Loading
کسی بھی حکمران کا طرز حکمرانی ہی بتاتا ہے کہ وہ اپنے عوام کے مسائل کے حل کے لیے کتنا سنجیدہ ہے۔ عوام کے مسائل کے نام پہ زبانی جمع خرچ والی تقریریں کرنے اور حقیقی ریلیف دینے میں بہت فرق ہوتا ہے۔ 2018سے 2022 تک پنجاب کے ہر طبقے کے ساتھ جو نا انصافی کی گئی اس کا ازالہ مریم نواز کر رہی ہیں۔ مریم نواز کی حکومت کو دو سال اور چارماہ ہو چکے ہیں، اس دوران پنجاب میں کوئی بھی ایسا طبقہ یاایسا شعبہ نہیں جس میں مریم نواز نے ریلیف نہ دیا ہو۔ پنجاب کے وسائل پر سب سے پہلا حق پنجاب کے عوام کا ہے یہ وسائل پنجاب کے عوام کی امانت ہیں۔ پنجاب میں زراعت سب سے بڑا اور اہم ترین شعبہ ہے، پنجاب کی زراعت سے پورا پاکستان مستفید ہوتا ہے۔
زراعت کے شعبے میں گزشتہ دو سالوں میں جو انقلابی اقدامات کیے گئے ہیں وہ ماضی میں نہیں اٹھائے گئے۔پنجاب کا کسان اس بات کی خود گواہی دیتا ہے کہ مریم نواز نے ہمیں عزت دی ہے اور حقیقی ریلیف دیا ہے۔محترمہ مریم نواز سے پہلے ہم صرف حکومتی نمایندوں کی تقریریں سنتے تھے لیکن عملی اقدامات نہ ہونے کے برابر ہوتے تھے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے زراعت اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں میں انقلابی اقدامات کیے ہیں۔ پنجاب سب سے بڑا آبادی والا صوبہ ہے اور یقیناً وسائل کی فراہمی کا سلسلہ بھی اسی تیزی سے مریم نواز نے جاری رکھا ہے۔ اگر زراعت کے شعبے کی بات کی جائے تو کسانوں کو سب سے زیادہ ریلیف مریم نواز کی حکومت نے دیا ہے۔ پنجاب میں پاکستان بننے سے لے کر 2022 تک ٹوٹل 20 ہزار ٹریکٹرز تقسیم کیے گئے۔جن میں زیادہ ٹریکٹر شہباز شریف حکومت کے دور میں دیے گئے۔
مریم نواز کی حکومت نے دو سال کے عرصے میں کسانوں میں 30 ہزار گرین ٹریکٹر تقسیم کیے ہیں ہر ٹریکٹر پر 10 لاکھ روپے تک سبسڈی دی گئی ہے جب کہ گندم کے کاشت کاروں کو ایک ہزار گرین ٹریکٹر مفت تقسیم کیے گئے ہیں۔ کسان کے لیے ٹریکٹر کتنی بڑی نعمت ہے اس کا اندازہ صرف ایک کسان ہی لگا سکتا ہے۔اس وقت پنجاب میں 30 ہزار گرین ٹریکٹر چل رہے ہیں جس سے ہزاروں کاشتکار اپنی فصل کی پیداوار بڑھانے میں مصروف عمل ہیں۔ اس پروگرام کے اگلے مرحلے میں 20 ہزار گرین ٹریکٹر قرعہ اندازی کے ذریعے تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔پنجاب میں پہلی مرتبہ مریم نواز کی حکومت نے ہی 9لاکھ کسان کارڈ تقسیم کیے جب کہ اگلے ماہ تک 10لاکھ کا ہدف طے کردیا گیا ہے۔۔کاشت کاروں میں 8ہزار ٹیوب ویل کی سولرائزیشن کا پروگرام متعارف کروایا اور 5ہزارسپر سیڈر بھی تقسیم کیے۔ پنجاب میں ایگری کلچر مال کا قیام بھی عمل میں لایا گیا ہے جہاں ایک ہی چھت تلے کاشت کاروں کو تمام سہولیات دستیاب ہیں۔یہ ایگریکلچر مال فیصل آباد،جھنگ،اوکاڑہ اور خانیوال میں قائم کیے گئے ہیں۔
اسی لیے آج پنجاب میں گندم کی پیداوار میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ اب چاول کا سیزن ہے تو یقینی طور پر چاول کی پیداوار میں بڑا اضافہ ہوگا۔ مریم نواز کا پنجاب کے عوام کے لیے دوسرا بڑا انقلابی اقدامات گرین الیکٹرک بسوں کی فراہمی ہے۔ اس گرمی کے موسم میں اے سی اور وائی فائی والی لگژری سفری سہولت کو پنجاب کا عام آدمی پرسکون انداز میں استعمال کر رہا ہوں۔ اس وقت پنجاب کے تمام اضلاع میں 1100 سے زائد الیکٹرک بسیں چل رہی ہیں۔جن سے روزانہ لاکھوں افراد جدید اور معیاری سفری سہولت سے مستفید ہو رہے ہیں۔ مریم نواز نے اعلان کیا ہے پنجاب کی 147 تحصیلوں میں الیکٹرک بسیں پہنچائی جائیں گی۔پانچ سال میں پانچ ہزار الیکٹرک بسیں پورے پنجاب میں چلتی نظر آئیں گی۔ مجموعی طور پر: 91 تحصیلوں میں 1500 الیکٹرک بسیں تقسیم کی جا رہی ہیں۔ اس کے علاوہ پنجاب کے طلبہ و طالبات کو مریم نواز نے اپنی حکومت کے پہلے سال 2178 الیکٹرک بائیکس تقسیم کیں۔ الیکٹرک بائیکس بلا تفریق پنجاب کے چھوٹے بڑے اضلاع میں طلبہ کو تقسیم کی گئی ہیں۔ وزیراعلی پنجاب مریم نواز نے اپنے ہر منصوبے میں جنوبی پنجاب کو ترجیح دی ہے۔اب وزیراعلی پنجاب مریم نواز نے پنجاب کے طلبہ و طالبات کو مزید ایک لاکھ بائیک تقسیم کرنے کا اعلان کیا ہے اس مرتبہ سرکاری ملازمین بھی اس اسکیم سے استفادہ کر سکتے ہیں۔
الیکٹرک اسکیم کا مرکزی نعرہ ’’اپنی سواری سے خود مختاری‘‘رکھا گیا ہے۔ وزیراعلی پنجاب مریم نواز پنجاب کے بیٹوں کے ساتھ بیٹیوں کو بھی خود مختار بنانا چاہتی ہیں۔ وزیراعلی پنجاب مریم نواز نے اس پروجیکٹ میں گزشتہ سال بھی بیٹیوں کی ڈاؤن پیمنٹ خود ادا کی تھی اس مرتبہ بھی طالبات کی ڈاؤن پیمنٹ اور رجسٹریشن فیس وزیراعلی پنجاب خود ادا کریں گی۔ اس منصوبے کا مقصد نوجوانوں کو با اختیار بنانا سفری سہولت فراہم کرنا، تعلیمی رسائی بہتر بنانا اور ماحول دوست ٹرانسپورٹ کو فروغ دینا ہے۔ یہ اسکیم نوجوانوں کی مالی مشکلات کم کرنے اور انھیں اپنی ذاتی سواری کے ذریعے خود مختار بنانے کی جانب مریم نواز کا اہم قدم ہے۔ وزیراعلی پنجاب مریم نواز نے اب تک جتنے بھی منصوبے شروع کیے ہیں یہ تمام فائلوں یا بند کمروں کی میٹنگ کی نذر نہیں ہوئے بلکہ گراؤنڈ پر ڈلیور کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں، یہی وزیراعلی پنجاب مریم نواز اور باقی صوبوں کی حکومتوں میں فرق واضح کرتا ہے۔ وزیراعلی پنجاب مریم نواز کی ترجیحات بہت واضح اور دو ٹوک ہیں، پنجاب کے وسائل اور خزانے پر پنجاب کے عوام کا حق ہے اور یہ تمام وسائل اور خزانہ پوری ایمانداری اور ذمے داری کے ساتھ مریم نواز پنجاب کے لوگوں پر خرچ کر رہی ہیں۔ پنجاب حکومت کا کسی اور صوبائی حکومت کے ساتھ کوئی مقابلہ اور موازنہ نہیں ہے۔
پنجاب سے کوئی بھی صوبہ کسی بھی منصوبے سے متعلق رہنمائی حاصل کرنا چاہتا ہے تو پنجاب کے دروازے کھلے ہیں۔جیسے پنجاب کے بچوں کو ایک لاکھ لیپ ٹاپ اور 80 ہزار اسکالرشپ تقسیم کیے گئے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں ایسے ہی باقی صوبوں کے نوجوانوں کو بھی یہ وسائل میسر آنے چاہیے۔ اکثر سیاست دانوں کی جانب سے اپنی تقریروں میں کہا جاتا ہے کہ نوجوان قوم کا مستقبل ہیں لیکن مریم نواز کے سوا کونسی صوبائی حکومت نوجوانوں کے لیے عملی طور پر اقدامات کر رہی ہے یہ بھی پوری قوم کے سامنے ہے۔ مریم نواز کا طرز حکمرانی ہی پاکستان سمیت دنیا بھر میں ان کی پہچان بن چکا ہے۔پنجاب واحد صوبہ ہے جس کے منصوبوں کی عالمی سطح پر پذیرائی ہو رہی ہے اس کی صرف ایک ہی وجہ ہے کہ پنجاب میں ہر کام میرٹ اور شفافیت کی بنیاد پر ہو رہا ہے۔ دو سال کے عرصے میں جتنے بھی سروے آئے ہیں ان میں پنجاب حکومت اور وزیراعلی پنجاب کی کارکردگی سر فہرست رہی ہے یہی مریم نواز کی اب تک کی سب سے بڑی اچیومنٹ ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل