Monday, July 13, 2026
 

دہشت گردی سے کیسے نمٹا جائے ؟

 



یہ ایک واقعی سنگین خطرہ اور چیلنج ہے کہ ہم مسلسل دہشت گردی کے خطرات سے دوچار ہیں ۔پچھلے چار دن میں بلوچستان میں ہونے والی دہشت گردی کے مختلف واقعات میں 42جوان اور شہری شہید ہوئے ہیں جب کہ سیکیورٹی اداروں نے بھی عملا 54دہشت گردوں کو ہلاک کیا ہے ۔جب کہ ان دہشت گردی کے واقعات میں زخمی ہونے والے اور یرغمالی افراد کی تعداد بھی کافی بڑی تعداد میں دیکھنے کو مل رہی ہے۔دہشت گردی کے ان واقعات میں بلوچستان اور خیبر پختونخواہ دہشت گردوں کا بڑا مرکز بنا ہوا ہے جہاں وہ ہماری بہت سی داخلی سیاسی اور انتظامی خامیوں کو بنیاد بنا کر دہشت گردی کرکے حکومت کی رٹ کو چیلنج کرتے ہیں۔ پاکستان کی سطح پر دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے داخلی اور علاقائی سطح پر مختلف سیاسی ،انتظامی اور سیکیورٹی حکمت عملی اور مختلف نوعیت کے اداروں کی عملا تشکیل بھی کی گئی ہے۔یہ تجزیہ سیاسی اور سیکیورٹی کے سیاسی اور انتظامی ماہرین کی سطح پر کرنے کی ضرورت ہے کہ ہم نے عملی طور پر دہشت گردی کی اس جنگ کے خاتمہ میں کتنی کامیابی حاصل کی اور کہاں آج بھی وہ چیلنجز ہیں جو ہمارے لیے بڑے مسائل یا ناکامی کو پیدا کر رہے ہیں ۔ کچھ مسائل داخلی نوعیت کے ہونگے اور کچھ مسائل علاقائی نوعیت سے جڑے ہوئے ہیں جن کا سنجیدگی سے تجزیہ درکار ہے۔کیونکہ دہشت گردی کا علاج محض جذباتی ردعمل کی سیاست اور حکمت عملی سے ممکن نہیں۔ ہمیں دہشت گردی کو سیاسی تنہائی میں دیکھنے کی بجائے ریاست کے سیاسی ،معاشی اور سیکیورٹی کے نظام کی بنیاد پر دیکھنا ہوگا۔اگر ہم نے دہشت گردی پر قابو نہ پایا تو معاشی ترقی اور معاشی امکانات سمیت سیاسی استحکام بھی پیدا نہیں ہوسکے گا۔ اس میں کوئی شک نہیں ماضی سے لے کر اب تک ہم نے دہشت گردی کی جنگ میں داخلی ،علاقائی اور عالمی سطح پر ایک بھاری قیمت ادا کی۔ماضی کی بہت سی سیاسی اور غیر سیاسی حکومتوں کے فیصلوں کی وجہ سے بھی داخلی سطح پر ہمیںدہشت گردی کے تناظر میں کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔لیکن اب ماضی سے باہر نکل کر حال اور پھر مستقبل کی طرف پیش قدمی کو ممکن بنانا ہے۔پاکستان کو داخلی سطح پر جو سیکیورٹی کے مسائل ہیں اس سے نمٹنے کو کیسے ہم اپنی بڑی قومی سیاسی اور سیکیورٹی ترجیحات بناسکتے ہیں ۔اس پر ایک بڑی پیش رفت کی ضرورت ہے ۔یہ جنگ سیاسی تنہائی میں نہیں لڑی جاسکتی ۔ ایک طرف ہمیں انتظامی دوسری طرف سیکیورٹی اور تیسری طرف ہم کو سیاسی حکمت عملی اور چوتھی طرف ادارہ جاتی سطح پر موجود حکمت عملیوں کا جائزہ لے کراسے نئے سرے سے ترتیب دینا ہوگا تاکہ ہم آگے بڑھ سکیں۔کیونکہ محض طاقت کی بنیاد پر بھی یہ جنگ نہیں جیتی جاسکے گی اور نہ ہی محض سیاسی حکمت عملی کی بنیاد پر بڑا نتیجہ نکلے گا ۔اس کے لیے طاقت اور سیاسی حکمت عملی کے درمیان توازن پر مبنی پالیسی درکار ہے ۔ بلوچستان میں صوبائی حکومت اور مقامی سطح کی سیاسی جماعتوں اور وہاں کی قیادت کے درمیان جو خلیج ہے وہ بھی مسائل کو پیدا کرنے کا سبب بن رہی ہے۔ بلوچستان کی صوبائی حکومت کو صوبائی سیاسی قیادت اور جماعتوں کے ساتھ بیٹھ کر حکمت عملی اختیار کرنا چاہیے ، صوبائی سیاسی جماعتیں بھی حکومت کے ساتھ بیٹھنے سے گریز کررہی ہیں۔پی ٹی آئی کی جانب سے بلوچستان کے حالات پر ہونے والی اے پی سی کے مشترکہ اعلامیہ میں بھی یہ کہا گیا ہے کہ بلوچستان کا مسئلہ سیاسی،آئینی اور قانونی یا انسانی حقوق کا مسئلہ ہے اور ان کے بقول مسئلہ کے حل کے لیے ایک ہمیں جامع ٹروتھ اینڈ ری کنسلیشن قائم کیا جائے تاکہ وہاں کوئی پائیدار حل سامنے آسکے۔ اس کانفرنس میں بیرسٹر گوہر،سردار اختر مینگل،محمود خان اچکزئی اور سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی شامل تھے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بلوچستان کے بہت سے مسائل کا تعلق سیاسی اور محرومی کی سیاست سے جڑا ہوا ہے۔ان میں سیاسی اور شناخت کے سوال،معاشی محرومی اور وسائل کی تقسیم، سیکیورٹی اور انسانی حقوق،گورننس اور ترقیاتی عمل کا نہ ہونا شامل ہیں۔لیکن یہ سب کچھ بات چیت کی مدد سے ممکن ہوسکتا ہے اگر یہ طے کرلیا جائے کہ اپنے مسائل کا حل طاقت کی بجائے بات چیت کی ہی مدد سے حل کرنا چاہتے ہیں۔جن لوگوں نے بندوق اٹھائی ہوئی ہے اس کے خلاف سب سیاسی قوتوں کو مل کر ریاست کے ساتھ کھڑے ہونا ہوگا۔ ایک مسئلہ پاکستان کو بھارت اور افغانستان سے بھی درپیش ہے اور ان دونوں ممالک کا باہمی گٹھ جوڑ پاکستان کی داخلی سلامتی اور سیکیورٹی کو چیلنج کررہا ہے۔ ان دونوں ممالک کی پاکستان کے خلاف پراکسی وار ایک بڑا خطرہ ہے اور مسلسل یقین دہانیوں کے باوجود نہ بھارت اور نہ افغانستان ہمارے تحفظات کو دور کررہا ہے۔ بالخصوص افغانستان میں موجود طالبان حکومت کسی بھی طور پرپاکستان مخالف ٹی ٹی پی کے خلاف کوئی ایکشن لینے کے لیے تیار نہیں۔پاکستان اور افغانستان کے تناظر میں ترکیہ،قطر،سعودی عرب اور چین میں ہونے والے پاکستان افغانستان مذاکرات کا بھی کوئی بڑا مثبت نتیجہ نہیں نکل سکااور ایسے لگتا ہے کہ ہم افغانستان سے تعلقات کی بہتری میں دور ہوتے جا رہے ہیںجو ہماری داخلی سیکیورٹی کے لیے کوئی اچھی علامت نہیں۔خود چین،روس،قطر،ترکیہ، سعودی عرب کو بھی پاکستان افغانستان تعلقات میں موجود خلیج یا بداعتمادی پر تشویش ہے ۔اصولی طور پر پاکستان افغانستان تعلقات کی بہتری کے لیے مذاکرات کا جو عمل تعطل کا شکار ہوا ہے اسے ہر صورت دوبارہ شروع ہونا چاہیے اور اس میں چین سمیت روس کو کلیدی کردار ادا کرنا ہوگا۔ یہ سب کچھ اس لیے بھی ضروری ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کا خاتمہ افغانستان سے تعلقات کی بہتری کے ساتھ ہی جڑا ہوا ہے۔اس پر پاکستان کو سفارت کاری کے محاذ پر اپنا مقدمہ مضبوط بنیادوں پر پیش کرنا ہوگا اور باور کروانا ہوگا کہ کس طرح سے افغانستان پاکستان کو داخلی سطح پر کمزور کررہا ہے۔ پاکستان کو یہ شکایت ہے کہ افغانستان دہشت گردوں کی آماجگاہ بن چکا ہے ‘افغان حکومت دہشت گردوں کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی کرنے سے گریز کررہی ہے ‘وہ یقین دہانی تو کراتی ہے کہ وہ دہشت گردوں کی حمایت نہیں کرے گی مگر جو صورت حال سامنے آتی ہے اس کے مطابق افغان حکومت اپنے قول پر عمل نہیں کر رہی۔دہشت گرد افغانستان میں آزادانہ گھوم رہے اور پاکستان کے لیے مسائل پیدا کر رہے ہیں۔ اسی طرح سے ہم نے داخلی سطح پر دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے میکنزم یا ادارے بنائے ہوئے ہیں ان کی فعالیت کو مزید موثر بنانا ہوگا اور بالخصوص پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں کو بلوچستان کے حل میں اپنا کلیدی کردار ادا کرنا ہوگا۔یہ جو حالیہ دہشت گردی کے واقعات ہمیں دیکھنے کو مل رہے ہیں یہ ریاست کی اپنی بقا کے لیے ایک بڑا چیلنج رکھتے ہیں ۔ہمیں دہشت گردی کے اس داخلی بحران سے نکلنے کے لیے خود ملک میں ایک بڑا سیاسی استحکام درکار ہے ۔ موجودہ حالات میںنئی حکمت عملیوں کو کیسے ترتیب دینا ہے اور جن فرد یا یا جماعتوں کی پالیسیوں پر تحفظات ہیں ان کو کیسے کم کیا جاسکتا ہے۔کیونکہ دہشت گردی کی یہ جنگ پاکستان کے خلاف ہے اور اس جنگ کا مقابلہ ہم سب نے مل کر کرنا ہے۔ ایسے میں ہم سب کا متفق ہونا اور جنگ کے خلاف بغیر کسی جھول کے کھڑا ہونا ہم سب کی مشترکہ ذمے داری ہے۔لیکن اس کے لیے ایک بڑی قومی سطح پر وسیع تر مشاورت درکار ہے اور بالخصوص موجودہ حالات میں پارلیمنٹ کا ایک مشترکہ اجلاس یا تمام سیاسی جماعتوں کی مشترکہ کانفرنس کی مدد سے ایسا مشترکہ اعلامیہ اور حکمت عملی تو ترتیب دینے میں حکومت پہل کرسکتی ہے جو جنگ سے نمٹنے کی حکمت عملی میں حکومت کو مدد فراہم کرسکے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل