Loading
سندھ ہائی کورٹ نے وکلا کے دلائل سننے کے بعد ایک درخواست گزار کی درخواست ناقابل سماعت قرار دے کر اس وجہ سے خارج کر دی کہ درخواست گزار اپنی آئینی درخواست میں یہ ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے کہ اس کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کیسے ہوئی ہے۔
عدالت عالیہ نے قرار دیا کہ معاشی پالیسیاں ترتیب دینا حکومت کا کام ہے جس میں عدالت مداخلت نہیں کر سکتی۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور ٹیکسوں کا تعین حکومت کا اختیار ہے، اس لیے عدالت تیل کے نرخ کم کرنے اور قیمتیں کم کرنے کے طریقہ کار کے سلسلے میں کچھ نہیں کر سکتی۔ عدالتی فیصلے کے مطابق بنیادی حقوق کا اختیار صرف غیر قانونی یا من مانے حکومتی اقدامات پر استعمال ہو سکتا ہے اس لیے درخواست گزار اپنے کسی بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ثابت کرنے میں ناکام رہا جس کی بنیاد پر اس کی آئینی درخواست خارج کر دی گئی۔
درخواست گزار کے خلاف فیصلہ آنے والے روز ہی وفاقی وزیر پٹرولیم نے تسلیم کیا کہ حکومت پٹرول پر تقریباً 80 روپے اور ڈیزل پر 70 روپے لیوی وصول کر رہی ہے یہ لیوی ختم کرنے کے لیے حکومت کو اپنی آمدنی کا متبادل بندوبست کرنا ہوگا حکومت کے اخراجات لیوی سے پورے ہوتے ہیں یا پھر عوام کو مہنگائی کا بوجھ اٹھانا پڑتا ہے اور لیوی کی رقم وفاقی حکومت کے خزانہ میں جاتی ہے اور اوگرا شفاف فارمولے کے تحت قیمتوں کا تعین کرتی ہے۔ خام تیل سستا ہونے سے پٹرول عالمی تناسب سے سستا نہیں ہوتا۔
واضح رہے کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے کہا تھا کہ چند سال قبل جب ملک میں سیلاب اور بارش سے تباہ کاریاں ہوئی تھیں تو اس وقت پٹرولیم مصنوعات پر لیوی عائد کی گئی تھی مگر چار سال بعد اب بھی حکومت لیوی وصول کر رہی ہے۔ حکومت اپنی معاشی پالیسیوں کے فیصلے کرنے کا مکمل اختیار رکھتی ہے اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین اسی اختیار کے ساتھ کرتی ہے جو حکومتی من مانی شمار نہیں ہوتی کہ جس میں عدالت کیوں کر مداخلت کر سکتی ہے۔
اسی طرح ٹیکسوں کا تعین بھی حکومت اور مقننہ کا ہی اختیار ہے۔ حکومت کے لیوی وصولی کے اعتراف کے بعد تو عوام کی داد رسی کا کوئی راستہ ہی نہیں رہا کہ عوام حکومتی فیصلوں کو من و عن تسلیم کرکے مہنگائی برداشت کرتے رہیں جو 2022 سے حکومت نے اپنا اختیار اور عوام کا مستقبل قرار دے رکھا ہے اور یہی وجہ ہے کہ حکومت نے چار سالوں میں عوام کو کوئی ریلیف نہیں دیا اور تجزیہ کاروں کے مطابق حکومت عوام کو معمولی ریلیف دے کر اور بعد میں ٹیکس بڑھا کر عوام کو دیا گیا وہ برائے نام ریلیف بھی واپس لے لیتی ہے جس سے مہنگائی میں جکڑے عوام کو کوئی ریلیف نہیں مل رہا اور حکومت اپنے اخراجات میں کمی پر کوئی توجہ نہیں دے رہی اور حکومتی اخراجات مسلسل بڑھ رہے ہیں اور اپنے ان فاضل اخراجات کو لیوی وصولی کے ذریعے پورے کر لیتی ہے اور عوام چار سالوں سے حکومت کی طرف سے ریلیف ملنے کے منتظر ہیں مگر عوام کو ریلیف مل رہا ہے نہ مہنگائی کنٹرول ہو رہی ہے کیونکہ آئین کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین، چار سال سے لیوی بڑھانا، ٹیکسوں کا نفاذ وفاقی حکومت کا اختیار ہے جس سے حکومت چل رہی اور مہنگائی بڑھ رہی ہے جس پر کنٹرول اب 18 ویں ترمیم کے بعد وفاقی حکومت کا نہیں بلکہ صوبائی حکومتوں کا آئینی اختیار ہے مگر کوئی صوبائی حکومت مہنگائی کنٹرول کرنے پر توجہ ہی نہیں دے رہی۔
جس قانون سے حکومت کا فائدہ ہوتا ہے اور عوام کو جو نقصان ہوتا ہے اس سے حکومت اور مقننہ کا کوئی تعلق نہیں کیونکہ حکومت اپنی من مانی سے مقننہ کے ارکان پارلیمنٹ و ارکان اسمبلی کی تنخواہوں و الائنسز کا حکومتی فیصلوں پر عمل کرانے والی بیورو کریسی پر ازخود مہربان ہو کر فیصلے کر دیتی ہے مگر حکومت سے عوام کی بھلائی کا کوئی فیصلہ نہیں ہوتا اور حکومت عوام کو ایک ہاتھ سے معمولی ریلیف دے کر دوسرے ہاتھ سے ٹیکس اور لیوی بڑھا کر وہ معمولی ریلیف بھی واپس لے لیتی ہے اور عوام کو جواب دہ بھی نہیں ہوتی۔ پٹرولیم مصنوعات ان کی اور بجلی و گیس کی قیمتوں کے تعین، ٹیکسوں میں اضافے کے اختیار کا حکومت کے حق میں فیصلہ عوام کے سر آنکھوں پر مگر حکومتی من مانیوں کے دائرہ اختیار اور حکومتی انصاف پر بھی کوئی فیصلہ آنا چاہیے۔
حکومتی من مانی کا فیصلہ عوام کے بنیادی حقوق کے کہاں تک خلاف ہے یہ فیصلہ تو عدلیہ ضرور کر سکتی ہے۔ حالیہ مہینوں میں حکومت نے گیس کے بعد بجلی کے بلوں میں من مانا فکسڈ چارجز کا جو معیار مقرر کیا ہے وہ انصاف کے کہاں تک مطابق ہے اور حکومت سیلاب و برساتی تباہیوں کے بعد کب تک لیوی وصول کرے گی اس کا بھی فیصلہ ضروری ہے۔ اس کا فیصلہ ہونا چاہیے کہ لیوی حکومتی اخراجات پورے کرنے اور بجلی و گیس بلوں پر پہلے سے ہی عائد ٹیکسوں کے بعد غیر منصفانہ فکسڈ چارجز مسلط کرنا حکومتی من مانی ہے یا نہیں۔ حکومت سے مایوس اور داد رسی سے محروم عوام کو کوئی راستہ ملنا چاہیے کہ وہ حکومتی مظالم کے خلاف کہاں جائیں اور ریلیف کے بغیر زندگی گزار سکیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل