Monday, July 06, 2026
 

حیدرآباد میں عدالتی حکم پر ڈیڑھ سو سے زائد دکانیں سیل، دکاندار سڑکوں پر نکل آئے

 



حیدرآباد میں محکمہ پولیس کے اسٹیٹ افسر نے رات گئے چھوٹکی گھٹی اور مولانا محمد علی جوہر روڈ پر کارروائی کرتے ہوئے پولیس کی ملکیتی اراضی پر قائم ڈیڑھ سو سے زائد دکانیں سیل کر دیں، جس کے بعد دکانداروں نے شدید احتجاج کیا۔ ڈسٹرکٹ پولیس ترجمان کے مطابق چھوٹکی گھٹی پر واقع پولیس شاپنگ مال اور الرحیم شاپنگ سینٹر میں قائم دکانیں سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں سیل کی گئی ہیں۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ کارروائی پولیس کے اسٹیٹ افسر محمد صلاح الدین کی نگرانی میں انجام دی گئی۔ دوسری جانب دکانیں سیل کیے جانے کی اطلاع ملتے ہی متاثرہ دکاندار موقع پر جمع ہوگئے اور پولیس اہلکاروں سے تلخ کلامی اور دھکم پیل بھی ہوئی۔ بعد ازاں مشتعل دکانداروں نے تھانہ سٹی کا گھیراؤ کیا اور پولیس کے خلاف نعرے بازی کی جبکہ الرحیم شاپنگ سینٹر کے باہر مرکزی شاہراہ پر بھی احتجاج کیا گیا۔ متاثرہ دکانداروں کا کہنا ہے کہ دکانوں سے متعلق مقدمہ پہلے ہی سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے اور اس کیس کی آئندہ سماعت 10 جولائی 2026 کو مقرر ہے۔ ان کا الزام ہے کہ انہیں کوئی پیشگی نوٹس دیے بغیر دکانیں سیل کر دی گئیں جبکہ دکانوں میں کروڑوں روپے مالیت کا سامان موجود ہے۔ دکانداروں نے مطالبہ کیا کہ دکانوں پر لگائی گئی سیل فوری ختم کی جائے، بصورت دیگر وہ احتجاج کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے پورے حیدرآباد کو جام کرنے پر مجبور ہوں گے۔ پولیس کا مؤقف ہے کہ کارروائی عدالتی احکامات کے مطابق کی گئی ہے جبکہ معاملے پر مزید قانونی کارروائی جاری ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل