Loading
آبنائے ہرمز پر کنٹرول کی خاطر ایران اور امریکہ کے مابین جنگ نے یہ حقیقت آشکار کر دی کہ عالمی معیشت میں سمندری راستوں کا عنصر انتہائی اہم ہو چکاہے، سمندری راستوں سے دنیا بھر میں80 سے 90 فیصد سامان ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتا۔
اقوام متحدہ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق اِس سمندری تجارت کی مالیت ’’2.5 ٹریلین ڈالر‘‘تک پہنچ چکی۔ یہ راستے سستے پڑتے، مال بردار بحری جہاز تیل،اناج سے بھرے بھاری کنٹینر باآسانی لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ایک سے دوسری جگہ سامان بھیجنے کا کرایہ ’’فریٹ ریٹ ‘‘کہلاتا ہے۔سمندر مخصوص آبی راستوںسے براعظموں کو آپس میں جوڑتے ہیں۔
بعض راستوں میں تنگ گزرگاہیں واقع ہیں جو ’’چوک پوائنٹس‘‘کہلاتی ہیں۔ آبنائے ہرمز، ملاکا اور نہرسویز تین سب سے اہم چوک پوائنٹ ہیں۔کل تیل کا تقریباً 30 فیصد خلیج فارس اور بحیرہ عرب کے درمیان واقع ’’آبنائے ہرمز‘‘ سے گزرتا ہے۔
’’آبنائے ملاکا ‘‘بحر ہند اور بحر الکاہل کو آپس میں ملاتی۔ دنیا بھر کی 25 فیصد سمندری تجارت اس راستے سے ہوتی۔
’’نہر سویز ‘‘مصر میں انسانی ساختہ آبی گزرگاہ جو بحیرہ احمر کو بحیرہ روم سے ملاتی ہے۔بحرہند، بحیرہ عرب اور آبنائے ہرمز کی قربت سے عالمی سمندری تجارت اور معاشی نظام میں پاکستان اور پاکستانی بندرگاہوں کی اہمیت میں بھی بہ سرعت اضافہ ہو رہا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل