Friday, July 10, 2026
 

بلوچستان کی صورتحال

 



بلوچستان میں حالیہ ہونے والے دہشت گردی کے سنگین واقعات کے بعد ملک کی سول اور ملٹری اعلیٰ قیادت کوئٹہ گئی اور وہاں صوبائی اپیکس کمیٹی کا اجلاس ہوا۔ جس میں وزیر اعظم میاں شہباز شریف اور سی ڈی ایف فیلڈ مارشل عاصم منیر سمیت سب شریک تھے۔ اس صوبائی اپیکس کمیٹی کے فیصلوں کا کوئی باقاعدہ اعلان نہیں ہوا۔ لیکن دہشت گردوں کا قلع قمع کرنے کے حوالے سے ریاست کی دو ٹوک پالیسی واضح ہے۔بلوچستان کی صورتحال یقیناً بہتر ہونے کی بجائے خراب سے خراب تر ہوتی جا رہی ہے جس پر سب کو تشویش ہے۔ بلوچستان کے حوالے سے چند مزید تشویشناک حقائق سامنے آئے ہیں۔ پہلے ہم دیکھتے تھے کہ بلوچستان میں بلوچ آبادی والے علاقوں میں بلوچ قوم پرست اور بلوچ عسکریت پسند کارروائیاں کرتے نظر آتے تھے۔ ان کی کارروائیاں بلوچ علاقوں تک محدود تھیں۔ لیکن اب بلوچستان کے پختون علاقوں میں بھی ہمیں کے پی میں کار فرما دہشت گرد تنظیم ٹی ٹی پی کارروائیاں کرتی نظر آ رہی ہے۔ پہلے بلوچ عسکریت اور دہشت گرد تنظیمیں بلوچ علاقوں میں کارروائیاں کر رہی تھیں اور ٹی ٹی پی طرز کی پختون تنظیمیں کے پی، کے پختون علاقوں میں کارروائیاں کرتی نظر آرہی تھیں۔ لیکن اب دونوں کا اتحاد نظر آرہا ہے۔ دونوں مل کر کارروائیاں کر رہی ہیں۔ دونوں ایک دوسرے کو اپنے علاقوں تک بھی رسائی دے رہی ہیں۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ دونوں کا ایک گرینڈ اتحاد بن گیا ہے۔ یہ سوال آپ پوچھ سکتے ہیں کہ ان کا اتحاد کیسے ہوا۔ سادہ بات ہے جب دونوں کی سہولت کاری افغانستان سے ہو رہی ہے تو اتحاد بھی افغانستان میں ہوا ہے۔ ان کی فنڈنگ بھارت کر رہا ہے۔ اس لیے بھارت چاہتا ہے کہ اس کے پیسے ضایع نہ ہوں ہر پیسے کا بہترین استعمال ہو۔ اس لیے یہ اتحاد بھارت کی فنڈنگ کے بہترین استعمال کے لیے ناگزیر تھا۔ اس اتحاد سے بھارت اور افغانستان دونوں کو فایدہ ہوا ہے۔ کیونکہ دونوں پاکستان کو کمزور کرنا چاہتے ہیں۔ پھر ان تنظیموں کو بھی سمجھایا گیا ہوگا کہ اکیلے اکیلے کوئی بڑا کام نہیں کر سکتے، مل کر کام کریں۔ تب ہی کوئی بڑا کام ہو سکے گا اور طاقت دوگنی ہو جائے گی، وسائل دوگنے ہو جائیں گے۔ پھر فنڈنگ کی مراعات بھی دی گئی ہونگی کہ اس طرح زیادہ پیسہ بنے گا۔ اس لیے اب ہمیں ان دہشت گرد تنظیموں کا ایک اتحاد نظر آرہا ہے۔ جس نے یقیناً ریاست پاکستان کے لیے چیلنجز میں اضافہ کر دیا ہے، مسائل میں بھی اضافہ ہوگیا ہے۔ وقتی طورپر دہشت گرد تنظیموں کی کارروائیوں میں اضافہ نظر آرہا ہے۔ لیکن اس سے نبٹنے لیے ریاست کو بھی بڑی کارروائیاں کرنی ہوں گی۔ زیارت میں ہونے والی دہشت گردی چھوٹا واقعہ نہیں۔ زیارت میں ہر آنکھ اشکبار ہے، وہاں سوگ ہے، لوگ اپنے پیاروں کی میتیں لینے کے لیے تیار نہیں۔ وہ پوچھ رہے ہیںکہ ہمارے پیاروں کا قصور کیا تھا، وہ پوچھ رہے ہیں کہ ان کے پیاروں کے ساتھ یہ ظلم کیوں ہوا ہے۔ وہ اپنے پیاروں کی تدفین سے پہلے ان کے قاتلوں کا انجام دیکھنا چاہتے ہیںَِ ۔ وہاں دھرنے دہشت گردوں کے خلاف ہیں۔ لوگ ریاست سے فیصلہ کن کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ لوگ دہشت گردی کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ اس لیے مجھے لگتا ہے کہ ریاست اب فیصلہ کن کارروائی کے لیے دباؤ میں ہے۔ یہ درست ہے کہ بلوچستان کی صوبائی حکومت سے ایک وزیر کو اس لیے نکالا گیا ہے کہ وہ دہشت گرد تنظیموں کو بھتہ دے رہا تھا۔ لیکن دوستوں کی رائے یہ ہے کہ یہ ایک وزیر کی کہانی تو نہیں ہے، کئی حکومتی عہدیدار ، وزیر اور ارکان اسمبلی دہشت گرد تنظیموں کو بھتہ دے رہے ہیں۔ ترقیاتی کام کرنے والے ٹھیکیدار بھی دہشت گرد تنظیموں کو بھتہ دے رہے ہیں۔اس ضمن میں کارروائی کرنے کی ضرورت ہے۔ جو لوگ وکٹ کے دونوں طرف کھیل رہے ہیں، ان کی نشاندہی کی بھی ضرورت ہے۔ جو بظاہر ریاست پاکستان کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں لیکن اندر سے دوسری طرف ملے ہوئے ہیں۔ وہ زیادہ بڑے دشمن ہیں۔ میں ان کو دہشت گردوں سے بڑا دشمن سمجھتا ہوں۔ ان کی نشاندہی اور ان کو باہر نکالنا زیادہ ضروری ہے۔ ہم نے کچھ عرصہ سے دیکھا ہے کہ کے پی اور بلوچستان دونوں جگہ پولیس اور سول اداروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ حالیہ زیارت کے واقعات میں بھی پولیس اہلکاروں اور سول اداروں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ پہلے آرمڈ فورسز کو ہی نشانہ بنایا جاتا تھا لیکن اب ایسا نہیں ہے۔ بنکوں اور سول افسران کی رہائش گاہوں اور دفاتر کو بھی نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اس کی وجہ صاف ہے کہ وہ ان علاقوں میں حکومتی نظام کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ سول حکومت کی حاکمیت کو ختم کرنا چاہتے ہیں، بنکنگ کے نظام کو ختم کرنا چاہتے ہیں تاکہ ان کی اجارہ داری قائم ہو سکے۔ اس لیے پولیس کو نشانہ بنایاجا رہا ہے۔ یہ خطرناک ہے۔ اس کو ایسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ میں سمجھتا ہوں کہ ارباب اختیار اس بات کو سمجھتے ہیں کہ اب فائنل راؤنڈ کھیلنے کا وقت آگیا ہے۔ افغانستان کو بھی مزید رعایت نہیں دی جا سکتی۔ جب تک وہاں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو ختم نہیں کیا جائے گا تب تک پاکستان میں ان کی کارروائیوں کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ اس لیے پاکستان میں عمومی رائے یہی ہے کہ افغانستان میں بڑی کارروائی کی جائے۔ وہاں دہشت گردوں کے تمام ٹھکانوں کو ختم کیا جائے۔ ایک رائے یہی ہے کہ اس بار صوبائی اپیکس کمیٹی میں سول اور ملٹری قیادت مل کر بیٹھی ہے تو یقیناً اس ضمن میں کوئی دو ٹوک فیصلہ ہوا ہو گا۔ جس کے نتائج آیندہ آنے والے چند دن میں نظر آئیں گے۔ ملک میں غیر قانونی مقیم افغانوں کو نکالنے کی پھر بات ہوئی ہے۔یہ ایک دیرینہ مسئلہ ہے اس ضمن میں کے پی میں مسائل ہیں۔ اب کہا جا رہا ہے کہ کے پی، کے پولیس تھانوں میں ایف سی تعینات کی جا رہی ہے تا کہ کے پی میں غیر قانونی مقیم افغانوں کو نکالا جا سکے۔ غیر قانونی افغان دہشت گردی کی سہولت کاری میں بار بار ملوث پائے گئے ہیں۔ لیکن یہ چلے جاتے ہیں اور پھر آجاتے ہیں۔ اتنا لمبا بارڈر ہے، اس کا کوئی مستقل حل ابھی تک سامنے نہیں آیا ہے۔ یہ افغان جب پکڑے جاتے ہیں تو واپس چلے جاتے ہیں۔ لیکن چونکہ یہ پاکستان کے علاقوں کو خوب جانتے ہیں، اس لیے یہ اچھے سہولت کار ہیں، وہاں دہشت گرد تنظیمیں انھیں دوبارہ بھرتی کر کے اور وسائل دے کر واپس بھیجتی ہیں۔ اس لیے یہ دوبارہ نہ آئیں، اس کو روکنا بھی ضروری ہے۔ بلوچستان کی سول حکومت کی کارکردگی پر بھی بات ہو رہی ہے۔ وہاں کرپشن پر بھی بات ہو رہی ہے، وہاں گڈ گورننس کی کمی پر بھی بات ہو رہی ہے۔ یہ اصل مسائل ہیں۔ جب حکومتیں کرپٹ ہوں گی تو بات بڑھے گی۔ اس لیے دہشت گردی کے خلاف آپریشن کے ساتھ ساتھ احتساب بھی ضروری ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل