Monday, July 06, 2026
 

مستقبل کے ٹی وی چینلز اور نیوزروم کیسے ہوں گے؟

 



جب میں صحافت کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد ایک ٹی وی چینل میں ملازمت کے لیے گیا تو میرے لیے یہ منظر ہی الگ تھا۔ اس وقت منظر کچھ یوں ہوتا تھا کہ ایک طرف نیوز روم میں کچھ رپورٹرز، کمپیوٹر اسکرینوں پر جھکے ہوئے تھے، دوسری طرف پروڈیوسرز ہیڈ فون لگائے مسلسل ہدایات دے رہے ہوتے تھے۔ کنٹرول روم میں بٹنوں کی قطاریں، بڑی بڑی اسکرینیں، روشنیوں کی چمک، کیمروں کے پیچھے کھڑے آپریٹر، مائیک سنبھالتے ساؤنڈ انجینئر، گرافکس تیار کرتے ڈیزائنر اور اسٹوڈیو میں خبریں پڑھتا نیوز کاسٹر۔ ایک گھنٹے کا بلیٹن نشر کرنے کے لیے بعض اوقات بیس سے تیس افراد بیک وقت کام کر رہے ہوتے تھے، لیکن اب لگتا ہے کہ بہت جلد یہ سب کچھ بدل جائے گا۔اب ہمار ے سامنے سوال یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت جو ایک سادہ سے کیلکولیٹر سے شروع ہوئی تھی۔ آج ’’اے آئی‘‘ کے نام سے اپنے عروج پر ہے اور دنیا میں ایک انقلاب برپا کرچکی ہے، اس کے نتیجے میں کسی ٹی وی چینل اور اس کے نیوز روم کا بھی، کیا دس برس بعد بھی یہی منظر ہوگا؟  اس سوال کا جواب اب صرف قیاس نہیں، بلکہ ٹیکنالوجی کی موجودہ رفتار کو دیکھتے ہوئے ایک واضح امکان بنتا جا رہا ہے۔مصنوعی ذہانت (AI) نے میڈیا انڈسٹری کو اس موڑ پر لا کھڑا کیا ہے جہاں ٹیلی ویژن کی پوری معیشت بدل سکتی ہے۔اب تک دنیا کے جدید ترین نیوز اسٹوڈیوز پر کروڑوں نہیں بلکہ اربوں روپے خرچ ہوتے رہے ہیں۔ بڑے عالمی اداروں کے اسٹوڈیوز میں وسیع LED ویڈیو والز، روبوٹک کیمرے، خودکار لائٹنگ، جدید براڈکاسٹ کنٹرول روم اور پیچیدہ گرافکس سسٹم نصب ہوتے ہیں۔ پاکستان میں بھی بڑے نیوز چینلز اپنے مرکزی اسٹوڈیوز پر کروڑوں روپے خرچ کرتے ہیں، جب کہ پورے براڈکاسٹ انفرا اسٹرکچر کی لاگت کئی مرتبہ سو کروڑ روپے سے تجاوز کر جاتی ہے مگر AI ایک ایسا انقلاب لا رہا ہے جو شاید اس پوری سرمایہ کاری کی تعریف بدل دے۔  آج اگر کسی چینل کو ایک جدید اسٹوڈیو بنانے کے لیے دس، بیس یا تیس کروڑ روپے درکار ہیں تو مستقبل میں ایک طاقتور کمپیوٹر، ایک معیاری کیمرہ، چند لائٹس اور AI سافٹ ویئر کی مدد سے اسی معیار کا ورچوئل اسٹوڈیو نسبتاً بہت کم لاگت میں تیار کیا جا سکے گا۔ گرین اسکرین یا LED وال کے سامنے کھڑا ایک شخص چند سیکنڈ میں کبھی لندن، کبھی نیویارک اور کبھی کسی خلائی اسٹیشن جیسے پس منظر میں نظر آ سکے گا۔ اصل تبدیلی صرف اسٹوڈیو کی نہیں، انسان کی بھی متوقع ہے۔آج ایک بڑے نیوز چینل میں سیکڑوں افراد کام کرتے ہیں۔ رپورٹر، پروڈیوسر، نیوز رائٹر، ویڈیو ایڈیٹر، گرافکس ڈیزائنر، کیمرہ مین، ساؤنڈ انجینئر، ٹیلی پرومپٹر آپریٹر، سوشل میڈیا ٹیم، IT ماہرین، مارکیٹنگ اور انتظامی عملہ۔ یہ ایک ایسی مشین ہے جس کا ہر پرزہ ضروری سمجھا جاتا ہے مگر AI اس مشین کے کئی پرزوں کو بدل رہا ہے۔ آج جو کام دس ویڈیو ایڈیٹر کرتے ہیں، کل وہ ایک یا دو افراد AI کی مدد سے کر سکیں گے۔ سب ٹائٹل خود بن جائیں گے، آواز خود صاف ہوگی، رنگ خود درست ہوں گے۔ گرافکس چند سیکنڈ میں تیار ہوں گے۔ خبر کا ابتدائی مسودہ AI لکھ دے گا۔ مختلف زبانوں میں ترجمہ بھی فوری ہوگا۔یہاں تک کہ خبر پڑھنے والا اینکر بھی مصنوعی ہو سکتا ہے۔چین، جنوبی کوریا اور کئی دوسرے ممالک میں AI نیوز اینکر پہلے ہی تجرباتی یا محدود پیمانے پر استعمال ہو رہے ہیں۔ وہ چوبیس گھنٹے بغیر تھکے خبریں پڑھ سکتے ہیںاور ہر لمحہ ایک جیسے اعتماد کے ساتھ اسکرین پر موجود رہ سکتے ہیں۔کیا اس کا مطلب ہے کہ انسانی اینکر ختم ہو جائیں گے؟ مکمل طور پر تو شاید نہیں کیونکہ خبر صرف الفاظ پڑھنے کا نام نہیں۔ ایک بڑے حادثے کے بعد متاثرہ خاندان سے گفتگو، کسی طاقتور سیاست دان سے سخت سوالات یا کسی قومی بحران کے دوران عوام کے جذبات کو سمجھنا ،ابھی بھی انسان ہی بہتر انداز میں کر سکتا ہے۔ AI چہرہ بنا سکتا ہے، مگر اعتماد پیدا کرنا اب بھی انسان کا ہنر ہے۔ تاہم قوی امکان ہے کہ ہمارے ہاں کے مارننگ شوز وغیرہ میں شاید اس قسم کے بھی تجربے ہوں کہ ماضی کی کسی معروف شخصیت کو بطور اے آئی میزبان لیا جائے۔ مثلاً کسی فلمی موضوع کے پروگرام میں ماضی کے مشہور اداکار دلیپ کمار میزبانی کر رہے ہوں یا کسی کرکٹ میچ کے شو کی میزبانی مشہور کرکٹر حنیف محمد کر رہے ہوں۔ یاد رہے کہ کراچی شہر کے ایک نجی اسکول میں اے آئی روبوٹ ٹیچر متعارف کرائی جا چکی ہے۔اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ میڈیا ہاؤسز پر سب سے بڑا دباؤ اخراجات کم کرنے کا ہے۔ جب AI وہی کام زیادہ تیزی اور کم لاگت میں کر دے گا تو بہت سے ادارے اپنے عملے کو کم کرنے پر مجبور ہوں گے۔ آنے والے برسوں میں یہ ممکن ہے کہ آج پانچ سو افراد سے چلنے والا نیوز چینل ڈیڑھ سو یا دو سو افراد کے ساتھ بھی موثر طریقے سے چل سکے۔یہ تبدیلی صرف ملازمتوں کی تعداد نہیں بدلے گی بلکہ صحافت کی نوعیت بھی بدل دے گی۔اب سوال یہ نہیں ہوگا کہ ’’آپ ویڈیو ایڈیٹ کر سکتے ہیں؟‘‘ بلکہ یہ ہوگا کہ ’’آپ AI سے بہتر نتیجہ کیسے حاصل کر سکتے ہیں؟‘‘ اب سوال یہ نہیں ہوگا کہ ’’آپ خبر کمپوز کر سکتے ہیں؟‘‘ بلکہ یہ ہوگا کہ ’’آپ خبر کی سچائی کی تصدیق کیسے کریں گے؟‘‘ اسی لیے مستقبل میں سب سے قیمتی صحافی وہ ہوگا جو تحقیق کر سکے، جعلی معلومات کو پہچان سکے، طاقتور لوگوں سے مشکل سوال پوچھ سکے اور عوام کا اعتماد حاصل کر سکے۔صحافت کی تاریخ بتاتی ہے کہ ہر نئی ٹیکنالوجی نے پرانے پیشوں کو ختم بھی کیا ہے اور نئے پیشے بھی پیدا کیے ہیں جیسے اخبارات میں خبریں لکھنے والے کاتب کا کام ختم ہوا ،تو یہی کام کمپوٹر کا کام جاننے والے کرنے لگے۔ ریڈیو آیا تو کہا گیا اخبارات ختم ہو جائیں گے۔ ٹیلی ویژن آیا تو ریڈیو کے خاتمے کی پیش گوئی ہوئی۔ انٹرنیٹ آیا تو کہا گیا ٹی وی باقی نہیں رہے گا۔ ہر ذریعہ ختم ہونے کے بجائے اپنی شکل بدلتا گیا۔شاید AI اس عمل کو اور تیز کرے گا۔ توقع ہے کہ ٹی وی چینل ختم نہیں ہوں گے، بلکہ ان کی عمارتیں چھوٹی، اسٹوڈیوز سستے، ٹیمیں مختصر اور رفتار کہیں زیادہ تیز ہو جائے گی۔ اصل سوال یہ نہیں کہ AI کتنی ملازمتیں کھا لے گا۔اصل سوال یہ ہے کہ ہم خود کو کتنی تیزی سے بدل سکتے ہیں، تبدیلی کو قبول کرنے والوں سے لکھی جاتی ہے اور ممکن ہے آنیوالے کل کا سب سے کامیاب صحافی وہ نہ ہو جس کی آواز سب سے خوبصورت ہو، بلکہ وہ ہو جو مصنوعی ذہانت کے اس شور میں بھی سچ کی آواز پہچان سکے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ مستقبل میں ہزاروں چھوٹے ’’مائیکرو نیوز چینلز‘‘ وجود میں آ جائیں۔ جس طرح آج ہر شخص یوٹیوب پر اپنا چینل بنا سکتا ہے، اسی طرح کل ہر شخص AI کی مدد سے اپنا نیوز چینل بنا سکے گا۔ اس صورت میں روایتی ٹی وی چینلز کی اجارہ داری کم ہو سکتی ہے۔ جیسے بیسویں صدی میں اخبار نکالنے کے لیے بڑی مشینیں، سرمایہ اور عملہ درکار تھا۔ انٹرنیٹ آیا اور بلاگنگ نے عام افراد کو بھی ’’پبلشر‘‘ بنا دیا۔ بعد ازاں یوٹیوب نے عام افراد کو ’’براڈکاسٹر‘‘ بنا دیا۔ اب AI عام افراد کو ’’نیوز روم‘‘ بنانے کی صلاحیت دے رہا ہے،لیکن اس کے ساتھ ایک خطرہ بھی پیدا ہو رہا ہے،اگر ہر شخص AI کی مدد سے نیوز چینل چلا سکے گا تو غلط معلومات، جعلی ویڈیوز (Deepfakes) اور پروپیگنڈا بھی بہت تیزی سے پھیل سکتا ہے۔ اس لیے مستقبل میں اصل مقابلہ صرف خبر دینے کا نہیں بلکہ قابل اعتماد خبر دینے کا ہوگا۔ اس لیے یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ آنے والے دس سے پندرہ برسوں میں AI ٹی وی نیوز چینلز کی تیاری کو اتنا آسان بنا دے گا جتنا آج یوٹیوب چینل چلانا ہے، لیکن معتبر صحافت، خبر کی تصدیق اور عوامی اعتماد کی اہمیت پھر بھی برقرار رہے گی۔ درحقیقت AI کے دور میں ’’توجہ‘‘ سے زیادہ قیمتی چیز ’’اعتماد‘‘ ہوگی۔بہرکیف یہ سب اندازے ہیں ،یاد رہے کہ موجودہ دور کی ترقی اندازوں سے کہیں آگے جارہی ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل