Friday, July 10, 2026
 

برطانیہ کے متوقع وزیراعظم اینڈی برنہم کا غزہ جنگ پر لیبر پارٹی کے مؤقف پر اظہارِ افسوس

 



لندن: برطانیہ کی لیبر پارٹی کے سینئر رہنما اور مستقبل کے ممکنہ قائد اور وزیراعظم اینڈی برنہم نے غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے حوالے سے اپنی جماعت کے ابتدائی مؤقف پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ لیبر پارٹی اس معاملے پر عوام کی توقعات پر پوری نہیں اتر سکی۔ برطانوی اخبار دی گارڈین کو دیے گئے انٹرویو میں اینڈی برنہم نے کہا کہ بہت سے لوگوں کا یہ احساس درست ہے کہ غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے آغاز پر لیبر پارٹی نے مناسب مؤقف اختیار نہیں کیا۔ انہوں نے کہا، ’میں جانتا ہوں کہ بہت سے لوگ محسوس کرتے ہیں کہ میری جماعت نے غزہ کے معاملے پر ابتدا میں درست فیصلہ نہیں کیا، اور میں اس پر معذرت خواہ ہوں۔ ہمارا ردعمل کئی مواقع پر عوامی توقعات کے مطابق نہیں تھا، ہمیں مستقبل میں بہتر کردار ادا کرنا ہوگا۔‘ اینڈی برنہم نے مزید کہا کہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے دوران جنگی جرائم سے متعلق شواہد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے تاہم انہوں نے ان کارروائیوں کو براہِ راست ’نسل کشی‘ قرار دینے سے گریز کیا۔ ان کے مطابق اس بات کا فیصلہ بین الاقوامی عدالتوں کو کرنا چاہیے کہ آیا غزہ میں ہونے والے اقدامات بین الاقوامی قانون کے تحت نسل کشی کے زمرے میں آتے ہیں یا نہیں، اور اس معاملے پر حتمی رائے سیاست دانوں کے بجائے عدالتی اداروں کو دینی چاہیے۔ واضح رہے کہ غزہ جنگ کے ابتدائی مرحلے میں لیبر پارٹی کے رہنما اور موجودہ برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے ایک ریڈیو انٹرویو میں کہا تھا کہ اسرائیل کو اپنے دفاع کے حق کے تحت غزہ میں پانی، خوراک اور بجلی کی فراہمی روکنے کا اختیار حاصل ہے۔ اس بیان پر لیبر پارٹی کو اندرونِ ملک اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اینڈی برنہم کا حالیہ بیان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ غزہ جنگ کے معاملے پر برطانیہ کی سیاست میں رائے تبدیل ہو رہی ہے، جبکہ لیبر پارٹی کے اندر بھی اس موضوع پر مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل