Friday, July 10, 2026
 

برآمدات کی شاہراہ، ایس ایم ایز کی گلی سے گزرتی ہے

 



معیشت کے افق پر کامیابی کا سورج اتفاق سے طلوع نہیں ہوتا۔ اس کے پیچھے برسوں کی منصوبہ بندی، صنعت دوست پالیسیاں اور قومی عزم کارفرما ہوتا ہے، آج اگر چین دنیا کی سب سے بڑی برآمدی طاقت میں شمار ہوتا ہے، ویتنام چند ہی دہائیوں میں عالمی سپلائی چین کا اہم مرکز بن چکا ہے، بنگلہ دیش ملبوسات کی برآمدات میں دنیا کے نمایاں ممالک میں شامل ہے۔ ترکیہ، یورپ اور مشرق وسطیٰ کی منڈیوں میں مضبوط مقام رکھتا ہے، تو اس کی بنیاد ایک ہی فلسفے پر رکھی گئی۔ پہلے اپنی صنعت کو مضبوط کرو، پھر دنیا کی منڈی خود تمہارے دروازے پر آئے گی۔ چین نے صنعتوں کو سستی بجلی، جدید انفرااسٹرکچر، برآمدی زون، ٹیکس مراعات اور آسان مالی سہولیات فراہم کیں، نتیجہ یہ نکلا کہ اس کی سالانہ برآمدات دنیا میں سب سے زیادہ ہیں۔ ویتنام نے صنعتوں کے لیے خصوصی صنعتی پارکس، کم لاگت توانائی، غیر ملکی سرمایہ کاری اور تیز رفتار کسٹم نظام متعارف کرایا، اس کی برآمدات 500 ارب ڈالر کے قریب ہو گئیں۔ بنگلہ دیش جس کی کمزور معیشت اور کمزور ترین کرنسی کے باعث پاکستان کے بڑے شہروں میں خاصی تعداد میں بنگلہ دیش کے افراد کام کرتے رہے ہیں اور اس کی ٹیکسٹائل انڈسٹری کو بڑھاوا دینے میں بہت سے تجربہ کار پاکستانیوں کا ہاتھ بھی ہے۔ 1994 میں امریکا کی جانب سے تیل سے بجلی کے پیداواری منصوبوں کے باعث ملک میں بجلی کی قیمتوں میں اضافہ ہونا شروع ہوا۔ نائن الیون کے بعد ملک میں دھماکوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ غیر ملکی تاجر خریداری کے لیے بڑے بڑے آرڈرز دینے پاکستان آنے سے گریز کرنے لگے تو ایسی صورت میں بہت سے صنعتکاروں نے بنگلہ دیش میں اپنے ٹیکسٹائل یونٹ لگالیے۔ ان میں سے کئی صنعتکار ایسے تھے جن کے والد یا دادا کا کاروبار سقوط ڈھاکہ سے قبل کے مشرقی پاکستان میں تھا، لہٰذا ان کے لیے وہاں جا کر کاروبار کرنا آسان ثابت ہوا۔ وقت کے ساتھ ساتھ زیادہ سے زیادہ کپاس برآمد کرنے والا ملک بنتا چلا گیا اور بنگلہ دیش کپاس درآمد کرکے ٹیکسٹائل انڈسٹری کو ترقی دیتا چلا گیا۔ اب تو 50 ارب ڈالر سے زائد ریڈی میڈ گارمنٹ اور دیگر ٹیکسٹائل مصنوعات کی برآمد ہے۔  ترکیہ نے چھوٹے اور درمیانے درجے کی اپنی ایس ایم ایز کے صنعتکاروں کو آسان قرضے، جدید ٹیکنالوجی اور عالمی مارکیٹنگ کی سہولت فراہم کی اور اپنی برآمدات کو یورپ اور مشرق وسطیٰ کے بہت سے ملکوں تک پہنچا دیا اور پاکستان اپنی برآمدات میں کمی کا شکار ملک بن کر رہ گیا ہے۔ 2024-25 میں پاکستان کی برآمدات 32 ارب 4 کروڑ ڈالرز تھیں جوکہ 2025-26 میں 6 فی صد کمی کے ساتھ 30 ارب 12 کروڑ 60 لاکھ ڈالرز تک محدود ہوکر رہ گئیں، لیکن ہم ہمیشہ سے درآمدی اشیا منگوانے میں فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے رہے ہیں۔ 2024-25 میں پاکستان کی کل درآمدات 64 ارب 50 کروڑ 70 لاکھ ڈالرز کے مقابلے میں 2025-26 میں تقریباً 8 فی صد اضافے کے ساتھ 69 ارب 59 کروڑ70 لاکھ ڈالرز کی درآمدات کر بیٹھے ہیں۔ جس میں بہت سی اشیا ایسی ہیں اگر کوشش کرکے منصوبہ بندی اور گھریلو اور ایس ایم ایز کی صنعتوں کو ترقی دی جاتی ان کو بلا سود یا شرعی اعتبار سے قرضے فراہم کیے جاتے تاکہ وہ کاروباری یا صنعتی طبقہ جوکہ دیار غیر جا کر ان کی آسان سہولیات سے فایدہ اٹھا کر ان ملکوں کی برآمدات میں اضافے کا باعث بنتے ہیں وہ صنعتکار یا چھوٹی صنعتوں کے مالک گھریلو صنعتوں کے مالک بڑی ہی رغبت کے ساتھ بلاسود یا شرعی جواز کے ساتھ قرض لے کر اپنا کاروبار بڑھا سکتے ہیں۔ اس برآمدات میں کمی اور درآمدات میں اضافے کے نتیجے میں پاکستان تجارتی خسارے کے چنگل میں پھنس چکا ہے۔ 2024-25 میں پاکستان کا تجارتی خسارہ 32 ارب 46 کروڑ 70 لاکھ ڈالرز کا تھا جب کہ 30 جون تک تجارتی خسارہ 39 ارب 47 کروڑ10 لاکھ ڈالرز کے ساتھ خیر سے 21.6 فی صد زائد ہے۔  اب آپ یہ دیکھیں کہ ویتنام صرف 10 کروڑ آبادی والا ملک اور امریکا کی جانب سے مسلط کردہ جنگ کے بعد اپنے پیروں پر کھڑا ہوا۔ اب اس کی برآمدات کا بڑا حصہ امریکا کے لیے ہے۔ 2024 میں غالباً اس کی برآمدات 470 ارب ڈالر تک تھیں۔ ترکیہ کی برآمدات 2025 میں اندازاً 360 ارب ڈالر تک تھیں اور پاکستان کی برآمدات محض گنتی میں آنے والی اپنے انگلی کے 4 پور گنیے 4 انگلیوں کے بن گئے۔ 16 اور اگلی تین انگلیوں کے 4 پور سے بن گئے 12، کل 28 یعنی 30 ارب ڈالر کی برآمدات۔ مالی سال 2025-26 چلیے کم از کم درآمدات کو کنٹرول کر لیتے وہ 30 ارب سے دگنی مالیت اس کے بعد مزید اضافہ یعنی 69 ارب ڈالر۔ اسے کیا کہیں گے معیشت رے معیشت تیری کون سی کل سیدھی۔  وزیر اعظم کی ہدایات کے مطابق اگر چھوٹے کاروباری طبقے کو سہولیات قرض کی فراہمی اور برآمدات میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کی شروعات کر دی جاتی ہیں تو یہ محض انتظامی حکم نہیں بلکہ ان لاکھوں صنعتکاروں، گھریلو صنعتوں کے مالکان، ایس ایم ایز کے لیے اگر بینکوں کے دروازے آسان ہو جائیں تو خاموش فیکٹریاں دوبارہ آباد ہوں گی۔ روزگار کے چراغ روشن ہوں گے، برآمدات کی رفتار تیز ہو جائے گی۔ حقیقت یہ ہے کہ برآمدات کی شاہراہ کسی بڑے محل سے نہیں بلکہ ایس ایم ایز کی گلی سے نکلتی ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل