Friday, July 10, 2026
 

بڑھتی کرپشن سے نجات کا خواب

 



موجودہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے ملک میں کرپشن کے مسئلے پر مکمل خاموشی اختیار کر رکھی ہے ،کسی بھی جانب سے کرپشن کے خاتمے، کمی کا کوئی بیان سامنے نہیں آ رہا جس سے لگتا ہے کہ ملک میں کرپشن ہے ہی نہیں اور یا ختم ہو گئی ہے اور حکمرانوں کی توجہ کرپشن کے سوا دیگر مسائل پر مرکوز ہے۔ وفاقی حکومت کی پوری توجہ قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے معاشی طور پر بہت ہی کمزور ملک پاکستان کے لیے بیرونی قرضے حاصل کرنے پر ہے جب کہ پاکستان کی نصف آمدنی صرف لیے ہوئے قرضوں کے سود کی ادائیگی کے لیے خرچ ہو رہی ہے۔ حکومت پاکستان اور سندھ حکومت نے نئے بجٹ میں نئے ترقیاتی منصوبوں کا اعلان برائے نام ہی کیا ہے اور صرف زیر تعمیر منصوبوں کی تکمیل کی ضرور کوشش کی ہے جب کہ تعمیری و ترقیاتی منصوبوں کے لیے کہا جاتا ہے کہ یہ منصوبے بنیں گے تو بنانے والوں کو کمیشن ملے گا۔بیرون ملک سے بڑی خریداری اور اندرون ملک تعمیری و ترقیاتی منصوبوں میں کمیشن بڑی اہمیت رکھتا ہے اور اس کمیشن کی وصولی کو کرپشن سمجھا ہی نہیں جاتا۔ راقم کے آبائی شہر شکارپور میں بلدیہ کے ایک سرکاری ایڈمنسٹریٹر نے عشروں قبل کہا تھا کہ’’ ہم کوئی کرپشن نہ کریں تب بھی سرکاری ذمے داروں کو تعمیری منصوبوں میں اتنا کمیشن مل جاتا ہے کہ انھیں مزید کرپشن کی رقم کی ضرورت ہی نہیں ہو سکتی جب کہ تنخواہ بھی محفوظ رہتی ہے اور کمیشن افسروں اور ٹھیکیداروں کے مابین خفیہ معاملہ ہوتا ہے جس کا تیسرے فریق سے تعلق نہیں ہوتا اور متعلقہ افسران کا ہر ٹھیکے میں کمیشن مقرر ہوتا ہے جو ٹھیکیدار بلوں کی منظوری سے قبل یا بعد میں ایک افسر کو ادا کر دیتا ہے جو کمیشن کی رقم متعلقہ افسروں تک خاموشی سے پہنچا دیتا ہے جس کا علم صرف ٹھیکیدار اور متعلقہ افسروں کو ہی ہوتا ہے غیر متعلقہ افراد کو علم نہیں ہوتا اور لوگوں کو صرف کاموں کی تکمیل سے دلچسپی ہوتی ہے۔‘‘ جنرل پرویز مشرف کے ضلعی حکومتوں کا نظام محکمہ بلدیات کی بجائے قومی تعمیر نو بیورو کے سپرد تھا جس کے سربراہ دانیال عزیز تھے اور بیورو میں بائیس گریڈ تک کے اعلیٰ افسران بھی شامل تھے اور اسلام آباد میں راقم کی ان دو اعلیٰ افسران سے ملاقات ہوئی تھی جس میں انھوں نے بتایا تھا کہ بلدیاتی اداروں میں انھیں ملنے والی رقم کا صرف بیس فی صد ہی درست طور خرچ ہو تو کام نظر آتا ہے مگر بدقسمتی سے ایسا بھی نہیں ہو رہا اور 80 فی صد سے زائد رقم کرپشن کی نذر ہو رہی ہے۔ بلدیاتی اداروں میں کمیشن کی کرپشن کا راقم خود چشم دید گواہ ہے۔ جب میں میونسپل کمیٹی شکارپور کا کونسلر تھا تو عبدالستار شیخ چیئرمین تھے جو کمیشن نہیں لیتے بلکہ ایک ملازم کے ذریعے جو کمیشن کی رقم جمع ہوتی تھی وہ کسی فوری تعمیری کام، کسی ملازم کی بیماری و ضرورت یا ایمرجنسی پر خرچ کر دی جاتی تھی کیونکہ میونسپل قانون کے مطابق چیئرمینوں کا ہنگامی ضرورت پر رقم خرچ کرنے کا اختیار محدود ہوتا ہے اور کوٹیشن کے بغیر فوری کام صرف بلدیاتی سربراہ کے اختیار کے تحت ہی ہوتے ہیں۔ نعمت اللہ خان کی سٹی حکومت میں انچولی یونین کونسل کو کارکردگی کے باعث پاکستان کی بہترین یوسی قرار دیا گیا تھا مگر یوسی ناظم سجاد دارا کو کسی انعام کے قابل نہیں سمجھا گیا تھا جن کی وجہ سے یوسی ملک میں بہترین قرار پائی تھی۔ ملک میں اچھی کارکردگی کی قدر نہ حکومت کرتی ہے نہ عوام جس کی وجہ سے متعلقہ سربراہ کو کرپشن میں ملوث ہونا پڑتا ہے جس کا راستہ سرکاری افسران دکھاتے ہیں۔ نعمت اللہ خان کی سٹی حکومت میں کمیشن کی جو رقم بنتی تھی اس رقم سے ناظمین اضافی تعمیری کام کرا لیتے تھے۔ ٹھیکہ اگر پانچ سو میٹر سڑک کی تعمیر کا ہوتا تھا تو جماعت کے ناظمین کمیشن لینے کی بجائے اسی رقم سے چھ سات سو میٹر کا اضافی کام کرا لیتے تھے۔کمیشن کے علاوہ سرکاری اداروں میں پرچیز کرپشن عام ہے اور سرکاری دفاتر کے لیے جو چھوٹی موٹی لاکھوں ہزاروں کی خریداری بھی مارکیٹ سے بہت زیادہ نرخ پر کی جاتی ہے اور جس سے سامان خریدا جاتا ہے اس سے اصل رقم سے کہیں زیادہ کا بل بنوا کر متعلقہ افسر سے منظور کرا لیا جاتا ہے اور متعلقہ افسر کو مہنگی اشیا کی خریداری کا پتا ہوتے ہوئے بھی کوئی اعتراض نہیں ہوتا کیونکہ اضافی رقم میں متعلقہ افسر کو بھی حصہ ملتا ہے۔معمولی خریداری سے اربوں کروڑوں کی بڑی خریداری بھی کمیشن کے بغیر ممکن ہی نہیں۔ ایئر مارشل نور خان کی ایمانداری کی مثال ضرور مشہور ہے کہ انھوں نے پی آئی اے کے لیے جہازوں کی خریداری کم نرخوں پر خود کی تھی جس کے بعد انھوں نے مذکورہ کمپنی سے کمیشن کا چیک بھی لیا تھا اور چیک پی آئی اے ملازمین کی فلاح و بہبود کے لیے دے دیا تھا۔ہر سرکاری خریداری اور ٹھیکوں میں کمیشن عام ہے جس کو کرپشن نہیں حق سمجھا جاتا ہے جس کی وجہ سے سامان مہنگا کرکے اضافی بل بنوایا جاتا ہے اور سرکاری ٹھیکوں میں معیار نہیں ہوتا کیونکہ لاگت سے زیادہ رقم بطور کمیشن دے کر بل منظور کرائے جاتے ہیں۔ سرکاری ریکارڈ میں سڑکیں بن جاتی ہیں، نہروں کی کھدائی، نالوں کی صفائی دکھا دی جاتی ہے جب کہ عملی طور پر سڑک بنتی ہے نہ نہروں کی کھدائی ہوتی ہے نہ نالوں کی صفائی یا برائے نام کام کی رقم ہڑپ ہو جاتی ہے۔ کرپشن کے سیاسی الزام حکمرانوں پر ہر دور میں لگے جب کہ ہر چھوٹے سرکاری اداروں تک کمیشن کی کرپشن عام ہے۔ سرکاری ملازمتیں اور تبادلے اب اہلیت پر نہیں لاکھوں روپے کے عوض ہونا بھی عام ہے۔ جب ریاستی فلاحی پروگراموں تک کرپشن ہے تو نیچے سے اوپر تک ہونے والی کرپشن میں ہر کوئی ہاتھ دھو رہا ہے تو وہاں کرپشن کے خاتمے کا صرف خواب ہی دیکھا جا سکتا ہے مگر نجات ممکن نہیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل