Sunday, July 12, 2026
 

شہدائے بدر کا قبرستان ایک چار دیواری میں محفوظ کر دیا گیا ہے

 



  قسط اول بدرکا شہر میری توقع سے کہیں بڑا نکلا۔ میں تو اسے چھوٹا سا شہر سمجھا تھا مگر جب برادر عزیز عبداللہ حامد العبدلی نے بتایا کہ یہ شہر شمالاً جنوباً سات کلومیٹر لمبا اور کم و بیش ڈھائی کلومیٹر چوڑا ہے تو مجھے بڑا تعجب ہوا ۔ بدر کا مقام تو اسلامی تاریخ میں سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے ۔ بدر شہر میں کم و بیش 75ہزار افراد بستے ہیں ۔ صرف بدر شہر میں 140مساجد ہیں ۔ شہر کی آ بادی 40  ہزار سے متجاوز ہے ۔ سعودیوں کے علاوہ اس شہر میں 2 ہزار کے قریب بنگلہ دیشی ، دو ہزار پاکستانی اور تقریباً ایک ہزار دیگر ممالک کے لوگ بستے ہیں ۔ ابو عبدالرحمن خالد الصبحی آرامکو میں کام کرتے ہیں اور مکتب جالیات بدرکے مدیر بھی ہیں۔ ہم ان کی گاڑی میں سوار ہوئے آٹھ افراد کا یہ قافلہ بدر کے شمال مغرب کی طرف روانہ ہوا ۔ہم حدیقۃ الملک عبدالعزیز کے پہلو میں اترے تو ابو مصعب عبداللہ العبدلی نے غزوہ بدر کے حالات بیان کرنا شروع کیے کہ یہ جنگ کوئی معمولی نہ تھی ۔اللہ رب العزت نے اسے’’ یوم الفرقان ‘‘ کے نام سے یاد فرمایا ہے ۔ کفر و اسلام کے درمیان فرق کرنے والی یہ جنگ دو ہجری 17 رمضان کو اس شہر میں ہوئی جہاں ہم کھڑے تھے ۔ بدرکا شہر بڑا پرانا تجارتی شہر ہے ۔ وہ ہمیں بتا رہے تھے کہ یہاں زمانہ جاہلیت میں تجارتی قافلے آکر رکتے تھے ۔ خرید و فروخت ہوتی ، شعرا اپنا کلام پڑھتے ۔ لوگوں سے داد وصول کرتے ۔ قافلے چند دن یہاں گزارتے اور آ گے چل دیتے ۔ یہاں پانی وافر مقدار میں ہے ۔ وہ قافلہ جس کو روکنے کے لیے اللہ کے رسول مدینہ منورہ سے نکلے تھے اسے بھی اسی جگہ قیام کرنا تھا کیونکہ یہ قافلوں کے لیے معمول کی بات تھی ۔ اس علاقے میں بنو غفار صدیوں سے آباد ہیں۔ اس قبیلہ کی بعض دور کی رشتہ داریاں قریش کے ساتھ بھی تھیں اس لیے ان کی ہمدردیاں قریش کے ساتھ تھیں۔ جب قریش اس علاقے میں آئے تو بنوغفار نے انہیں 10 اونٹ بطور ہدیہ ارسال کیے۔ ابو جہل جسے بار بار عبداللہ العبدلی ’’فرعون ہذہ الامتہ‘‘ ( دور ِ حاضر کا فرعون ) کہہ رہے تھے، تو فرعون نے بنو غفار کا یہ تحفہ قبول کیا ،بلکہ ان کو پیغام بھی بھیجا کہ تم لوگوں نے صلہ رحمی کا حق ادا کر دیا ہے۔ قریش گرمیوں میں شام کا تجارتی سفر کرتے ا ور سردیوں میں یمن کا رخ کرتے تھے۔ مکہ تجارت کا مرکز تھا۔ اللہ کے رسولﷺ نے مکہ چھوڑ دیا تھا، اس کے باوجود قریش غصے میں تھے۔ مکہ اور مدینہ حالت جنگ میں تھے۔ مہاجرین مکہ سے بالکل خالی ہاتھ نکلے، ہر چیز پرقریش نے قبضہ جما لیا تھا۔ جمادی الاولی ،دو ہجری کو قریش کا ایک تجارتی قافلہ مکہ سے شام کی طرف روانہ ہوا ۔اسے روکنے کی اس وقت بھی کوشش کی گئی مگر آپ کے وہاں پہنچنے سے کئی دن پہلے ہی قافلہ ہاتھ سے نکل چکا تھا۔ یہی قافلہ واپسی پر شعبان کے آخر میں اس علاقے سے گزر رہا تھا ۔ایک ہزار اونٹوں پر مشتمل اس قافلہ کی مالیت 262 کلو سونے کے برابر تھی جبکہ اس کی حفاظت کے لیے صرف 40 افراد تھے۔ قافلے کا سالار ابو سفیان تھا جو عرب کا مانا ہوا ذہین شخص تھا۔ اللہ کے رسول ﷺاس قافلے کو روکنے کے لیے مدینہ سے نکلے ،کیونکہ اہل مدینہ کے لیے یہ بڑا زریں موقع تھا اور اہل مکہ کے لیے اس مال سے محرومی بڑی زبردست فوجی، سیاسی اور اقتصادی چوٹ کی حیثیت رکھتی تھی۔ اس لیے رسول اللہﷺ نے مسلمانوں میں اعلان فرما دیا :قریش کا قافلہ مال و دولت لیے چلا آ رہا ہے اس کے لیے نکل پڑو ہو سکتا ہے اللہ تعالی اسے بطور غنیمت تمہارے حوالے کر دے ۔ چونکہ کسی بڑے دشمن سے مقابلہ نہیں تھا، اس لیے کسی پر روانگی ضروری قرار نہ دی گئی، بلکہ اسے محض لوگوں کی رغبت پر چھوڑ دیا گیا۔ کل 313 افراد جب بدر کے لیے روانہ ہوئے تو آ پ ﷺ نے احتیاطاً اونٹوں کی گردنوں سے گھنٹیاں تک اتروا دیں۔ استاد عبداللہ العبدلی ہمیں وہ درہ دکھا رہے تھے جہاں سے رسول اللہﷺ بدر کے میدان میں داخل ہوئے۔ عبداللہ العبدلی ایک مدت سے ہائی سکول میں ٹیچر ہیں۔ ان کا پسندیدہ موضوع بدر کے حالات ہیں۔ ہم کل دس افراد تھے، وہ درمیان میں کھڑے ہمیں لیکچر دے رہے تھے۔ انہیں اس جنگ کی تمام جزیات تک ازبر تھیں۔ وہ بر موقع اشعار بھی پڑھتے تھے، جنگ کا نقشہ کھینچ رہے تھے ۔ہم میں سے کوئی ان کی گفتگو روک کر درمیان میں سوال بھی کر لیتا ۔اچانک انہوں نے ریت کے ٹیلوں کے درمیان ایک درے کی طرف اشارہ کرکے بتایا: روایات کے مطابق اس راستہ سے فرشتے نازل ہوئے تھے۔ اس روز ان کی طاقت ایک عام آدمی کے برابر تھی، ورنہ ایک ہی فرشتہ قریش کے سارے لشکر کو ختم کرنے کے لیے کافی تھا۔ اللہ کی طرف سے یہ نصرت و مدد مسلمانوں کو تسلی اور تسکین دینے کے لیے تھی ۔ ہم نے نہایت عقیدت سے اس درے کو دیکھا جہاں سے فرشتے نازل ہوئے تھے۔ عبداللہ العبدلی کی گفتگو جاری تھی لیکن میں نے انہیں احساس دلایا کہ وقت تیزی سے گزر رہا ہے۔ پھر ہم تیزی سے اپنی گاڑی کی طرف بڑھے۔ اب ہمارا رخ شہداء کے قبرستان کی طرف تھا۔ حکومت نے ایک بڑی چار دیواری کے اندر اس قبرستان کو محفوظ کر دیا ہے۔ اندر جانے کی اجازت نہیںہے ۔  خالد الصبحی پولیس والوں کے پاس گئے اور ہمارا تعارف کرایا، ہم لوگوں نے پورے اطمینان کے ساتھ اہل قبور کو مسنون سلام پیش کیا ۔سڑک کے کنارے ایک یادگار سی بنی ہوئی ہے جس پر شہدائے بدر کے نام لکھے ہوئے ہیں۔ سب سے پہلا نام سید نا عمیر بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا ہے۔ میں ہمیشہ ان کے نام کو دیکھ کر جذباتی ہو جاتا ہوںاور آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں۔ میں تھوڑی دیر کے لیے تصورات میں کھو گیا، 16 سال کا یہ قریشی نوجوان اہل بدر کے قافلے میں شمولیت کی تمنا لیے مدینہ سے نکلا اور رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اجازت طلب کی ۔اللہ کے رسول نے ﷺ نے کمسنی کسی وجہ سے انہیں واپس بھجوانے کا حکم صادر فرمایا تو وہ رو پڑے تھے۔ اللہ کے رسولﷺ نے ان کے جذبے کا خیال کرتے ہوئے اجازت مرحمت فرما دی۔ ان کے بڑے بھائی سعد بن ابی وقاص نے جنگ کے روز دیکھا عمیر اللہ کے رسول سے چھپتے پھرتے ہیں۔ وجہ صرف یہ تھی کہ کہیں کمسنی کی وجہ سے ان کو واپس نہ بھیج دیا جائے اور وہ جنگ سے محروم نہ رہ جائیں۔ لیکن اجازت ملنے کے بعد بڑے بھائی نے بذات خود نہایت محبت سے اپنے پیارے چھوٹے بھائی کے جسم کو تلوار سے مزین کیا، ڈھال دی اور یہ قریشی نوجوان داد شجاعت دیتا ہوا جنت الفردوس کا مکین بن گیا۔ میں یہ جاننے کے لیے بے تاب تھا کہ معرکہ بدر کس جگہ اور کیسے شروع ہوا؟اس سفر سے پہلے میں قبرستان والی جگہ کو ہی جائے معرکہ سمجھتا تھا، مگر ہمارے گائیڈ نے سڑک پار کھجوروں کے باغ کی طرف اشارہ کر کے بتایا کہ معرکہ کی جگہ اس طرف ہے ۔چند منٹ بعد ہم معرکہ کی جگہ کھڑے تھے۔ مجھے قرآ ن کریم کی ’’سو رۃ الانفال‘‘ کی آیت نمبر 42 کے ان الفاظ کی تشریح اس دن سمجھ میں آئی: {اِذْ اَنْتُمْ بِالْعُدْوَۃِ الدُّنْیَا}  ’’ جب کہ تم بدر کے قریب والے کنارے پر تھے۔ ‘‘ میں نے عبداللہ سے پوچھا: {الْعُدْوَۃِ الدُّنْیَا} کہاں ہے، تو اس نے جس جگہ ہم کھڑے تھے اس کی طرف اشارہ کر کے بتایا یہ جو مدینہ منورہ کی جانب ہے یہ {الْعُدْوَۃِ الدُّنْیَا} ہے( یعنی قریب والا کنارا ) اور یہاں مسلمانوں کا لشکر تھا۔ جہاں تک {الْعُدْوَۃِ الْقُصْوٰی} ( کا تعلق ہے تو وہ دور کا کنارہ ہے جہاں کافروں کا لشکر تھا اور وہ مکہ کی سمت میں تھا ۔مکہ والے اسی طرف سے آئے تھے اور وہیں ٹھہر گئے تھے۔ جہاں تک {وَ الرَّکْبُ اَسْفَلَ مِنْکُمْ} کا تعلق ہے تو اس سے مراد قریش کا تجارتی قافلہ ہے جو بہت نیچے بحیرہ قلزم کے ساحل کی طرف تھا ۔ ’’مسجد العریش‘‘ اس جگہ بنی ہوئی ہے جہاں پر اسلامی تاریخ میں سب سے پہلا مرکز قیادت بنایا گیا تھا۔ یہ جگہ میدان جنگ کے شمال میں خاصی اونچائی پر ہے۔ یہاں سے پورا میدان جنگ نظر آتا ہے۔ ہم قدر نشیب میں چلے گئے ۔یہ میدان کوئی بہت بڑا نہیں ہے ۔ قبرستان اور معرکہ کی جگہ میں فاصلہ تقریباً آدھا کلو میٹرہوگا۔ اس واقعہ کو ساڑھے چودہ سو سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے۔ یہ میدان وہی ہے مگر اس کی شکل و صورت یقینا بدل چکی ہے۔ اب یہاں کھجوروں کا باغ ہے۔ ایک طرف دیکھا تو لڑکے فٹ بال کھیل رہے تھے ۔ میں تصور میں دور قریش کا لشکر دیکھ رہا تھا جو بڑے غرور سے یہاں آیا تھا ۔عبداللہ العبدلی نے میدان جنگ کا نقشہ بنانا شروع کیا۔ رسول اللہﷺ کی عبقریت کی ایک اور مثال کہ آپﷺ مرکز قیادت سے نیچے اترتے ہیں۔ مسلمانوں کی صف بندی کرتے ہیں۔ ہاتھ میں تیر ہے۔ اس تیر کے اشارے سے صف بندی فرما رہے تھے۔ ایک صحابی سواد بن غزیہ انصاری صف سے کچھ آگے نکلے ہوئے تھے۔ آپ نے ان کے پیٹ پر تیر کا دباؤ ڈالتے ہوئے فرمایا: سواد برابر ہو جاؤ۔ عبداللہ العبدلی بہت تیز تیز گفتگو کر رہے تھے ۔عربی تو مادری زبان تھی ہی مگر بڑی فصیح زبان بول رہے تھے۔ تیزی کے باوجود ان کی گفتگو کا ایک ایک لفظ سمجھ آرہا تھا۔ یوں بھی وہ میدان بدر میں کھڑے تھے، ان میں جوش و جذبہ بڑھ گیا تھا۔ انہوں نے اشارے سے بتایا: جب اللہ کے رسول نے سواد کے پیٹ پر تیر کا دباؤ ڈالا تو سواد کہنے لگے :اللہ کے رسولﷺ: آپ نے میرے ساتھ زیادتی کی ہے۔ مجھے اس کا بدلہ دیجئے۔ صحابہ کرام سناٹے میں آگئے ۔جنگ کا میدان، دشمن سامنے، صفوں کی درستگی ہو رہی ہے، اور ایک صحابی اپنے نبی سے اور اپنے کمانڈر انچیف سے بدلہ لینے کے لیے کہہ رہا ہے۔ نبی کریم ﷺنے بھی بدلہ دینے میں دیر نہ کی، رحمت کائنات نے فوراً بدلہ دینے کے لیے اپنے آپ کو پیش کر دیا۔ سواد کہنے لگے: اللہ کے رسولﷺ: جب آپ نے مجھے کچوکا دیا تھا تو میرا پیٹ ننگا تھا، آپ بھی قمیض ہٹا لیجئے،پھر چشم کائنات نے یہ عجیب و غریب منظر دیکھا کہ سرور کائناتﷺ نے اپنے پیٹ مبارک سے کپڑا ہٹا دیا۔ اسے کہتے ہیں: مساوات محمدی اور عدل و انصاف۔ صحابہ کرام خاموش دیکھ رہے ہیں کہ سواد کیا کر رہا ہے۔ ادھر بطن مبارک سے کپڑا ہٹا سواد نے جلدی سے اس پر بوسے دینے شروع کر دیے۔ ارشاد ہوا :سواد یہ کیا ہے؟ عرض کیا: جنگ کا وقت ہے، دشمن سامنے ہے ،ہو سکتا ہے شہادت نصیب ہو جائے۔ یا رسول اللہﷺ! میری تمنا یہ ہے کہ اس دنیا سے رخصت ہوتے وقت مجھے یہ شہادت نصیب ہو جائے۔ کہ میرے جسم کی جلد آپ کی مبارک اور مطہر جلد سے چھو جائے۔ سرور کائناتﷺ نے اپنے اس محب کے لیے خاص دعائیں فرمائیں۔  قریش کا انداز جنگ بالکل غیر منظم تھا۔ شیخ عبداللہ نے ہمیں اشارہ کر کے بتایا کہ سامنے مکہ کی طرف قریش کا بے ہنگم اور غیر منظم لشکر تھا۔ میں نے یا کسی اور ساتھی نے ان سے سوال کیا: شیخ! لڑائی سے پہلے قریش کا اسود مخزومی نامی ایک شخص قتل ہوا تھا ۔وہ کون سا حوض تھا جس کا پانی پینے کی اسود مخزومی نے قسم کھائی تھی ؟جواب نے انھوں نے بڑی تفصیل سے سارے احوال ہمیں سمجھائے۔     ( جاری ہے )

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل