائی رابطہ کاری اور عوامی سطح پر تعلقات میں ایک نئی پیش رفت ممکن ہو سکتی ہے۔ پاکستان کے لیے یہ وقت محض سفارتی میزبانی کا نہیں بلکہ اپنی اقتصادی ترجیحات کو علاقائی تعاون سے جوڑنے کا بھی ہے۔ مشرق وسطیٰ کی حالیہ صورتِ حال ایک بنیادی حقیقت کو پھر نمایاں کر رہی ہے کہ جنگیں صرف محاذوں پر نہیں لڑی جاتیں۔ وہ معیشت میں بھی لڑی جاتی ہیں، اطلاعات میں بھی، عوامی رائے میں بھی، انتخابات میں بھی، سفارت کاری میں بھی اور تاریخ کی تعبیر میں بھی۔ ایک طرف جنازے قومی وحدت کا استعارہ بنتے ہیں، دوسری طرف عسکری دعوے سیاسی سرمایہ بننے کی کوشش کرتے ہیں۔ کہیں تیل کی پیداوار بڑھائی جا رہی ہے، کہیں بحری راستوں کی نئی قیمت طے ہو رہی ہے، کہیں انٹیلی جنس ادارے سیاسی دعوؤں سے اختلاف کر رہے ہیں اور کہیں مذاکرات کے دروازے بند ہونے کے بجائے نئے مقامات پر کھل رہے ہیں۔  دنیا شاید ایک نئے توازن کی تلاش میں ہے جہاں طاقت کی پرانی تعریفیں تیزی سے بدل رہی ہیں۔ اب صرف میزائلوں کی تعداد فیصلہ کن نہیں رہی بلکہ اقتصادی برداشت، سفارتی لچک، قومی یکجہتی، معلوماتی جنگ اور عالمی اعتماد بھی اتنے ہی اہم عوامل بن چکے ہیں۔ جو ریاستیں صرف عسکری کامیابی کو اپنی آخری منزل سمجھیں گی، وہ شاید وقتی فتح تو حاصل کر لیں مگر دیرپا استحکام نہیں اور جو قومیں بحران کے دوران اپنی داخلی وحدت، اقتصادی حکمت عملی اور سفارتی بصیرت کو یکجا کر سکیں گی، مستقبل انھی کے حق میں زیادہ سازگار ثابت ہوگا۔ مشرقِ وسطیٰ کا تازہ بحران بھی اسی ابدی حقیقت کی ایک نئی تعبیر ہے کہ تاریخ میں اصل کامیابی صرف جنگ جیتنے سے نہیں بلکہ امن کی شرائط طے کرنے کی صلاحیت سے وابستہ ہوتی ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل