Loading
دنیا کی تاریخ میں بعض آبی راستے محض سمندری گزرگاہیں نہیں رہتے بلکہ وہ عالمی سیاست، بین الاقوامی معیشت اور طاقت کے توازن کی علامت بن جاتے ہیں۔ جب کسی ایسی گزرگاہ پر کشیدگی جنم لیتی ہے تو اس کے اثرات ساحلوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ براعظموں کی معیشتیں، توانائی کی منڈیاں، سفارتی تعلقات اور عالمی امن کی امیدیں بھی اس کی زد میں آ جاتی ہیں۔
آبنائے ہرمز بھی ایسی ہی ایک حساس گزرگاہ ہے جسے قدرت نے اگرچہ محدود جغرافیائی حدود میں رکھا ہے، مگر اس کی اہمیت پوری دنیا کے معاشی نظام سے جڑی ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی اس خطے میں کشیدگی بڑھتی ہے تو تیل کی قیمتوں سے لے کر عالمی تجارت تک ہر شعبہ بے یقینی کی کیفیت کا شکار ہو جاتا ہے۔ حالیہ دنوں امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ شدت اختیار کرنے والی محاذ آرائی نے اس خدشے کو مزید گہرا کر دیا ہے کہ اگر یہ بحران سفارتی دائرے سے نکل کر مکمل عسکری تصادم میں تبدیل ہوگیا تو اس کے اثرات مشرق وسطیٰ سے کہیں آگے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔
حالیہ کشیدگی کے دوران فریقین کی جانب سے متضاد دعوے سامنے آئے ہیں۔ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز پر اپنے اختیار اور سلامتی کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کیا گیا، جب کہ امریکا نے یہ موقف دہرایا کہ بین الاقوامی بحری گزرگاہوں میں جہاز رانی کی آزادی کو برقرار رکھنا ضروری ہے اور اس مقصد کے لیے اس کی بحری موجودگی جاری رہے گی۔ اسی دوران دونوں جانب سے عسکری کارروائیوں اور جوابی اقدامات کے دعوے بھی سامنے آئے، تاہم ایسے دعوؤں کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق ہر مرحلے پر ممکن نہیں رہی۔ یہی وجہ ہے کہ اس نوعیت کی اطلاعات کو احتیاط کے ساتھ دیکھنا چاہیے، کیونکہ جنگی ماحول میں معلومات بھی اکثر نفسیاتی دباؤ اور سفارتی حکمت عملی کا حصہ بن جاتی ہیں۔
اس بحران کا ایک پہلو بین الاقوامی قانون سے بھی متعلق ہے۔ سمندری گزرگاہوں کی آزادی، ریاستی خودمختاری اور علاقائی سلامتی کے درمیان توازن قائم رکھنا ہمیشہ سے عالمی سفارت کاری کا مشکل ترین امتحان رہا ہے، اگر کوئی ریاست اپنی قومی سلامتی کے خدشات کو بنیاد بنا کر اہم آبی راستوں پر پابندیاں عائد کرنے کی کوشش کرتی ہے تو دوسری جانب عالمی طاقتیں اسے بین الاقوامی تجارت اور جہاز رانی کی آزادی کے خلاف تصور کرتی ہیں۔ یہی اختلاف اس تنازع کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے، کیونکہ دونوں فریق اپنے اپنے مؤقف کو قانونی اور تزویراتی بنیادوں پر درست قرار دیتے ہیں۔
اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ گزشتہ دو دہائیوں میں مشرق وسطیٰ مسلسل عدم استحکام کا شکار رہا ہے۔ عراق، شام، یمن، لبنان اور غزہ کے تنازعات نے پہلے ہی خطے کو غیر یقینی کیفیت میں مبتلا کر رکھا ہے۔ ایسے ماحول میں اگر امریکا اور ایران کے درمیان براہ راست عسکری تصادم شدت اختیار کرتا ہے تو اس کے اثرات صرف انھی دو ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورا خطہ ایک نئے بحران میں داخل ہو سکتا ہے۔ اس سے نہ صرف توانائی کی فراہمی متاثر ہوگی بلکہ سرمایہ کاری، سمندری تجارت اور عالمی مالیاتی منڈیوں پر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔
یہ امر بھی قابل غور ہے کہ جنگیں صرف میدانِ جنگ میں نہیں لڑی جاتیں بلکہ معیشت، سفارت کاری، اطلاعات اور عوامی رائے بھی ان کا اہم محاذ بن جاتی ہیں۔ آج کی دنیا میں ڈرون، سائبر ٹیکنالوجی، میزائل نظام اور اطلاعاتی جنگ نے روایتی عسکری حکمت عملی کو نئی شکل دے دی ہے۔ اسی لیے کسی بھی عسکری کارروائی کے بعد سامنے آنے والے بیانات کو فوری طور پر حتمی حقیقت سمجھ لینا مناسب نہیں ہوتا۔ ذمے دار صحافت اور سنجیدہ تجزیہ اسی بات کا تقاضا کرتا ہے کہ دعوؤں اور حقائق کے درمیان واضح فرق برقرار رکھا جائے۔
اس بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی برادری کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ متعدد ممالک نے تحمل اور مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا ہے، جب کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور مذہبی و سفارتی شخصیات نے بھی دونوں فریقوں سے اپیل کی ہے کہ وہ طاقت کے بجائے بات چیت کا راستہ اختیار کریں۔ یہ اپیلیں محض رسمی بیانات نہیں بلکہ اس تلخ تجربے کی عکاسی کرتی ہیں کہ مشرق وسطیٰ میں ایک نئی وسیع جنگ صرف علاقائی نہیں بلکہ عالمی بحران کو جنم دے سکتی ہے۔
اس تمام صورت حال میں ایک حقیقت نمایاں ہو کر سامنے آتی ہے کہ طاقت کے اظہار سے وقتی برتری تو حاصل کی جا سکتی ہے، مگر پائیدار امن کبھی بھی محض عسکری کارروائیوں سے قائم نہیں ہوتا۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ بالآخر ہر بڑے تنازع کا اختتام مذاکرات کی میز پر ہی ہوتا ہے۔ اگر یہی منزل ہے تو پھر بہتر یہی ہے کہ اس راستے کو مزید خونریزی، معاشی تباہی اور انسانی المیوں سے پہلے اختیار کیا جائے۔ یہی دانش مندی نہ صرف خطے کے عوام بلکہ پوری دنیا کے مستقبل کے لیے ناگزیر دکھائی دیتی ہے۔ اس تناظر میں پاکستان کی سفارتی سرگرمیاں خصوصی اہمیت اختیار کر جاتی ہیں۔
اسلام آباد نے ابتدا ہی سے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ اختلافات کا پائیدار حل طاقت کے استعمال میں نہیں بلکہ بات چیت، باہمی احترام اور سفارتی ذرائع میں مضمر ہے۔ نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحق ڈار کی جانب سے سعودی عرب اور ایران کے وزرائے خارجہ سے رابطے اسی سوچ کا اظہار ہیں کہ خطے کے حساس حالات میں ایسے اقدامات کیے جائیں جو کشیدگی میں اضافے کے بجائے اعتماد سازی کا ذریعہ بنیں۔ پاکستان نے مفاہمت، تحمل اور مذاکرات کی بحالی پر زور دے کر ایک متوازن اور ذمے دارانہ سفارتی مؤقف اختیار کیا ہے، جو نہ صرف اس کی خارجہ پالیسی سے مطابقت رکھتا ہے بلکہ پورے خطے کے وسیع تر مفاد سے بھی ہم آہنگ ہے۔
پاکستان کی یہ کوششیں اس لیے بھی اہم ہیں کہ وہ ایک ایسے خطے میں واقع ہے جہاں کسی بھی بڑی عسکری کشیدگی کے فوری اثرات محسوس کیے جاتے ہیں۔ توانائی کی درآمدات، سمندری تجارت، ترسیلات زر، سرمایہ کاری اور علاقائی اقتصادی روابط براہ راست اس استحکام سے وابستہ ہیں جو خلیج اور مشرق وسطیٰ میں قائم رہتا ہے۔ اگر آبنائے ہرمز کے گرد غیر یقینی کیفیت طویل ہوتی ہے تو اس کے نتیجے میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ، بحری نقل و حمل کی لاگت میں اضافہ اور عالمی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ جیسی صورت حال پاکستان سمیت بہت سے ترقی پذیر ممالک کے لیے اضافی معاشی دباؤ کا باعث بن سکتی ہے۔ اس لیے اسلام آباد کا سفارتی کردار صرف اصولی نہیں بلکہ اپنے قومی اقتصادی مفادات سے بھی گہرا تعلق رکھتا ہے۔
حالیہ بحران نے ایک اور حقیقت بھی آشکار کی ہے کہ توانائی کی سلامتی اب صرف اقتصادی مسئلہ نہیں رہی بلکہ عالمی تزویراتی حکمت عملی کا بنیادی ستون بن چکی ہے۔ دنیا کی بڑی معیشتیں اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ توانائی کی سپلائی میں معمولی تعطل بھی صنعتی پیداوار، تجارتی سرگرمیوں اور عوامی زندگی پر وسیع اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آبنائے ہرمز جیسے حساس سمندری راستوں کے بارے میں پیدا ہونے والی ہر خبر عالمی مالیاتی منڈیوں، تیل کی قیمتوں اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو براہ راست متاثر کرتی ہے۔ اس تناظر میں تمام متعلقہ ریاستوں پر یہ ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے فیصلے کریں جو خطے کو مزید غیر یقینی میں دھکیلنے کے بجائے استحکام کی طرف لے جائیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ جنگ کا آغاز اگرچہ سیاسی فیصلوں سے ہوتا ہے، لیکن اس کا سب سے بڑا بوجھ عام شہری اٹھاتے ہیں۔ انسانی جانوں کا ضیاع، نقل مکانی، بنیادی ڈھانچے کی تباہی، معاشی بدحالی اور نفسیاتی عدم تحفظ ایسے نتائج ہیں جو برسوں تک معاشروں کا تعاقب کرتے رہتے ہیں۔ اسی لیے دانش مند قیادتیں طاقت کے اظہار کو آخری راستہ تصور کرتی ہیں اور ہر ممکن حد تک مذاکرات کے دروازے کھلے رکھتی ہیں۔ ماضی کے متعدد بین الاقوامی تنازعات اس حقیقت کی گواہی دیتے ہیں کہ بالآخر وہی مسائل حل ہوئے جنھیں بات چیت، ثالثی اور تدبر کے ذریعے سلجھانے کی کوشش کی گئی۔
آج مشرق وسطیٰ ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں ایک غلط اندازہ، ایک غیر محتاط فیصلہ یا ایک محدود عسکری کارروائی بھی وسیع علاقائی بحران کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ ایسے نازک ماحول میں بیان بازی کے بجائے تحمل، طاقت کے مظاہرے کے بجائے سفارت کاری اور محاذ آرائی کے بجائے مفاہمت کو ترجیح دینا ہی دانش مندانہ راستہ ہے۔آبنائے ہرمز کی موجودہ کشیدگی دراصل پوری دنیا کے لیے ایک تنبیہ ہے کہ جغرافیہ کبھی کبھی سیاست سے زیادہ طاقت ور ثابت ہوتا ہے۔
یہی چند میل چوڑا سمندری راستہ عالمی معیشت، توانائی، تجارت اور سفارت کاری کو ایک دوسرے سے جوڑتا ہے، اگر اسے تصادم کا میدان بنا دیا گیا تو اس کے اثرات کسی ایک ملک یا ایک خطے تک محدود نہیں رہیں گے۔ اس لیے ضروری ہے کہ تمام متعلقہ فریق بین الاقوامی ذمے داریوں، علاقائی استحکام اور انسانی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے ایسے فیصلے کریں جو کشیدگی میں اضافے کے بجائے امن، اعتماد اور مذاکرات کی فضا کو فروغ دیں۔ یہی راستہ نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کے محفوظ، مستحکم اور پرامن مستقبل کی ضمانت بن سکتا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل