Loading
1960 کی دہائی میں چلی کا اٹکاماریگستان دنیا کا خشک ترین خطہ سمجھا جاتا تھا، وہاں بارش کئی کئی برس نہیں ہوتی تھی۔ آج دنیا کا ایک اور خطہ اسی طرح کے مستقبل کی طرف بڑھ رہا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ وہاں ریت تھی، یہاں کروڑوں انسان بستے ہیں۔
کچھ روز پہلے ایک تصویر دیکھی۔ ایک لڑکا لیپ ٹاپ کے سامنے بیٹھا مصنوعی ذہانت سے اپنا ہوم ورک لکھوا رہا تھا۔ چند قدم دور اس کا والد پانی کے سرکاری نلکے پر اپنی باری کا انتظار کر رہا تھا۔ بیٹا مستقبل سے باتیں کر رہا تھا اور باپ ان چیزوں میں سے ایک کے لیے قطار میں کھڑا تھا جس کے بغیر کوئی مستقبل ممکن ہی نہیں، پانی۔مجھے اسی لمحے دنیا کے خشک ترین علاقوں میں شمار ہونے والے صحرائے اٹاکاما کا خیال آیا۔ وہاں بعض مقامات پر برسوں بارش نہیں ہوتی۔ انسان نے وہاں جینا سیکھ لیا ہے کیونکہ اسے معلوم ہے کہ پانی زندگی ہے، لیکن شاید جدید انسان ایک نئی غلط فہمی کا شکار ہو گیا ہے، وہ سمجھتا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی اسے فطرت کے قوانین سے آزاد کر دے گی۔
مصنوعی ذہانت کے متعلق گفتگو کرتے ہوئے ہم عموماً چپس، الگورتھمز، ڈیٹا اور کمپیوٹنگ کی بات کرتے ہیں، مگر ایک سوال شاذ ہی پوچھتے ہیں۔ یہ تمام ذہانت ٹھنڈی کیسے رکھی جاتی ہے؟
جواب حیران کن ہے۔ پانی کے ذریعے۔
ہم چیٹ جی پی ٹی، جیمنی، کلاڈ اور دیگر اے آئی نظاموں کو آسمان میں معلق کوئی ڈیجیٹل جادو سمجھتے ہیں، حالانکہ ان کے پیچھے ہزاروں سرورز، لاکھوں پروسیسرز اور دیوقامت ڈیٹا سینٹر موجود ہیں۔ یہ مشینیں شدید حرارت پیدا کرتی ہیں اور اس حرارت کو ختم کرنے کے لیے بے شمار پانی درکار ہوتا ہے۔ (آج ہمارا موضوع ڈیٹا سینٹرز کی حرارت سے پیدا شدہ ماحولیاتی بحران نہیں) ماحولیاتی ماہرین کے مطابق بڑے ڈیٹا سینٹر روزانہ پچاس لاکھ گیلن تک پانی استعمال کر سکتے ہیں، جو دس ہزار سے پچاس ہزار افراد کے ایک قصبے کی روزانہ ضروریات کے برابر ہے۔
مصنوعی ذہانت سے پوچھے گئے محض 20 سے 50 سوالات کا ایک مختصر سیشن، زمین کے حلق سے نصف لیٹر (500 ملی لیٹر) صاف پانی چھین لیتا ہے۔ یہ پانی ڈیٹا سینٹرز کے تپتے ہوئے سرورز کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے بخارات بن کر فضا میں اڑ جاتا ہے۔ عالمی سطح پر یہ ڈیٹا سینٹرز سالانہ اربوں لیٹر پانی پی رہے ہیں تاکہ ہماری اسکرین پر سیکنڈوں میں لفظ چمک سکیں۔مصنوعی ذہانت پر مبنی ایک واحد سوال کا جواب، روایتی گوگل سرچ کے مقابلے میں 10 گنا زیادہ بجلی ہڑپ کرتا ہے۔ جہاں ایک عام انٹرنیٹ سرچ محض 0.3 واٹ آور بجلی لیتی ہے، وہاں AI کا ایک کلمہ کم و بیش 3 واٹ آور توانائی کا ایندھن پھونک دیتا ہے۔
دنیا بھر کے ڈیٹا سینٹرز اس وقت عالمی بجلی کا تقریباً 1 سے 2 فیصد کھا رہے ہیں اور یہ شرح تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ صرف ایک بڑے لارج لینگویج ماڈل (جیسے جی پی ٹی 3 کی تربیت کے دوران فضا میں 500 میٹرک ٹن سے زائد کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج ہوئی، جو ایک پیٹرول کار کے ذریعے زمین کے گرد 120 چکر کاٹنے کے برابر ہے۔
’’مصنوعی ذہانت کے یہ چمکدار، سحر انگیز اور بظاہر ’’مفت‘‘ جوابات دراصل زمین کے وسائل پر ایک بھاری اور ناواجب القضا قرض ہیں۔ ہم اسکرین پر الفاظ کی جو عمارت کھڑی دیکھ رہے ہیں، اس کی تپش سے دور کہیں گلیشیئرز پگھل رہے ہیں، بجلی گھروں کی چمنیاں رات دن زہر اگل رہی ہیں اور ہماری دھرتی کا درجہ حرارت ایک نا محسوس مگر حقیقی اور خوفناک قدم آگے بڑھ رہا ہے۔ ڈیجیٹل عہد کی یہ فکری عیاشی، مادی دنیا کے زوال کی قیمت پر خریدی جا رہی ہے۔ کیلیفورنیا یونیورسٹی کے محقق شاولی رین کے مطابق چیٹ جی پی ٹی سے چند درجن سوالات پوچھنے کے مجموعی عمل میں تقریباً آدھا لیٹر پانی خرچ ہو سکتا ہے۔مسئلہ صرف اتنا نہیں کہ ڈیٹا سینٹر پانی پیتے ہیں۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہ ایسی رفتار سے پانی پی رہے ہیں اور بڑھ رہے ہیں جو دنیا نے پہلے کبھی نہیں دیکھی۔ بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے مطابق صرف ایک سال میں ڈیٹا سینٹروں کی بجلی کی طلب میں 17 فیصد اضافہ ہوا جب کہ اے آئی سے وابستہ مراکز کی کھپت اس سے بھی تیز رفتاری سے بڑھی۔ جب بجلی کی طلب بڑھتی ہے تو معاملہ صرف تاروں اور ٹرانسفارمروں تک محدود نہیں رہتا۔ بجلی پیدا کرنے والے پلانٹ بھی پانی استعمال کرتے ہیں۔ اسی لیے بعض مطالعات کے مطابق امریکا کے ڈیٹا سینٹروں نے 2023 میں تقریباً 17 ارب گیلن پانی براہ راست صرف اور صرف کولنگ میں استعمال کیا جب کہ 211 ارب گیلن پانی بجلی کی پیداوار کے عمل سے وابستہ تھا۔
گویا اصل کہانی ڈیٹا سینٹر کی دیواروں کے اندر نہیں بلکہ ان کے باہر لکھی جا رہی ہے۔ مزید تشویشناک بات یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت کو چلانے والی چپس خود بھی پانی کی بھوکی ہیں۔سیمی کنڈکٹر فیکٹریاں روزانہ 20 لاکھ سے 1 کروڑ گیلن تک پانی استعمال کر سکتی ہیں، جس کا بڑا حصہ ’’الٹرا پیور واٹر‘‘ ہوتا ہے۔ ایک جدید چپ فیکٹری میں 10 ملین گیلن (تقریباً 3 کروڑ 80 لاکھ لیٹر) پانی روزانہ استعمال ہونا غیرمعمولی بات نہیں۔ صنعتی تخمینوں کے مطابق ایک 200 ملی میٹر ویفر کی پروسیسنگ میں ہزاروں لیٹر الٹرا پیور واٹر خرچ ہو سکتا ہے، یعنی ایک طرف چپ کی تیاری میں پانی خرچ ہوتا ہے، تو دوسری جانب اس کے استعمال میں۔
اس دوران ہم پاکستان میں گرمی کی نئی نئی لہروں کا سامنا کر رہے ہیں، درجہ حرارت کے ریکارڈ ٹوٹ رہے ہیں، گلیشیئر غیر معمولی رفتار سے پگھل رہے ہیں۔ زیر زمین پانی نیچے جا رہا ہے۔ دریاؤں کا بہاؤ دباؤ میں ہے۔ دنیا کے ایک حصے میں مصنوعی ذہانت کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے پانی درکار ہے اور دوسرے حصے میں انسان خود ٹھنڈک کے لیے پانی ڈھونڈ رہا ہے۔
یہی جدید عہد کا سب سے بڑا تضاد ہے۔صنعتی انقلاب نے کوئلہ کھایا تھا، ڈیجیٹل انقلاب بجلی کھا رہا ہے اور اے آئی انقلاب پانی پینے لگا ہے۔
جان لیجیے کہ ہر ٹیکنالوجی کے ساتھ ایک پوشیدہ بل بھی آتا ہے۔ بھاپ کے انجن نے کوئلے کا بل بھیجا تھا، موٹر کار نے تیل کا اور مصنوعی ذہانت پانی کا بل بھیج رہی ہے۔فرق صرف اتنا ہے کہ یہ بل ابھی عوام کے ہاتھ میں نہیں پہنچا۔تاریخ بتاتی ہے کہ تہذیبیں اکثر دشمنوں سے نہیں بلکہ وسائل کی کمی سے ہارتی ہیں۔ سومر، میسوپوٹیمیا اور کئی قدیم معاشروں کی کمزوریوں میں پانی کا بحران شامل تھا۔ اکیسویں صدی کا انسان شاید پہلی نسل ہے جو ایسی مشینیں بنا رہا ہے جو انسان کی طرح لکھ سکتی ہیں، سوچ سکتی ہیں اور تصویریں بنا سکتی ہیں، لیکن اگر یہی انسان پانی کی حفاظت میں ناکام رہا تو آنے والی نسلیں ایک عجیب دنیا میں زندہ ہوں گی، وہاں مصنوعی ذہانت بے حد ترقی یافتہ ہوگی، لیکن حقیقی دریا نایاب ہوں گے۔
’’انسان نے مشینوں کو سوچنا سکھا دیا ہے، مگر ستم یہ ہے کہ اب ان مشینوں کو زندہ رکھنے کے لیے وہی پانی درکار ہے جس پر خود انسان کی بقا منحصر ہے۔ اگلی عالمی دوڑ ذہانت کی نہیں، پانی کی ہوگی اور اس دوڑ میں سپر کمپیوٹر نہیں، دریا فیصلہ کریں گے۔‘‘
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل